پاناما ون کا کیا بنا

183

پاکستانی قوم کے لیے بڑی خبر ہے کہ فارن فنڈنگ کیس پاناما II بنے گا۔ پی ٹی آئی حکومت کے بارے میں اب تو وہ لطیفہ حقیقت لگنے لگا ہے کہ ایک بس ڈرائیور کو جب عدالت میں پیش کیا گیا کہ اس نے بارات پر بس چڑھادی تھی۔ اس سے جج نے پوچھا کہ تم نے بارات پر بس کیوں چڑھائی۔ ڈرائیور کا سادا سا جواب تھا کہ میرے سامنے دو بھائی آگئے تھے بریک فیل ہوگئے تھے۔ دوسری طرف بارات تھی۔ جج نے پھر سوال کیا تو پھر بارات پر بس کیوں چڑھا دی۔ ڈرائیور بھی پرانا کھلاڑی تھا جواب دیا کہ یوٹرن کا موقع نہیں تھا۔ اور میں دونوں بھائیوں پر ہی گاڑی چڑھا رہا تھا کہ دونوں بھاگ کر بارات میں گھس گئے۔ اب میں کیا کرتا مجبوراً بس بارات پر چڑھا دی۔ بریک فیل، ڈرائیور اناڑی بلکہ کھلاڑی دو بھائی نشانے پر اور گاڑی بارات پر چڑھادی۔ نتیجہ وہی ہونا تھا جو ہورہا ہے۔ پورے ملک کا بیڑا غرق ہوچکا۔ کاغذوں پر اچھی اچھی خبریں مل رہی ہیں۔ ان خبروں کو سن کر تو لگتا ہے کہ اگلے تین برس میں پاکستان ایشین ٹائیگر بن جائے گا۔ ہمارے وزیراعظم خود بھی ٹائیگر ہیں انہیں اپنی ٹائیگر فورس پر بھی بڑا بھروسا ہے تو یقینا ملک کو بھی ٹائیگر ہی بنائیں گے۔ لیکن شیخ رشید کیا کہہ گئے۔ ایک جملے میں انہوں نے کئی برس کی کہانی دہرادی۔ جب پامانا ون سامنے آیا تو امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے 436 افراد کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن ہماری حکومت نے شاید لطیفے کا غلط مطلب لیا اور 436 کی بارات چھوڑ کر صرف دو بھائی کا پیچھا کرلیا۔ اور وہ جہاں جہاں جس جس کے پاس گئے اس کو بھی لپیٹتے گئے۔ اب کئی برس گزرنے کے بعد پاناما کہیں غائب ہوگیا صرف ڈھول کی آوازیں آرہی ہیں لیکن حکومت کے ڈھولچی نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کہیں پاناما II بنے گا لیکن یہ نہیں بتا سکے کہ پاناما ون کا کیا بنا۔
پاناما ون والے بہت سے لوگ حکومتی سایہ عافیت میں ہیں۔ کسی کے کیس پر کارروائی نہیں ہورہی کسی کے کیس کو بند کردیا گیا۔ فارن فنڈنگ کیس پی ٹی آئی کے خلاف تھا اب وزیراعظم فرما رہے ہیں کہ سب کے فارن فنڈ کا حساب لیا جائے۔ یہ اسکول کے بچوں والا جواب ہے۔ جب کلاس روم سے چاک غائب ہوتی اور ایک بچے کی جیب سے ایک ٹکڑا نکل آتا تو وہ کہتا کہ سر دوسرے کی تلاشی بھی تو لیں۔ ایک بچہ دیر سے آتا اس کو کلاس سے باہر کھڑا کیا جاتا تو وہ کہتا تھا کہ سر دوسرے بھی تو دیر سے آتے ہیں۔ جناب خان صاحب فارن فنڈنگ کیس آپ کی پارٹی کے خلاف پانچ چھ سال سے الیکشن کمیشن کے پاس ہے آپ کے حق میں فیصلہ آرہا ہے نہ خلاف۔ اب خود وزیراعظم نے فرمایا ہے کہ سابق الیکشن کمشنر ہمارا دشمن تھا اس لیے اس نے تاخیر کی۔ لیکن وزیراعظم صاحب معاملہ پی ٹی آئی کے خلاف ہے اس کا فیصلہ آنے دیں اور دوسروں کے خلاف خود ریفرنس لے کر جائیں۔ وزیراعظم کا بیاں بتارہا ہے کہ نیا الیکشن کمشنر ان کا دوست ہے۔ کیوں کہ سابق الیکشن کمشنر دشمن تھا۔ تو کیا دوست بھی ان کے خلاف فیصلہ دے دے گا۔ پھر تو اسے سلام کرنا چاہیے۔ ویسے اب تو انہوں نے اعلان کردیا ہے کہ موجودہ الیکشن کمشنر ان کے دوست ہیں۔ سابق الیکشن کمشنر پر انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ اس لیے فارن فنڈنگ کیس میں تاخیر ہوئی۔ کمال ہے۔ پی ٹی آئی اپنے سب سے بڑے دشمن الیکشن کمشنر کی موجودگی میں جیت گئی۔ اسے بھی سلام کرنا چاہیے۔ اب نئے والے کا امتحان ہے لیکن وہ بھی تو 27 جنوری 2020ء سے الیکشن کمشنر ہیں ایک سال سے تو ان کے پاس بھی فارن فنڈنگ کیس ہے۔ ویسے وزیراعظم یہ بھی نہیں بتا سکے کہ دشمن نے کیس کا فیصلہ کیوں نہیں دیا۔ ان کے خلاف فیصلہ دے دیتا۔ انہیں وزیراعظم کیوں بننے دیا۔ اگر وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے مناصب پر بیٹھے لوگ اتنی غیر ذمے دارانہ باتیں کریں کہ گویا کوئی اپوزیشن لیڈر ہو۔ شیخ رشید کو یہ بھی پتا ہے کہ براڈ شیٹ سے جو کچھ بھی نکلے گا وہ ترین برادری کے خلاف جائے گا۔ عمران خان وزیراعظم ہوتے ہوئے الیکشن کمشنرز کے منصب کو متنازع بنارہے ہیں۔ لیکن دونوں یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ بقیہ 436 پاناما والوں کا کیا بنا۔ ان کو تو چھوڑیں تین سال ہونے کو آئے شریف برادران کے خلاف مہم چلاتے ہوئے ان سے کیا برآمد ہوا۔ اب تو ان کی ہمدردی بڑھ رہی ہے۔ ظالم مظلوم بننے لگے ہیں۔ لوگ سوچنے لگے ہیں کہ کچھ تو ہے جو حکومت صرف دو کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کی خرابی تو یہ بھی ہے کہ اس کے سامنے اب دو بھائیوں نے وہی بارات پی ڈی ایم کی صورت میں کھڑی کردی ہے جس کو بچا کر وہ دو بھائیوں پر گاڑی چڑھا رہے تھے۔
وزیراعظم عمران خان کی بات درست ہے کہ براڈ شیٹ کیس سے ان کی حکومت کا کوئی تعلق نہیں یہ کیس جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف اور آصف زرداری کے خلاف ان کی جائداد کا پتا لگانے کے لیے براڈ شیٹ کے حوالے کیا تھا۔ بقول وزیراعظم براڈ شیٹ نے نواز شریف کے 800 ملین کے اثاثے ڈھونڈ نکالے تھے لیکن نیب نے 2003ء میں یہ معاہدہ ختم کردیا تھا جس پر براڈ شیٹ نے مقدمہ دائر کردیا اور 2016ء میں لندن کی ثالثی عدالت نے نیب کے خلاف فیصلہ سنا کر جرمانے کا حکم دے دیا۔
عمران خان کہتے ہیں کہ فیصلے کے تحت حکومت کو رقم دینا تھی۔ نہ دیتے تو یومیہ پانچ ہزار پائونڈ سود دینا پڑتا (چلیں کہیں تو سود سے خوفزدہ ہوئے) لہٰذا حکومت نے رقم ادا کردی۔ لیکن یہ اتنا سادہ معاملہ تو نہیں براڈ شیٹ والا تو کہہ رہا ہے کہ پاکستان سے دو افراد نے رشوت مانگی تھی۔ معاملہ کہیں تو گزیر ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ کسی اور حوالے سے یہ بات درست ہوجائے گی کہ براڈ شیٹ نیا پاناما بنے گا۔ جیسے نواز شریف پاناما میں پھنسے اور اقامے پر نکالے گئے۔ اسی طرح عمران خان فارن فنڈنگ کے آسمان سے نکل کر براڈ شیٹ کے کھجور میں نہ اٹک جائیں۔ یہ سوال اپنی جگہ رہے گا کہ پاناما ون کا کیا بنا؟؟۔