ایک متنازع شخص کو سی پیک کا چیئرمین لگایا گیا، مشتاق احمد

326

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ ایک متنازع شخص کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین لگایا گیا، پاپا جونز پر کرپشن کے الزامات ہیں۔

سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر مشتاق احمد اور مسلم لیگ ن کے سینیٹر محمد جاوید عباسی نے سوال اٹھایا کہ عاصم سلیم باجوہ نے کس حیثیت سے چینی سفیر سے ملاقات کی، کیا وہ اب بھی سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کی تنخواہ وصول کر رہے ہیں؟

سینیٹر مشتاق احمد نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر سے تحریری سوالات کیے کہ آیا یہ حقیقت ہے کہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس منسوخ ہونے کے باوجود اتھارٹی بغیر کسی آئینی اختیارات اور قانونی جواز کے ابھی تک کام کر رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تواتھارٹی کی جانب سے اب تک لیے گئے انتظامی و مالی فیصلوں اور اٹھائے گئے اقدامات کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

اسد عمر نے جواب میں کہا کہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کی مدت مئی 2020 میں ختم ہو گئی تھی، سی پیک اتھارٹی کا بل قومی اسمبلی میں زیر کارروائی ہے، جبکہ سی پیک منصوبوں سے متعلق تمام انتظامی اور مالی معاملات وزرات منصوبہ بندی دیکھ رہی ہے۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ آئندہ کسی ایسے شخص کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی نہ لگائیں جس پر کرپشن کے الزامات ہوں۔

 اپوزیشن کے تمام اراکین نے حکومتی اراکین کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر اجلاس سے احتجاجا واک آﺅٹ کیا،اس موقع پر ایوان میں ”پاپا جونز نامنظور“ کے نعرے لگائے گئے۔