یاسر پیرزادہ اور توہینِ مذہب

764

یاسر پیرزادہ کے کالموں میں مذہب کی توہین اتنے تواتر سے رونما ہورہی ہے کہ مذہب کی توہین یاسر پیرزادہ کا ’’مشغلہ‘‘ نظر آنے لگی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یاسر پیرزادہ ہمیشہ یہ کام شعوری طور پر کرتے ہیں۔ بسا اوقات وہ لاشعوری طور پر بھی توہین مذہب کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ یعنی مذہب کی توہین یاسر پیرزادہ کو اتنی پسند ہے کہ وہ ان کے شعور اور لاشعور دونوں پر چھائی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ان کا کالم ’’الف، ایکس اور میں‘‘ ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ دل تو چاہ رہا ہے کہ یہ پورا کالم ہی آپ کو پڑھوا دیا جائے مگر ایسا کرنے سے بات طویل ہوجائے گی۔ چناں چہ کالم کے دو اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں۔ یاسر پیرزادہ لکھتے ہیں۔
’الف‘ ایک دیندار شخص ہے، نماز روزے کا پابند ہے، عورت کے شرعی پردے کا قائل ہے اور جدید مغربی تہذیب کا شدید ناقد ہے۔ اس کا خیال ہے کہ معاشرے میں پائی جانے والی تمام برائیاں دراصل دین سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ الف ہر مسئلے کا حل مذہب میں تلاش کرنے کا قائل ہے، اس کا خیال ہے کہ دورِ حاضر کی تمام بیماریوں کا شافی علاج مذہب کے پاس موجود ہے۔ لبرل اور آزاد خیال لوگوں کو وہ کافر تو نہیں سمجھتا مگر انہیں سچا مسلمان بھی نہیں کہتا۔
اُس کا کہنا ہے کہ جدید گرامر اسکولوں میں مادر پدر آزادی کی تعلیم دی جا رہی ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کو برباد کر کے رکھ دے گی۔ الف کے خیال میں دین اس ملک کی اساس ہے ۔ لہٰذا لبرل حضرات کو ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانے کا خواب دیکھنا چھوڑنا ہوگا۔ اکثر اوقات الف لبرل لوگوں پر پھبتیاں کسنے سے بھی نہیں چوکتا اور ان کی اندھا دھند مغربی تقلید کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے۔ مغرب میں فرد کی ’لا محدود‘ آزادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جنسی بے راہروی، ہم جنس پرستی، بنا شادی کے تعلقات اور اس نوع کے دیگر مسائل کو بنیاد بنا کر اپنے ہاں کے آزاد خیال لوگوں کو طعنے دینے میں الف کو بہت لطف آتا ہے۔ الف کو فحاشی سے سخت نفرت ہے اسی لیے وہ ہر فحش فلم کو دیکھ کر آگ لگا دینے کے حق میں ہے۔
دوسری طرف ’ایکس‘ ایک آزاد خیال شخص ہے، اپنے اعمال اور نظریات میں لبرل، لیکن مذہب سے اسے خدا واسطے کا بیر ہے اور اسے وہ ہر برائی کی جڑ سمجھتا ہے، جرم کہیں بھی ہو کسی نے بھی کیا ہو ایکس گھما پھرا کر اسے مذہب کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ ہر داڑھی والے کو وہ جنونی اور انتہا پسند سمجھتا ہے اور ٹخنوں سے اونچی شلواریں پہننے والے کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی کلین شیو بندہ اگر اس کے سامنے جھوٹ بولے تو وہ بات ہنسی میں اڑا دیتا ہے مگر وہی بات اگر کوئی مولوی قسم کا شخص کہے تو مقدمہ مذہب کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔
