منشیات برآمدگی کیس میں ملزم 14 سال بعد بری

155

پاکستان میں منشیات برآمدگی کیس میں نامزد ملزم کو عدل شوائد کی بنا پر بری کردیا گیا۔

منشیات برآمدگی سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی جس میں نامزد ملزم کو پیش کیا گیا۔ ابتدائی سماعت پر عدالت نے ملزم کو بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے ریماکس میں کہا کہ ملزم کے خلاف ایف آئی آر 2007 میں درج ہوئی کرائی گئی جب کہ گواہوں کے بیانات 2009 میں ریکارڈ کیے گئے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ملزم سے برآمد ہونے والی 15 کلو گرام پوست کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ ملزم سے  پوست یا خشخاش کے بیچ برآمد ہونے  کے بارے  میں واضح نہیں کیا گیا۔

عدالت نے کیس نمٹاتے ہوئے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ستمبر 2020 میں قتل کے ایک مقدمے میں ملزم کو 16 سال بری کردیا تھا۔ قتل کا واقعہ 2004 میں تحصیل کمالیہ میں پیش آیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی۔

تاہم بعد ازاں سزا کے خلاف ملزم کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کی سزائے موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے 16 سال بعد ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