ڈینیل پرل اور علی کنعانی: دو قتل، دو کہانیاں

237

2001 دنیا بھر بالخصوص پاکستان کے لیے مشکل سال تھا۔ 11ستمبر کے واقعے کے بعد ملک بے یقینی کی فضا تھی۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے سے اٹھنے والا سیاسی دھواں ابھی چھٹا نہیں تھا۔ دہشت گری سے متعلق خبریں اس وقت یقینا توجہ کا مرکز تھیں اور چھوٹا سا واقعہ یا معمولی کاروائی بھی شہ سرخی بن جاتی تھی۔ انہی دنوں عالمی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے پاکستان میں نمائندے ڈینیل پرل کو ای میل موصول ہوئی جس میں ان کو ایک مطلوب دہشت گردکا انٹرویو کرنے کا موقع دینے کی پیشکش کی گئی، ڈینیل پہلے ہی اس خبر پر کام کررہے تھے اور موقع کی تلاش میں تھے اس لیے فوراً حامی بھر لی۔ انٹرویو کا وقت اور جگہ طے ہوگئے۔ ڈینیل اس شام کراچی میں اپنی حاملہ اہلیہ اور دوستوں کو الوداع کہہ کر روانہ ہوئے، وہ ان کا آخری الوداع ثابت ہوا۔
ڈینیل پرل سے رابطہ کرنے والے ان کو اپنے دام میں پھنسانے میں کامیاب ہوگئے، انہوں نے انٹریو کا جھانسا دیکر ڈینیل کو اغوا کرلیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ادھر کراچی میں ڈینیل کی اہلیہ نے حکام کو ان کی گمشدگی کی اطلاع دی جس پر تفتیش کا عمل فوراً شروع کردیا گیا مگر ڈینیل کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ کچھ دنوں بعد اغوا کاروں کی جانب سے ڈینیل کی دیڈیو جاری کی گئی جس میں ان کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دکھا گیا، اس کے بعد کے مناظر انتہائی پریشان کن تھے جس میں ڈینیل کی آنکھوں میں پٹی باندھ کر ان کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
ویڈیو جاری ہونے کے بعد ملکی اور عالمی سطح پر جو ہنگامہ برپا ہونا چاہیے تھا وہ ہوا، تفتیشی اداروں کو کئی دن بعد مقتول صحافی کی لاش کے ٹکڑے کراچی میں ایک زمین سے ملے لیکن قاتل ہاتھ نہ آسکے، حکام نے اس وقت کے حالات کے پیش نظر پھرتی دکھاتے ہوئے خود کو وفادار خادم ثابت کرنے کی کوشش میں جس زمین سے لاش ملی تھی اس زمین کے مالکان کو اور ان کے اقربا کو حراست میں لے لیا اور مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا مگر قتل کا عقدہ نہیں کھل سکا۔
حقیقت کافی عرصے بعد سامنے آئی جب 11ستمبر کے حملوں کے الزام میں امریکا میں زیر حراست خالد شیخ نے دوران تفتیش ڈینیل پرل کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کا اعتراف کیا، اس نے واقعے میں ملوث اپنے دیگر ساتھیوں کی تفصیلات بھی بتائی۔ حیران کن طور پر امریکی پراسیکیوٹر نے خالد شیخ کے خلاف مقدمہ میں ڈینیل پرل کے قتل کا الزام اور شواہد شامل نہیں کیے، ان کا دعویٰ تھا کہ اس سے خالد شیخ کے خلاف دیگر اہم مقدمات متاثر ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں امریکی صحافی کے اغوا کے الزام میں احمد عمر شیخ کو فروری 2002 میں گرفتار کیا گیا اور خصوصی عدالت کی جانب سے اسی سال ان کو سزائے موت سنا دی گئی، بعد ازاں 18سال جیل میں گزارنے کے بعد 2020 میں یعنی چند ماہ قبل سندھ ہائیکورٹ نے ان کو مقدمے سے بری کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا۔ فیصلہ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ڈینیل کے ضعیف العمر والدین کے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اپنی زندگی پر بیٹے کے قتل کے تباہ کن اثرات کا ذکر کرتے ہوئے لجاجت سے انصاف کی فراہمی اور ذمے داروں کو سزا دینے کی التجا کررہے ہیں۔
