کراچی کیلیے 11 سو ارب کا ڈیولپمنٹ پیکیج صرف لفظی جادو گری تک محدود رہا ، سراج الحق

283
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق علاقہ گجرو کی جانب سے معززین علاقہ کے اعزاز میں استقبالیے سے خطاب کررہے ہیں

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کراچی کی روشنیوں کو واپس لانے کے دعویداروں نے شہری مسائل میں مزید اضافہ کیا۔ چوکوں چوراہوں میں کچرے کے ڈھیر لگے پڑے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں۔ پورٹ سٹی کے لیے 11سو ارب کا ڈیولپمنٹ پیکج صرف لفظی جادوگری تک محدود رہا۔ حکمران داخلی اور خارجی
محاذوں پر ناکام ہو گئے، عوام کو جھوٹے وعدوں اور دعوئوں پر ٹرخایا جا رہا ہے۔ حکومت نے الیکٹریسٹی ٹیرف میں 15فیصد اضافہ کر کے کروڑوں صارفین کے گھروں پر بجلی گرا دی۔ بے حس حکمرانوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے احکامات پر سرتسلیم خم کیا ہے۔ ملک میں بجلی، گیس اور پیٹرول نایاب چیزیںبن گئیں، بجلی گھروں میں آتی نہیں قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے ذہنوں پر گرا دی جاتی ہے۔ براڈشیٹ اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی پر عوام مطمئن نہیں، عدالت عظمیٰ تحقیقات کرائے۔ پی ٹی آئی کی حکومت اور پی ڈی ایم کی سیاست کے ایجنڈے میں اسلامی نظام کا قیام شامل نہیں ہے ملک میں حکومتیں تو تبدیل ہوتی رہیں لیکن عوام کی حالت نہیں بدلی ، عوام کے خلاف ظالم و کرپٹ اشرافیہ ، جاگیرداروں اور وڈیروں نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے ان کی اپنی جیبیں اور تجوریاں تو بھری ہوئی ہیں لیکن انہوں نے عوام کو غربت ، مہنگائی،بے روزگاری اور جہالت کاتحفے دیے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کے روز جماعت اسلامی علاقہ گجرو کی جانب سے معززین علاقہ کے اعزاز میں استقبالیے سے بحیثیت مہمان خصوصی اور جامع مسجد عمر قاسم آباد ، جھنجار گوٹھ ضلع شمالی میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔استقبالیے سے نائب امیر کراچی محمد اسحاق خان ، سیکرٹری ضلع عرفان احمد اور ناظم علاقہ گجرو حاجی طور خان نے بھی خطاب کیا ۔ جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے صدر اور قبائلی رہنما حاجی طور خان کے ڈیرے پر دیے گئے استقبالیے میں علاقے کی مختلف برادریوں کے زعماکرام ، مشران معززین علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری محمد اصغر ، امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن ، سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان ، ضلع شمالی کے امیر محمد یوسف ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق کو حاجی طور خان نے روایتی پگڑی پہنا ئی جبکہ عبد الستار برفت نے اجرک کا تحفہ پیش کیا ۔قبل ازیں سراج الحق کا ڈیرہ پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا ،پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور پر جوش نعرے لگائے گئے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمران عوام کے لیے وبالِ جان بن چکے ہیں اورانھوں نے استعمار کی وفاداری میں تمام حدیں پھلانگ دی ہیں۔ ملک کو مکمل طور پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی میں دے دیا گیا ہے۔ عالمی طاقتوں کے اشاروں پر خارجہ اور داخلہ پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔ موجودہ حکمران بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو ماضی کے حکمرانوں کا وتیرہ تھا۔ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے پی ٹی آئی نے اپنا آدھا دور حکومت گزر جانے کے باوجود ایک قدم نہیں اٹھایا۔ لنگرخانوں کی تعمیر پر زور ہے جبکہ عوامی فلاح کا ایک بڑا منصوبہ بھی متعارف نہیں کرایا گیا۔ پی ٹی آئی نے جولائی سے دسمبر تک تقریباً6 ارب ڈالر غیر ملکی قرضے لیے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ انھوں نے وزیراعظم کو ایک دفعہ پھر وہ وعدہ یاد دلایا جب وہ یہ دعوے کرتے تھے کہ کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے اور اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کو خودداری اور استحکام کی منزل کی جانب لے کر جائیں گے، لیکن کرسی اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے ہر فیلڈ میں نااہلی کے ریکارڈ قائم کیے۔ انھوں نے کہا کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں گزشتہ ڈھائی برس کے دوران 2 سو سے 3 سو فیصد اضافہ ہوا اس کے ساتھ ساتھ ہر ماہ عوام پر پیٹرول بم گرایا جاتا ہے۔ گیس کی قیمتیں بڑھائی گئیںاور رہی سہی کسر حکومت نے بجلی کی قیمت میں 2 روپے فی یونٹ اضافہ کر کے نکال دی۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غریب عوام کی پیٹھ پر کوڑے برسائے جا رہے اور پشاور سے کراچی تک ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ حکمران جان لیں کہ عوام ان سے تنگ آ چکے ہیں اور انھیں مزید برداشت کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی حالت ناقابل بیان ہے۔3 سیاسی جماعتوں نے شہر کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ کیا اور ڈیولپمنٹ پیکج کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز کا وعدہ کیا گیا، لیکن تاحال ایک روپیہ بھی شہر کی ترقی کے لیے خرچ نہیں کیا گیا۔ کراچی تعفن اور آلودگی کا مرکز بن چکا ہے۔ لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں۔ شہر کی فضا میں سانس لینا دشوار ہو چکا ہے۔ لوگوں کو پینے کا پانی تک میسر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کے ساتھ ساتھ پورا سندھ بھی کسمپرسی کی علامت بن چکا ہے۔ا سکولوں اور اسپتالوں کی حالت زار ناقابل بیان ہے اور غربت میں بے پناہ ہوا ہے۔پیپلزپارٹی جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سندھ کی تقدیر کی وارث ہے نے عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کے ساتھ مردم شماری میں ناانصافی ہوئی۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ براڈ شیٹ اسکینڈل نے موجودہ، سابق حکمرانوں اور ملٹری ڈکٹیٹر کو مکمل طور پر ایکسپوز کر دیا ہے۔ قوم حساب چاہتی ہے جس کے لیے عدالت عظمیٰ کو ایکشن لینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم کے احتساب کے وعدوں اور دعوئوں کی حقیقت پہلے ہی قوم کے سامنے آ چکی ہے۔ لوگوں کو مزید دھوکے میں نہیں رکھا جا سکتا۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ماضی کی حکومتوں کی طرح کشمیر کے عوام سے دھوکا کیا اور مودی حکومت سے سازباز کے ذریعے کشمیر کا سودا کر دیا گیا۔ عالمی طاقتوں نے بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر شرمناک کردار ادا کیا جبکہ اوآئی سی نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر بھارت کے ظلم و جبر سے آزادی حاصل کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کشمیریوں کی پشتیبان ہے۔ ہم پاکستان کی تکمیل کی جدوجہد کو بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے۔ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی انقلاب کے لیے میدان عمل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر مسلط حکمران ٹولے نے ملک اور قوم کے ساتھ غداری کی ہے ۔ قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو امریکا کے حوالے کیا ۔ افغانستان کے سفیر ملا عبد الضعیف کے ہاتھ باندھ کر اور بے عزت کر کے امریکا کے حوالے کیا ۔ ایمل کانسی ، یوسف رمزی سمیت کئی شہریوں کو امریکا کے حوالے کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان حکومت میں آنے سے قبل عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے کے بہت دعوے اور وعدے کرتے تھے مگر قوم کی بیٹی عافیہ آج بھی امریکا میں قید ہے ۔