حاجی، نمازی لوگ اسے منافق لگتے ہیں، وہ سمجھتا ہے کہ ایسے لوگ عبادات کے پردے میں اپنی منافقت اور گناہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کسی داڑھی والے دکاندار سے سودا سلف نہیں خریدتا، باریش لوگوں سے اسے خدا واسطے کا بیر ہے۔ مدرسوں میں دی جانے والی تعلیم کے بھی سخت خلاف ہے، ایکس کا خیال ہے کہ مدرسوں میں جہالت پروان چڑھتی ہے، تنگ نظری اور فرقہ واریت کو فروغ دیا جاتا ہے جس سے ملک میں تشدد پھیلتا ہے۔ وہ بڑی تو کیا چھوٹی عید منانے کے بھی خلاف ہے، اس کا کہنا ہے کہ رمضان میں لوگوں نے اگر اسی طرح جھوٹ، منافقت اور بد دیانتی سے ہی کام لینا ہے تو پھر عید کا کوئی جواز نہیں۔ اور بڑی عید کو تو وہ طنزاً ’بار بی کیو عید‘ کہتا ہے اور مذہبی لوگوں کو طعنہ دیتا ہے کہ ان کی قربانی کا فلسفہ بکرے کی ران روسٹ کروانے تک محدود ہے۔ اسلامی ممالک کے لتے لینا بھی ایکس کا محبوب مشغلہ ہے، یہ ممالک اگر اسرائیل سے جنگ کریں تو بھی ایکس انہی کو قصور وار گردانتا ہے، اگر اسرائیل کو تسلیم نہ کریں تو طعنہ دیتا ہے کہ انہیں جدید سفارت کاری کا کچھ نہیں پتا اور اگر اسرائیل کو تسلیم کر لیں تو ایکس کی نظر میں منافق اور ڈرپوک پھر یہی اسلامی ممالک! مولانا روم، علامہ اقبال اور شاہ ولی اللہ جیسے مفکروں اور عالموں سے بھی ایکس ذرا برابر متاثر نہیں، جہاں موقع ملتا ہے ان پر پھبتی کسنے سے باز نہیں آتا، اس کے برعکس کسی بھی مغربی مفکر نے چاہے کیسی ہی اوٹ پٹانگ بات کیوں نہ کی ہو اسے چوم چاٹ کر سر پر رکھتا ہے۔
(روزنامہ جنگ 27دسمبر 2020ء)
اور اب کالم کا دوسرا اقتباس جو اصل اقتباس بھی ہے۔ یاسر پیرزادہ لکھتے ہیں۔
’’آئندہ ملاقات میں میرا ارادہ ایکس کو الف کا چشمہ پہنانے اور الف کو ایکس کی عینک پہنانے کا ہے، شاید کچھ افاقہ ہو جائے۔ مگر یہ محض میری خوش فہمی ہے کہ ایکس اور الف اپنے خیالات تبدیل کر لیں گے۔ جن لوگوں کو کامل یقین ہو کہ وہ غلط نہیں ہو سکتے اور وہ دنیا کو صرف ایک ہی نظر سے دیکھتے ہوں انہیں کسی مخالف نقطہ نظر پر قائل کرنا جوکھم کا کام ہوتا ہے۔ سچائی تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان پہلے یہ بات تسلیم کرے کہ اس کی رائے، نظریہ یا خیال غلط بھی ہو سکتا ہے، اور یہ اعتراف محض دکھاوے کا نہ ہو، اس کے بعد ہی کوئی شخص سچائی پانے کی امید کر سکتا ہے۔
ایکس ہو، الف ہو یا مجھ سمیت کوئی بھی شخص، یہ ممکن نہیں کہ اس پر حتمی سچائی آشکار ہو جائے جس کے بعد اسے اپنی رائے تبدیل کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس پر حتمی سچائی اتر چکی ہے اور اب اسے مزید کسی علم یا رہنمائی کی ضرورت نہیں، ایسے شخص کو چاہیے کہ فوری طور پر اخبار میں کالم لکھنا شروع کر دے، فی زمانہ ایسے کالم نگار بہت ’’ہٹ‘‘ ہیں‘‘۔
جو لوگ مذہب اور لبرل ازم کے باہمی تعلق کی نوعیت کا شعور رکھتے ہیں ان کے لیے یہ بات راز نہیں ہے کہ یاسر پیرزادہ نے مذہب اور لبرل ازم کے فلسفے کو مساوی الحیثیت تسلیم کیا ہوا ہے۔ یہی یار پیرزادہ کی گمراہی ہے۔ یہی یاسر پیرزادہ کی ضلالت ہے۔ یہی مذہب کی توہین ہے۔ اس دعوے کے دلائل یہ ہیں۔
