بجلی مہنگی کرنے سے عوام پر دو سو ارب کا اضافی بوجھ پڑے گا

85

کراچی(اسٹاف رپورٹر ) ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجلی کے نرخ میں پندرہ فیصد اضافہ سے عوام پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا اس لیے اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔اس فیصلے سے بہتر ہوتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں پر ضرب لگے گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہو گا۔بجلی مہنگی کرنے کے بجائے بجلی کی چوری کو کم اور ریکوری کو بڑھانے کی کوشش کی جانی چاہیے تھی۔میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور معیشت کی حالت ایسی نہیں کہ بجلی کی قیمت میں ایک روپے پچانوے پیسے کا اضافہ برداشت کر سکیں کیو نکہ اس سے مہنگائی میں دو فیصد مزید اضافہ ہو گا جبکہ اس سے صنعتی و زرعی پیداوار اور برآمدات متاثر ہوں گی۔انھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے صارفین پر دو سو ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ پڑے گا جبکہ جنرل سیلز ٹیکس، فیول ایڈجسمنٹ اور سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ اس کے علاوہ ہو گا۔ کل تک پچاس یونٹ ماہانہ خرچ کرنے والے صارفین کو ایک سو روپے کا ماہانہ بل ادا کرنا ہوتا تھا جو اب بڑھ کر 197.50 ہو جائے گا۔ ایک سو یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والوں کو 579 روپے کے بجائے 774 روپے کی ادائیگی کرنا ہو گی جبکہ 101 یونٹ سے 200 یونٹ استعمال کرنے والے عوام کو ماہانہ 1622 روپے کے بجائے 2012 روپے ادا کرنا ہوں گے۔اسی طرح 300 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والوں کو 3060 کے بجائے 3645 روپے کے بل ادا کرنا ہو ں گے۔