مرد پولیس اہلکار خواجہ سراؤں کو گرفتار نہیں کرسکیں گے، نوٹی فکیشن جاری

175

کراچی:  خواجہ سراؤں کے تحفظ اور حقوق ایکٹ کے رولز 2020 کے تحت اب مرد پولیس اہلکار خواجہ سراؤں کو گرفتار نہیں کرسکیں گے، کسی بھی خواجہ سرا کو پولیس کا متعلقہ جنس کا خواجہ سرا اہلکار ہی گرفتار کر ے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد وزارتِ انسانی حقوق نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے تحت اب خواجہ سراؤ کو ہر محکمے میں خصوصی پروٹوکول ملے گا۔

نئے قانون کے مطابق اب تمام سرکاری دفاتر میں خواجہ سراؤں کی علیحدہ قطاریں لگیں گی اور خواجہ سراعلیحدہ قطاریں بنانے کے پابند ہوں گے، حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے خواجہ سراؤں کو سہولیات دی جائیں گی۔

نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ خواجہ سراؤں کے لیے علیحدہ دارالامان بنائے جائیں گے، جس میں بے یارومددگار خواجہ سراؤں کو رکھا جائے گا، پاسپورٹ کے حصول کے لیے خواجہ سرا کے لیے علیحدہ لائن ہوگی، ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے خواجہ سراوں کی رہنمائی علیحدہ افسر کرے گا۔