……………اقبال

64

ثباتِ زندگی ایمانِ مْحکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تْورانی

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رْوح الامیں پیدا