غیر سنجیدہ حکمرانوں کی تباہ کاریاں

261

عام طور پر لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ ان کے ملک میں یا دنیا میں خرابی کی اصل وجہ کیا ہے۔ عموماً لوگ سامنے والی چیز پر نظر رکھتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، امریکا، برطانیہ وغیرہ میں جس قسم کے حکمران مسلط ہیں ان کی حرکتوں کے نتیجے میں ان ملکوں کے لوگ اور دوسرے ملکوں کے عوام بھی محفوظ نہیں۔ اسے یوں کہا جائے کہ دنیا میں حکومتیں بنانے اور گرانے والوں کے سامنے جو معیار ہے وہ یہ ہے کہ کوئی صاف ستھرے کردار والا شخص حکمرانی کے منصب پر نہ پہنچنے پائے۔ امریکا میں تو یہ جملہ کہا جاتا ہے کہ کوئی مسٹر کلین ریاست کی حکمرانی تک بھی نہیں پہنچنے دیا جاتا۔ پھر وہاں انتخابی سیاست ایسی ہے کہ کسی شخص کو پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ جو لوگ سنجیدہ کام کرتے ہیں ان کے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔ چناں چہ یہ غیر سنجیدہ لوگ پارٹی کی نمائندگی کی دوڑ میں آگے آجاتے ہیں۔ پھر پارٹی کے ارکان اور ریاستی پارٹیوں کے لیے دو تین غیر سنجیدہ لوگوں میں سے ایک کو منتخب کرنے کے لیے دو تین لوگوں کے نام دے دیے جاتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو امریکا، پاکستان، بھارت، برطانیہ وغیرہ میں ہوا۔ زمانہ حکمرانی سے قبل زمانہ طالب علمی یا ابتدائی سیاسی دنوں میں وہ کچھ بھی کرتا رہا ہو لیکن حکمرانی کے دور میں بھی چھچھور پن نہ چھوڑنے والے یہ تین چار حکمران ٹاپ پر ہیں۔ لیکن امریکی صدر ٹرمپ نے غالباً ٹاپ ہی کیا ہے۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ صدر بننے سے پہلے جیسے تھے صدارت کے آخری دن بھی ویسے ہی رہے۔ اپنی پوری مدت صدارت اُلٹے سیدھے کاموں میں گزاری، امریکی ایوان صدر کے بارے میں جو روایات مشہور تھیں اس کو مقدس جگہ کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، ٹرمپ نے اس ایوان صدر کی خوب مٹی پلید کی۔ یہ سارے کام تو ذاتی مزاج اور عادات کی وجہ سے ہوتے تھے لیکن دنیا بھر کے غیر سنجیدہ حکمرانوں اور ان کو لانے والوں کے لیے ٹرمپ کی صدارت کا اختتام ایک الارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس انداز میں ٹرمپ کے دور کا اختتام ہوا ہے اس نے پوری امریکی سیاست کو دنیا بھر میں بدنام کردیا بلکہ یوں کہا جائے کہ اس کے اندر کی ساری خرابیوں کو بے نقاب کردیا۔ امریکی سیاست پر چڑھا ہوا ملمع اُتر گیا اور دوسری دنیا اور تیسری دنیا کے غیر مہذب ممالک سے بھی زیادہ بدتہذیبی کا مظاہرہ کیا گیا۔
لوگ اِسے ٹرمپ کے رویے کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں لیکن یہ صرف ٹرمپ کے رویے کا نتیجہ نہیں ہے۔ کسی ملک کی صدارت پر چار سال تک ایک غیر سنجیدہ حکمران براجمان رہے۔ ساری دنیا کے ساتھ معاملات مسخروں کی طرح چلائے اور کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج امریکا اور تیسری دنیا کے ممالک برابر ہیں۔ نئے امریکی صدر کی حلف برداری کم و بیش مارشل لا کی کیفیت میں ہوئی۔ پورے ملک میں امریکی فوج کو طلب کیا جانا، یہ سب ایک غیر سنجیدہ حکمران کو عوام پر مسلط کرنے کا نتیجہ ہے۔ اب تک تو ایسے فرد کو حکمرانی پر لایا جاتا تھا جو مسٹر کلین نہ ہوتا کہ وقت آنے پر اسے بلیک میل کیا جاسکے۔ جیسا کہ بل کلنٹن کے ساتھ ہوا۔ بہت سوں کے معاملات سامنے ہی نہیں آسکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف امریکی نظام کو بے نقاب نہیں کیا ہے بلکہ اس خوف کو بھی سامنے لاکھڑا کیا ہے جو امریکی نظام کی پشت پر ہے۔ یہ جو خبریں سامنے آرہی تھیں کہ امریکا کے
