موٹرویز پر جرائم کے 37 واقعات، اندھیرے میں سفر سے گریز کی ہدایت

125

موٹرویز پر گزشتہ 4 سال کے دوران جرائم کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی گئیں، موٹرویز پر 4 سال کے دوران جرائم کے 37 واقعات ہوئے۔

اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے موٹروے ایم ون پشاور رشکئی سیکشن، ایم ٹو کالا شاہ کاکو لاہور سیکشن سرفہرست ہیں۔

پشاور رشکئی سیکشن، کالاشاہ کاکو لاہور سیکشن پر 5،5 واقعات ہوئے جب کہ ایم ون رشکئی صوابی سیکشن اور برہان اسلام آباد سیکشن پر 4،4 واقعات ہوئے۔

تحریری جواب کے مطابق  موٹرویز پر جرائم کے سدباب کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جرائم والے علاقوں میں خصوصی اسکواڈز تعینات کیے ہیں، شہری اندھیرے میں غیرضروری طور پر موٹروے پر نہ رکیں۔

دوسری جانب احسن اقبال نے مختصر نوٹس پر قومی اسمبلی اجلاس بلانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ اس حکومت نے قومی اسمبلی کو مذاق بنا دیا، ارکان کو رات گئے پتہ چلا اجلاس ساڑھے 10 بجے ہے، حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں نہیں کررہی؟

پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے احسن اقبال کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ایوان اچھے انداز سے چلانے کی باتیں، دوسری جانب غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، مختصر نوٹس پر اجلاس بلانے سے ارکان کو مشکلات پیش آتی ہیں، کورونا سے عوام کے ساتھ ساتھ ارکان پارلیمنٹ بھی متاثر ہوئے، کورونا ویکسین کی ترجیحی لسٹ میں ارکان پارلیمنٹ کو بھی شامل کیا جائے۔