جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم نے نیشنل اسٹیڈیم میں پریکٹس کا آغاز کردیا

145

کراچی (سید وزیر علی قادری)پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام تیاریاں مکمل کرلیں اور جن شہروں میں اس کا انعقاد ہونا ہے وہاں سیکورٹی ایجنسیز کے اہلکاروں نے پوزیشنز سنبھالیں۔پاکستان اور جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم کو نیٹ پریکٹس کے لیے سیکورٹی احصار میں نیشنل اسٹیڈیم کراچی لایا گیا جہاں 26جنوری سے 2ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کا آغاز ہوگا۔پاکستان کرکٹ ٹیم گزشتہ 3روز سے نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پریکٹس اور فٹنس سیشنز میںمصروف رہی تاہم مہمان ٹیم قرنطینہ میں رہنے کے بعد پہلی مرتبہ اسٹیڈیم کا رخ کیا جہاں ٹیم نے بھرپورپریکٹس اور فٹنس پر کوچز سے ٹپس لیے۔پریکٹس کے بعد جنوبی افریقی ٹیم کے سینیئر بلے باز فاف ڈو پلیسی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین پر پاکستان سے ٹف سیریز کی توقع رکھتے ہیں، ماضی میں جنوبی افریقا کا ریکارڈ اچھا ضرور رہا لیکن وہ پرانی بات ہوگئی، اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی 2 ایسے کرکٹرز ہیں جو جنوبی افریقاکے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ہفتے کو ٹریننگ سیشن کے بعد آن لائن پریس کانفرنس میں فاف ڈو پلیسی کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی افریقی ٹیم کیلئے ایک چیلنج یہ ہے کہ اسکا کوئی کھلاڑی پاکستان میں پہلے ٹیسٹ نہیں کھیلا اس لیے کنڈیشنز کا اندازہ نہیں مگر ٹیم نے پاکستان کیخلاف سیریز کی ہر زاویے سے تیاری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو پاکستان اور جنوبی افریقا دونوں ہی ٹیمیں متوازن ہیں، دونوں کے پاس نوجوان کھلاڑیوں کی اکثریت ہے اور تجربہ کار پلیئرز کم ہیں لیکن پاکستان بطور ہوم ٹیم ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کی واپسی پاکستان ٹیم کے لیے کافی حوصلہ افزا ہوگی،اس موقع پر پاکستان کے لیگ اسپنر یاسر شاہ جنوبی افریقاکے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی ہوم سیریز میں بہترین بولر بننے کے خواہشمند ہیں۔ ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے یاسر شاہ سیریز سے پہلے پراعتماد نظر آئے۔34 سالہ لیگ اسپنر کا کہنا تھا کہ میں پوری طرح فٹ ہوں اور آنے والی سیریز کے دوران عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا خواہشمند ہوں۔ انہوں نے اپنی کارکردگی میں زوال کے بارے میں بات کرتے ہوئے پچز اور حالات کے اہم کردار پر بھی روشنی ڈالی۔یاسر شاہ کا کہنا تھا کہ جہاں تک میری کارکردگی کا تعلق ہے ، ہم نے آسٹریلیا ، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں زیادہ کرکٹ کھیلی ہے جہاں کی وکٹیں اسپنرز کے بجائے فاسٹ بولرز کو زیادہ مدد فراہم کرتی ہیں۔ ایشیاء کے حالات ا سپن بولنگ کے لئے دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ سازگار ہیں۔جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم کی آمد پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کہنا تھا کہ 14 سال بعد جنوبی افریقی ٹیم کا پاکستان آکر کھیلنا جذباتی لمحہ ہے، کرکٹ بورڈ اور مداحوں کے لیے یہ تاریخی اور یادگار لمحات ہیں۔ وسیم خان نے بیان میں کہا کہ پاکستان کرکٹ کو دنیا میں پذیرائی مل رہی ہے اور ہماری ہوم سیریز کا دنیا میں ٹیلی کاسٹ ہونا اس بات کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی دنیا کا واحد کرکٹ بورڈ ہے جس نے کورونا وائرس کے باوجود ڈومیسٹک کرکٹ سیزن مکمل کیا، کوویڈ19 کی صورتحال میں کرکٹ کرانے پر پی سی بی کی تعریف ہونی چاہیے، وسیم خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی حکام پر تنقید کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اور چیف ایگزیکٹو اور چیئرمین بھی اپنا کام کرتے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کی وجہ سے مایوسی ہونا فطری بات ہے، ہر کرکٹ بورڈ تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔ وسیم خان کا کہنا تھا کہ مداح قومی ٹیم کی کامیابی دیکھنا چاہتے ہیں اور ناکامی پرانہیں بھی دکھ ہوتا ہے، ان کی تنقید فطری بات ہے۔