درجنوں شہروں میں حملوں کا خطرہ… ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو اشاروں اشاروں میں حملوں کا حکم دے دیا۔ کرفیو جیسی کیفیت سامنے لائی گئی۔ ایسا ماحول بنایا گیا کہ گویا ٹرمپ کے حامی کیپٹل ہل کو اُٹھا کر لے جائیں گے۔ جوبائیڈن پر بھی دبائو آگیا۔ اب جوبائیڈن اپنی تمام مدت صدارت فوج کے مرہون منت رہیں گے۔ آخر انہیں فوج ہی تو محفوظ طریقے سے اقتدار میں لائی ہے۔ ٹرمپ کی غیر سنجیدگی نے امریکیوں کے جمہوری رویوں کی قلعی بھی کھول کر رکھ دی ہے۔ یہ دنیا میں سب سے بڑے غیر سنجیدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔
بھارت میں نریندر مودی وہ آدمی ہے جو اپنے ماضی سے آج تک ایک ہی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ وہ ہے دہشت گردی کا، فاشسٹ کا اور مسلمان دشمنی کا رویہ، نریندر مودی شاید واحد حکمران ہے جو اپنی پوری سیاست میں فاشزم کا پرچار اور اس پر عمل کرتا رہا۔ اپنے پہلے دور حکومت میں اس نے اپنے چہرے پر نقاب چڑھا رکھی تھی لیکن دوسرے دور میں تو انتہا کردی۔ مودی کے رویے نے نام نہاد مہذب دنیا کے چہرے سے بھی نقاب اُتار دی۔ اسے مودی کے کشمیر میں مظالم نظر نہیں آتے۔ مودی تو دورئہ بنگلادیش میں بھی اپنی دہشت گردی کا اعتراف کرچکا۔ امریکیوں نے اسے دہشت گرد قرار دیا اسے امریکا آنے پر گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر عالمی دہشت گردوں نے اسے پاک صاف قرار دے کر امریکا بھر میں زبردست پزیرائی کی۔ یہی مودی پھر عرب ممالک کی آنکھ کا تارا بنا اور ان عرب ممالک نے بھی اسلام، امت مسلمہ اور اسلام دشمنی کے بھارتی اقدامات سے آنکھیں بند کرلیں۔ لیکن مودی کی حماقتیں اور اس کے اقدامات بھی ایک دن تو اس کے اور بھارت کے سارے نظام کو بے نقاب کرنے کا سبب بن گئے۔ ایک طرف بھارتی کسان مرنے مارنے پر تُلے ہوئے ہیں اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ بھارتی کسان بین الاقوامی زرعی ایجنڈے کو شکست دے دیں گے کہ بھارتی عدالت عظمیٰ کسانوں کی تحریک کی ہوا نکالنے کے لیے آگے آئی اور بھارتی حکومت کو زرعی قوانین کے اطلاق سے روک دیا۔ اس کے نتیجے میں کسان تحریک کی رفتار اور سرگرمی متاثر ہوئی ہے۔ اس راستے سے اس تحریک کو سبوتاژ کیا جانا تھا۔ ابھی یہ تحریک چل رہی تھی کہ بھارتی ٹی وی اینکر ارنب گوسوامی کی موبائل چیٹ نے بھی ان میں ہلچل مچادی۔ بھارتی حکمران اس نئے اسکینڈل سے ہل کر رہ گئے ہیں۔ پوری دنیا میں جس پلواما ڈرامے سے پاکستان کو بدنام کیا ہوا تھا وہ ان کا اپنا پیدا کردہ نکلا۔ بھارتی حکومت نے اپنے فوجی خود مروائے اور پاکستان کے خلاف خوب پروپیگنڈہ کیا۔ لیکن اب وہ بھگتیں گے۔ پاکستانی حکمران ابھی ارنب گوسوامی کے انکشافات پر بغلیں بجارہے تھے کہ براڈ شیٹ کا معاملہ پکڑا گیا بلکہ الٹا گلے پڑنے لگا ہے۔ معاملہ صرف براڈ شیٹ نہیں ہے، جو کچھ تین برس سے ہورہا ہے وہ ’’بُل شٹ‘‘ سے کم نہیں۔ پورا ملک تلپٹ ہوگیا ہے اور حکومت سے کوئی ایک معاملہ بھی حل نہیں ہوا ہے بس شور شرابا ہی جاری ہے۔ پاکستان کو ایک فاسٹ بولر کپتان ملا جس نے ورلڈ کپ جیت لیا۔ لیکن حکومت میں آنے کے بعد اتنے ٹرن لیے کہ اتنا اسپن ہوا کہ اب فاسٹ بولر اسپنر بن گیا ہے۔ ہر معاملے میں اسپن ہونے والا اب خود اسپن ہوگیا ہے۔ پاکستان کا کوئی شعبہ کوئی ادارہ محفوظ نہیں رہا۔ سب سے زیادہ جس ادارے کو نقصان پہنچا وہ پاک فوج ہے۔ خان صاحب فوج کے پیچھے پناہ لینے کی کوشش میں اسے ہی اپوزیشن کا نشانہ بنوادیتے ہیں۔ یہ بات اب تو سمجھ میں آجانی چاہیے کہ غیر سنجیدہ حکمران اپنے ملکوں کا کیا حشر کررہے ہیں۔ امریکا اور بھارت کو دیکھ کر بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ سعودی عرب کا تو اس وقت پتا چلے گا جب سب کچھ ختم ہوچکا ہوگا۔