برطانوی دارالعوام میں کشمیر کی گونج

173

برطانوی پارلیمنٹ کے دارالعوام میں کشمیر کی صورت حال اور اس مسئلے کی تاریخی حیثیت پر بحث میں کیا کھویا کیا پایا؟ اس پر دو رائے موجود ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ارکان نے بھارت کے اس موقف کو قطعی مسترد کیا ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی مسئلہ ہے۔ ارکان پارلیمنٹ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر ایک تاریخی اور دیرینہ مسئلہ ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ کشمیر میں ہلاکتوں کی تحقیقات ہونی چاہیے اور برطانیہ بھارت کو اسلحہ کی فروخت روک دے۔ جبکہ برطانیہ مقیم معروف کشمیری شخصیات نے اس کوشش میں کچھ خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ کوشش زیادہ موثر تیاری سے بھی کی جا سکتی تھی۔ ان میں جموں وکشمیر کونسل برائے انسانی حقوق کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سید نذیر گیلانی بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے یہ نکتہ اُٹھایا کہ کئی ارکان نے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے کیمپوں کا تذکرہ کیا جس کا جواب کسی نے نہیں دیا۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر کو حق خودارادیت کے بجائے انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر ہی پیش کیا جاتا رہا اور کسی ایک رکن نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی اصطلاح استعمال نہیں کی اس کے برعکس ایک مقرر نے آزادکشمیر کے لیے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی اصطلاح استعمال کی۔ ان خامیوں کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر برطانیہ کے دارالعوام میں کشمیر کا ذکر موجودہ حالات میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ کے ویسٹ منسٹر ہال میں کشمیر پر بحث کا اہتمام لیوٹن سے رکن پارلیمنٹ سارا اوون نے کیا تھا۔ جنہوں نے اپنی زوردار تقریر میں کہا کہ کشمیر انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اور ہمیں یہ دیکھے بغیر کہ کون خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور کس کے خلاف ہو رہی ہیں، آواز بلند کرنی چاہیے۔ سارا وون کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں لاک ڈائون لگا رکھا ہے اور یہ کشمیریوں کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ انہیں قید میں رکھنے کے لیے لگایا گیا ہے۔ کشمیری نژاد رکن لیبر ناز شاہ کا کہنا تھا کہ اب مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرانے کا وقت آگیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ جیمز ڈیلی کا کہنا تھا کہ اب امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی کشمیر کی صورت حال کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ ایک لیبر رکن جان اسپیلر کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے خلاف نہیں لیکن کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ا س کا احتساب ہونا چاہیے۔ کئی ارکان نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے اور دونوں ملکوں کو مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث کو پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن بھی کشمیر کے حالات کی طرف متوجہ ہوں گے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بحث پر بھارت حسب توقع چیں بہ جبیں ہے۔ بھارتی میڈیا نے اس بحث پر تنقید کی ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر بھارت کے سابق جنرل اور دفاعی تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کہ کسی ملک کو ہمیں انسانی حقوق اور جمہوریت کا بھاشن دینے کی ضرورت نہیں۔ حقیقت یہ کہ بھارت نے جس مسئلہ کشمیر کو پانچ اگست کو تابوت میں بند کرکے اپنے آئین کی کتاب میں دفن کیا تھا وہ سوا سال سے سری نگر سے امریکا اور برطانیہ تک کفن پھاڑ کر بول رہا ہے۔ سری نگر میں اس طرح کہ بھارت نے ہر گھر اور گلی میں فوجی کھڑے کر رکھے ہیں مگر کشمیری نوجوان بھارتی فوج سے ٹکرا رہے ہیں۔ فوج نامعلوم خطرات کے خوف اور ’’کچھ ہوجانے‘‘ کے احساس کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ کشمیر میں آئے روز فوجی آپریشن ہو رہے ہیں اور اس دوران فوج سے ایسی حماقتیں بھی سرزد ہو رہی ہیں جن کی وجہ سے کشمیریوں کی بھارت سے ناراضی اور دوری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ کشمیر میں سرگرم سیاسی کارکنوں اور سماجی کارکنوںکی گرفتاری کے ذریعے قبرستان جیسی فضاء بنانے کے باجود بھارت کا اعتماد بحال نہیں ہو رہا بلکہ ہر دن خوف اور خدشات میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ چین جو تنازع کشمیر کا ایک خاموش اور سست کھلاڑی تھا اچانک بیدار اور چوکس ہو کر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر مسئلہ کشمیر پر آواز اُٹھا رہا ہے دوسری طرف لداخ میں چینی فوج بھارت کو سبق سکھانے پر پوری طرح تیار رہے۔
کشمیر کو ہضم کرتے کرتے بھارت لداخ میں ایک بڑا رقبہ گنوا بیٹھا ہے۔ کنٹرول لائن پر مسلسل کشیدہ صورت حال نے بھارت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا اور بھارتی فوج کو دومحاذوں یعنی پاکستان اور چین کے ساتھ بیک وقت جنگ کا خوف لاحق ہے۔ اس کا خوف کا اظہار بھارتی فوجی سربراہ نے حال ہی میں کیا ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر ہونے والی سرگرمیاں بھی بھارت کے ان دعوئو ں کا مذاق اُڑ ارہی ہیں کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور یہ پانچ اگست کا اقدام اس کا داخلی معاملہ ہے۔ امریکا سے وقتاً فوقتاً ایسی آوازیں بلند ہوتی رہی ہیں کہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں۔ عالم ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں بھی اکثر اوقات بھارت کے اس دعوے کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔ اب برطانوی پارلیمنٹ میں تنازع کشمیر پر گرما بحث اور اس مسئلے کے حل کی ضرورت پر زور دینا اس با ت کا ثبوت ہے کہ دنیا نے بھارت کے اٹوٹ انگ فلسفے کو قطعی مستردکیا ہے۔ پانچ اگست کے بعد کشمیر بھارت کے گلے کی ایسی ہڈی بن کر رہ گیا ہے کہ جسے اگلا جا سکتا ہے نہ نگلا جا سکتاہے۔ بھارت نے اپنی پارلیمنٹ میں ایک سیاہ قانون کے تابوت میں جس مسئلہ کشمیر کو دفن کیا تھا وہ برٹش پارلیمنٹ میں زندہ ہو کر سامنے آیا ہے۔ وہ اسلام آباد کے اعلانات میں زندہ ہے۔ وہ امریکا کے بیانات میں زندہ ہے۔ الجزیرہ، گارجین، واشنگٹن پوسٹ، سی این این، بی بی سی جیسے عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں زندہ ہے۔ وہ کشمیر کی سڑکوں اور گلیوں میں گونجنے والے نعروں کی صورت میں زندہ ہے۔ وہ دنیا بھر کے اعصابی مراکز میں آباد اور سراپا احتجاج کشمیریوں کے جذبات واحساسات کی صورت میں زندہ ہے۔