مذہب کے بارے میں بنیادی بات یہ ہے کہ مذہب کسی بھی فرد کی ذاتی، شخصی یا انفرادی رائے نہیں ہے۔ مذہب اللہ اور اس کے رسولؐ کے ارشادات اور احکامات کا مجموعہ ہے۔ چناں چہ جو شخص لبرل ازم کے مقابلے پر مذہب کا مقدمہ پیش کرتا ہے وہ اپنی انفرادی رائے کا اظہار نہیں کرتا بلکہ وہ خدا اور اس کے رسولؐ کے ارشادت اور احکامات کو پیش کرتا ہے یا ان کی روشنی میں کلام کرتا ہے۔ اس کے برعکس لبرل ازم، لبرل مفکرین یا لبرل افراد کی ذاتی، شخصی اور انفرادی رائے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مذہبی شخص کی رائے یا اور لبرل فرد کے خیال کو مساوی الحیثیت سمجھنا مذہب کی کھلی توہین ہے۔ یاسر پیرزادہ کا خیال ہے کہ حتمی سچائی نہ اہل مذہب کے پاس ہے نہ لبرل لوگوں کے پاس ہے۔ یہ خیال غلط بھی ہے اور مذہب کی توہین بھی، اس لیے کہ مذہب بالخصوص اسلام ایک ’’حتمی سچائی‘‘ ہے۔ اسلام خدانخواستہ ارتقا پزیر نظریہ نہیں ہے۔ وہ کل کچھ تھا، آج کچھ ہے اور آنے والے کل میں اور کچھ ہوگا۔ اسلام چودہ سو سال پہلے بھی توحید کا درس دے رہا تھا، آج بھی توحید کا درس دے رہا ہے اور پانچ ہزار سال بعد بھی توحید کا درس دے گا۔ اسلام چودہ سو سال پہلے بھی آخرت کا تصور پیش کررہا تھا، آج بھی آخرت کا تصور پیش کررہا ہے اور چار ہزار سال بعد بھی وہ آخرت کا تصور پیش کرے گا۔ اسلام کے لیے تو یہ چودہ سو سال پہلے بھی ایک اٹل حقیقت تھی، آج بھی اٹل حقیقت ہے اور دو ہزار سال بعد بھی اٹل حقیقت ہوگی۔ اس کے برعکس فلسفے کی پوری روایت تردید در تردید کا بھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ ایک فلسفی جو کچھ کہتا ہے دوسرا فلسفی اسے رد کردیتا ہے۔ دوسرے فلسفی کی رائے کو تیسرا فلسفی تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔ ارسطو افلاطون کا شاگرد تھا مگر اس نے نام لیے بغیر افلاطون کے اکثر بنیادی افکار کو رد کردیا ہے۔ جدید فلسفے کا یہ حال ہے کہ اس میں دس پندرہ سال کے بعد ’’نئی فکر‘‘ سامنے آجاتی ہے۔ چناں چہ جو شخص مذہب اور لبرل ازم کو مساوی الحیثیت سمجھتا ہے وہ ابوجہل ہے۔ یاسر پیرزادہ نے مذہبی انسان اور لبرل شخص کے مابین حائل خلیج کو پاٹنے کی یہ صورت تجویز پیش کی ہے کہ مذہبی انسان کی آنکھوں پر لبرل ازم کا چشمہ لگادیا جائے اور لبرل شخص کی آنکھوں پر مذہب کی عینک آراستہ کردی جائے۔
یاسر پیرزادہ کا خیال ہے کہ اس طرح دونوں کو معلوم ہوگا کہ صداقت صرف وہی نہیں ہے جسے وہ صداقت سمجھتا ہے بلکہ اس کے حریف کے پاس بھی ’’صداقت‘‘ ہے۔ یہاں بھی یاسر پیرزادہ نے اسلام اور لبرل ازم کو ہم معنی، ہم پلہ اور ہم رتبہ خیال کیا ہوا ہے۔ یہ بھی یاسر پیرزادہ کی گمراہی ہے۔ ان کی ضلالت ہے ان کی حماقت ہے۔ ان کا جہل ہے۔
مذہب اور لبرل ازم کو مساوی الحیثیت تسلیم کرنا دراصل خالق اور مخلوق کو برابر سمجھنا ہے۔ مذہب ’’خالق‘‘ کی عطا ہے۔ لبرل ازم ’’گمراہ انسانوں‘‘ کی ایجاد ہے۔ خدا کے علم کی کوئی انتہا ہی نہیں۔ مخلوق کا علم محدود ہے۔ بدقسمتی سے لبرل ازم تو مذہب دشمن نظریہ ہے۔ چناں چہ اس کے پاس تو ’’علم‘‘ بھی نہیں ہے۔ لبرل ازم صرف ایک ’’قیاس‘‘ ہے اور انسان کا قیاس ویسا ہی ہوتا ہے جیسی انسان کے نفس کی حالت ہوتی ہے۔ ہماری مذہبی روایت میں نفس کے چھے مرتبوں کا بیان موجود ہے۔ یعنی نفسِ امارہ، نفس لوامہ، نفس مطمئنہ، نفس ملہمہ، نفس راضیہ اور نفس مرضیہ۔ یاسر پیرزادہ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ نفس امارہ کے درجے پر کھڑا ہوا شخص نفس مطمئنہ اور نفس مسلمہ کے مرتبے پر کھڑے ہوئے شخص کے علم کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ الہام شیطان کی طرف سے بھی ہوتا ہے اور رحمن کی طرف سے بھی۔ مگر شیطان اور رحمن کے الہام کا کوئی موازنہ ممکن ہی نہیں ہے۔ شیطان انسان کو گمراہی کی طرف بلاتا ہے، رحمن انسان کو صراطِ مستقیم کی طرف بلاتا ہے۔ انسان کا علم محدود ہی نہیں ناقص بھی ہے۔ اس کے برعکس رحمن کا علم لامحدود بھی ہے اور کامل ترین بھی۔ چناں چہ مذہب بالخصوص اسلام اور لبرل ازم مساوی الحیثیت سمجھنا نری جہالت ہے۔
