تقریبا 20 لاکھ اسرائیلی غربت کی سطح سے نیچے آگئے

137

نیشنل انشورنس انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا 20 لاکھ اسرائیلی شہری سرکاری غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ کل آبادی کا 23 فیصد ہے۔ اس تعداد میں اسرائیل کے تقریبا ایک تہائی بچوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے عرب شہریوں میں غربت کی شرح قریب 50 فیصد ہے جو یہودی شہریوں کی نسبت دوگنی ہے۔ سماجی بہبود کے حکام نے نشاندہی کی کہ کورونا وائرس وبا نے نہ صرف نچلے سماجی و معاشی سطح کے افراد کو متاثر کیا ہے بلکہ دیگر بھی اس کی لپیٹ میں آئے ہیں۔

ٹیکس کی شرحوں میں اضافے اور 2010 میں اسرائیل کے اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) میں شامل ہونے کے باوجود اسرائیل میں غربت کی شرحوں میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ دریں اثناء 27 دسمبر کو تیسرے لاک ڈاؤن کے آغاز کے بعد سے بے روزگاری ریکارڈ سطح پر برقرار ہے۔ فروری کے آخر تک کورونا وائرس کی وجہ سے بے روزگار افراد کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز ہونے کی توقع ہے۔

اسرائیلی وزارت خزانہ نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بیروزگاری کا بحران سال بھر جاری رہے گا بھلے وائرس سے بچاؤ کی مہم کامیاب ہوجائے اور مستقبل قریب میں پابندیاں ختم کردی جائیں۔ وزارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتہائی پر امید ماحول میں جہاں پابندیاں ختم کردی گئیں وہاں معمولات زندگی دوبارہ شروع ہوجائیں اور معاشی سہولیات پوری طرح سے میسر آجائیں تب بھی وہاں بے روزگاری کی شرح زیادہ رہے گی جو اس سال 8.6 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ تاہم صحت کا بحران اگر شدت اختیار کرتا ہے تو امکان ہے کہ بے روزگاری کی شرح 11.6 فیصد تک ہوجائے گی۔