سعودی عرب مسلسل 4 بار بےروزگاری کو ریکارڈ کرنے میں ناکام

156

سعودی عرب ملک میں بے روزگاری کی اعداد و شمار کی اشاعت کو سیاسی حالات کے تناظر میں چار بار تاخیر کرچکا ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے سعودی عرب میں پچھلے سال  کےریکارڈ کے لحاظ سے بےروزگاری کی سطح بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔ 2020 کی تیسری سہ ماہی کے لئے ریاست کی لیبر مارکیٹ کی رپورٹ دسمبر کے آخر میں شائع کی جانی تھی لیکن اس سے قبل کئی بار ری تاریخ کے ری شیڈول ہونے کے بعد دسمبر میں بھی حکام نے سعودی اعدادوشمار اتھارٹی کی ویب سائٹ سے رپورٹ کی اشاعتی تاریخ کو ہٹا دیا۔

حکام کی جانب سے اس رویے کی توجیہہ اپنی ویب سائٹ پر یہ بیان کی گئی کہ ہدف تک پہنچنے کیلئے مزید وقت درکار ہے۔ یہ تاخیر اسلیئے ضروری تھی اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کورونا وائرس سے متعلقہ پابندیوں کی مدت کے دوران 33،000 گھرانوں سے جمع کردہ ڈیٹا اتھارٹی کے معیارات پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے مملکت کی نوجوان آبادی کیلئے کافی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ایک سب سے بڑا چیلنج ہے کیونکہ اُن کا ہدف 2030 تک شہریوں میں بے روزگاری کو 7 فیصد تک کم کرنا ہے لیکن حالیہ 6 مہینوں میں ہی ملک میں بےروزگاری نے 15.4 فیصد کی بلند ترین سطح کو چھولیا ہے۔