مذہبی تناظر میں دیکھا جائے تو اسلام اور لبرل ازم کو مساوی الحیثیت سمجھنا دراصل حق اور باطل کو مساوی الحیثیت سمجھنا ہے۔ اس لیے کہ اسلام حق ہے اور لبرل ازم باطل ہے۔ قرآن کے الفاظ میں حق اور باطل کا تعلق یہ ہے کہ جب حق آتا ہے تو باطل مٹ جاتا ہے۔ اس لیے کہ باطل مٹنے کے لیے ہی ہے۔
مگر یاسر پیرزادہ حق و باطل کو ہم مرتبہ اور ہم پلّہ سمجھتے ہیں۔
اسلام کے بارے میں لاعلم سے لاعلم شخص بھی جانتا ہے کہ اسلام ’’لازمانی‘‘ ہے۔ جب تک دنیا باقی ہے اسلام باقی ہے۔ جب تک خیر و شرک کی کشمکش برپا ہے۔ اسلام موجود رہے گا، مگر لبرل ازم تو کل کی پیداوار ہے۔ وہ آج ہے کل نہیں ہوگا۔ کمیونزم پر ایمان رکھنے والے سمجھا کرتے تھے کہ کمیونزم لازمانی ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ایک صاحب ہوا کرتے تھے۔ ان کا نام تھا سبط حسن۔ بیچارے کمیونسٹ ہو کر بھی امریکی سفارت خانے کے لیے کام کرتے تھے۔ ان کی ایک کتاب کا عنوان ہے: ’’موسیٰ سے مارکس تک‘‘ اس کتاب میں سبط حسن نے ’’تاثر‘‘ دیا ہے کہ کمیونزم سیدنا موسیٰؑ کے دور میں بھی موجود تھا اور مارکس نے بھی اس کا ایک تصور پیش کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ سیدنا موسیٰؑ کے زمانے میں کمیونزم موجود نہیں تھا۔ بلاشبہ مارکس نے کمیونزم کا تصور پیش کیا مگر کمیونزم 1992ء کے بعد اس طرح فنا ہوا جیسے وہ کبھی دنیا میں موجود ہی نہیں تھا۔ کمیونزم کی طرح لبرل ازم بھی ایک دن نہیں ہوگا۔ انسان خود فانی ہے۔ چناں چہ اس کی فکر بھی فنا ہونے کے لیے ہے۔ خدا لافانی ہے۔ چناں چہ اس کا دین بھی لافانی ہے۔ جیسا وجود ویسی اس کی تخلیق۔ خدا دائمی اس کا دین بھی دائمی انسان عارضی اس کا فلسفہ بھی عارضی۔ چناں چہ جو شخص اسلام اور لبرل ازم کو مساوی الحیثیت کہتا ہے وہ بلاشبہ ابوجہل ہے۔ خواہ وہ ملک کے سب سے بڑے اخبار میں کالم ہی کیوں نہ لکھتا ہو۔
اسلام کے بارے میں ایک سامنے کی بات یہ ہے کہ اسلام ایک معروضی حقیقت یا objective reality ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام خدا کا دین ہے۔ رسول اکرمؐ کی سنت ہے۔ چناں چہ اس کو معروضی objective ہونا ہی تھا۔ اسلام کے معروضی ہونے کا یہاں یہ مفہوم ہے کہ اسلام جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔ اس میں کوئی ترمیم یا اضافہ ممکن ہی نہیں اور جو شخص دین میں ترمیم یا اضافہ کرے گا وہ دائرہ دین سے باہر ہوگا۔ اس کے برعکس لبرل ازم ایک موضوعی یا Subjective فلسفہ ہے۔ اس میں کل بھی ترمیم و اضافہ ممکن تھا۔ آج بھی ممکن ہے اور آنے والے کل میں بھی ترمیم و اضافہ ممکن ہوسکتا ہے۔ چناں چہ اسلام اور لبرل ازم کو ہم مرتبہ سمجھنا یا کہنا جہالت ہے اور یاسر پیرزادہ نے بلاشبہ مذہب اور لبرل ازم کو ہم مرتبہ قرار دے کر جہالت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیا یاسر پیرزادہ مذہب اور لبرل ازم کے بارے میں اتنی سی بات بھی نہیں جانتے کہ مذہب روشنی ہے، لبرل ازم تاریکی ہے اور بلاشبہ روشنی اور تاریکی ہم پلّہ نہیں ہوسکتے۔ بالکل اسی طرح جس طرح علم اور قیاس اور سمندر اور قطرہ ہم مرتبہ نہیں ہوسکتے۔