حقوق کراچی مہم ، جماعت اسلامی کے100 سے زاید مقامات پر مظاہرے

164
حافظ نعیم الرحمن ’’حقوق کراچی مہم ‘‘کے دوران مسجد بیت المکرم کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے ہیں

 

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت حقوق کراچی مہم کے سلسلے میںدرست مردم شماری، با اختیار شہری حکومت و فوری بلدیاتی انتخابات اور شہر قائد کے گمبھیر مسائل کے حوالے سے شہر بھر میں 100سے زاید مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جبکہ مرکزی مظاہرہ گلشن اقبال مسجد بیت المکرم کے باہرکیا گیا جس سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن،نائب امیر ضلع انجینئر عزیز الدین ظفر ودیگرنے بھی خطاب کیا۔ جماعت اسلامی کے تحت ضلع کیماڑی میں 15،ضلع غربی میں
20،ضلع ائرپورٹ 14،ضلع گلبرگ میں 7،ضلع ملیرمیں 8،ضلع وسطی میں9،ضلع شمالی7،ضلع جنوبی میں 15،ضلع قائدین میں 8، ضلع کورنگی میں12اورضلع شرقی میں 8سمیت 100سے زاید مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ بنارس، میٹروویل،گلشن غازی، اتحاد ٹاؤن، مشرف کالونی، اسلامیہ کالونی،فرنٹیئر موڑ، باوانی چالی، ماڈل کالونی، جناح اسکوائر، کوثر ٹاؤن،چمن کالونی، شاہ فیصل کالونی، گرین ٹاؤن، رفاع عام،لیاری، کلفٹن، دہلی کالونی، پنجاب کالونی،صدر،محمود آباد، اختر کالونی،کالاپل، کینٹ، فاطمہ جناح کالونی، سبزی منڈی، مارٹن کوارٹر ،جہانگیر روڈ،پی آئی بی، لائنز ایریا ،نعمان مسجد لسبیلہ ودیگر مقاما ت پر مظاہرے کیے گئے۔ مظاہروں سے نائب امیرکراچی ڈاکٹر اسامہ رضی،امرا اضلاع مولانا فضل احد حنیف، مولانا مدثر حسین انصاری، محمد یوسف، محمد اسلام، عبد الجمیل،محمد فرحان، کریم بخش، قمر عباسی، سیف الدین ایڈووکیٹ، نصیر حسینی،تحسین احمدسمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرے میں شرکا نے حکومت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور زبردست نعرے بھی لگائے۔ حافظ نعیم الرحمن نے مرکزی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے تحت ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘کے سلسلے میں 30جنوری کو 50مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے اورجماعت اسلامی ضلع گلبرگ وسطی کے تحت آج(23جنوری کو) کریم آباد پر دھرنادیا جائے گا۔جماعت اسلامی نے کراچی کو حق دو تحریک میں تمام طبقات کے مسائل اجاگر کرنے پر توجہ دی ہے بچے ، بزرگ ،نوجوان، وکلا، دانشور، اساتذہ سمیت ہر طبقہ فکر سے وابستہ افراد جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں۔انہوں نے کہاکہ آ ج شہری پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، سیوریج جیسے بے شمار مسائل سے دوچار ہیں،جماعت اسلامی ہی کراچی کے عوام کی ترجمان اور تواناآواز ہے، کراچی کی تباہی میں پی پی پی ، ایم کیو ایم ، ن لیگ اور پی ٹی آئی برابر کے ذمے دار ہیں۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمت میں 1.95روپے اضافہ کر کے عوام پر بجلی بم گرایا ہے، اس وقت ملک میں چینی مافیا، آٹا مافیا، میڈیکل مافیا، بجلی مافیا سب کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے، حکمران بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے مزید قرض لینے کے لیے روز بروز مہنگائی میں اضافہ کررہے ہیں،ملک میں مافیائوں کا قبضہ ہے اور یہ سارے مافیاز وزیر اعظم کے مشیر خاص ہیں،شرم کا مقام ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر خاص تابش گوہر، اسد عمر،ندیم بابر کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کرنے کے بجائے اس پر272 ارب روپے کے واجبات کی رقم کی معافی کا مطالبہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی نے صرف انکم ٹیکس کی مد میں 26سو ارب روپے ٹیکس دیا ہے ، پھر بھی کراچی کے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہاہے، کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ درست مردم شماری ہے، اگر درست مردم شماری ہی نہ کی گئی ہو تو منصوبہ بندی کیسے کی جاسکتی ہے۔