وضاحت کے لیے پارلیمنٹ کا فورم ہوتا تو حکومت سر بازار رسوا نہ ہوتی، لیاقت بلوچ

167

 

لاہور( نمائندہ جسارت )نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ براڈشیٹ اور سرکلر ڈیٹ بجلی کے معاملات پر حکومت کی تیاری اور وضاحت کے لیے پارلیمنٹ کا فورم موجود ہوتا تو آج حکومت کو ذلت و رسوائی اور شدید عوامی ردعمل کا سامنا نہ ہوتا ۔ حکومت معیشت کی بہتری کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے جبکہ بجلی ، گیس ، پیٹرول کی قیمتیں اور ٹیکسوں کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ اسٹاک مارکیٹ بار بار کریش کر جاتی ہے ۔ اربوں کھربوں ڈبودیے جاتے ہیں ۔ روپے کی قدر میں کمی اور افراط زر بڑھ رہاہے ۔ تجارت ، صنعت اور زراعت کا پہیہ سست
رفتار ہے ، یہی وجہ ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے ۔ اقتصادی بحران کے خاتمے کے لیے کرپشن کا خاتمہ ، خود انحصاری اور اسلام کا معاشی نظام نافذ کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ۔جماعت اسلامی کشمیر اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی پشتی بان ہے ۔ 3 فروری کو قومی کشمیر کانفرنس اور5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر میں پوری قوم کشمیریوں سے غیر متزلزل پشتی بانی کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں لوئر دیر ، سوات،سندھ کے وفود اور مزدوروں کسانوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ علما و مشائخ اختلافات چھوڑ کر اپنی ساری کوششیں دین متین ، قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کے لیے مرتکز کردیں ۔عوام کی اصلاح و رہنمائی کے لیے منبر و محراب سے اتحاد امت ، برداشت ، امن و سلامتی کی آواز بلند ہو وگرنہ غیر اسلامی نظام اور بدتہذیبی کی قدریں ایک ایک کر کے اسلامی نشانات مٹا دیں گی ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ مزدور اور کسان کی ساری زندگی روٹی کے لیے ہی محدود نہیں ، آدمی کے لیے سب سے بڑی چیز آدمیت ، وقار اور باعزت زندگی ہے ۔ ملک میں ایسے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے جس سے محنت اور مشقت کا صلہ ملے اور باعزت روزی اور باوقار زندگی کا انتظام ہو جائے ۔ مزدور کسان ایسے نظام اسلامی اور خوشحال پاکستان کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ ہم ملک سے جاگیردارانہ ، سرمایہ دارانہ ، مفاد پرستانہ ذہنیت کا خاتمہ کریں گے ۔