فیصلہ کے بعد اہم رد عمل امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے سامنے آیا جس نے ٹویٹر پر سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ ملزمان کو فیصلہ آنے کے باجود رہا نہیں کیا گیا ہے! اس ٹویٹ نے جہاں ایک طرف ہماری عدالتی نظام کی آزادی اور ریاستی خود مختاری پر سوالات کھڑے کردیے وہیں امریکا کے دہرے انصاف کے معیار کو بھی عیاں کردیا، کیونکہ جس وقت سندھ ہائیکورٹ نے قانونی دلائل اور بحث کے بعد احمد عمر شیخ کو بری کیا اسی وقت امریکی صدر نے بیک جنبش قلم چار ایسے ملزمان کو معافی دینے کا اعلان کیا جن پر قتل اور قتل میں معاونت کے الزام امریکی عدالت میں ثابت ہوچکے تھے، لیکن اس واقعہ میں متاثرہ فریق امریکی نہیں تھا اس لیے یہ معافی قابل تشویش نہیں تھی۔
چار ملزمان جن کو امریکی صدر نے اپنی مدت حکومت ختم ہونے سے پہلے صوابدیدی اختیار کے ذریعے معافی دی ان کا تعلق بدنام زمانہ بلیک واٹر سے تھا۔ 2007 میں بغداد کے النسور چوک پر معمول کے مطابق ٹریفک رواں تھی جب اچانک بلیک واٹر کی بکتر بند گاڑیاں نمودار ہوئیں اور انہوں نے ٹریفک روک کر ایک مشتبہ گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، یہ واقعہ اتنا اچانک اور غیر معمولی تھا کہ تمام عینی شاہدین نے اس کو قیامت صغریٰ سے تعبیر کیا۔ بلیک واٹر کے اہلکاروں نے اس گاڑی کو فائرنگ سے چھلنی کردیا، اس کاروائی میں ہیلی کاپٹر کا بھی استعمال کیا گیا۔ مگر قصہ یہاں ختم نہیں ہوا، اہلکاروں نے گاڑی کو تباہ اور اس میں موجود تمام ’’مشتبہ‘‘ افراد کو قتل کرنے کے بعد دیگر گاڑیوں کا رخ کیا اور جو کچھ بھی ان کے سامنے آیا اس کو بھسم کردیا۔ واقعہ میں 17عراقی شہید ہوئے، ان میں ایک 9سالہ علی کنعانی بھی تھا جس کے والد نے امریکی فوج کی عراق آمد پر مٹھائی تقسیم کی تھی کیونکہ وہ ان کو آزادی کا ضامن سمجھتے تھے۔ علی کنعانی کے والد نے بتایا کہ واقعہ کے بعد امریکی حکام نے ان سے رابطہ کیا اور 10ہزار ڈالر دینے کی پیشکش کی جس پر انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ بلیک واٹر کا سربراہ اپنے اہلکاروں کی غلطی تسلیم کرے اور سرعام معافی مانگے، بلیک واٹر نے یہ مطالبہ رد کردیا اور اپنے موقف پر قائم رہے کہ اہلکاروں نے اپنے دفاع میں گولیاں چلائیں۔
النسور چوک کے واقعہ پر امریکا میں بھی بلیک واٹر کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، امریکی ایف بی آئی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مقتولین معصوم تھے، جس گاڑی کو مشتبہ سمجھ کر اس پر فائرنگ کی گئی اس میں 20سالہ احمد ہیثم اور اس کی والدہ تھے۔ بعد ازاں علی کنعانی کے والد امریکی عدالت میں بلیک واٹر کے اہلکاروں پر مقدمہ دائر کیا، چھے ملزمان میں سے ایک نے اعتراف جرم کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے خلاف گواہی دی، لیکن عدالت نے گواہی مسترد کردی اور تمام ملزمان کو بری کردیا۔ وکیلوں نے اعلیٰ عدالتوں میں مقدمہ کی پیروی کی تو طویل عدالتی کاروائی کے بعد 2015 میں ایک ملزم کو عمر قید اور 3ملزمان کو 30سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ایک ملزم کو بری کردیا گیا۔ 2018 میں اس مقدمے کو واپس کھولا گیا اور سابقہ فیصلہ پر اعتراضات قبول کرتے ہوئے ایک بار پھر عدالتی کاروائی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں عمر قید کے ملزم کی سزا میں کمی نہیں ہوئی تاہم دیگر 3ملزمان کی سزا آدھی ہوگئی۔ یوں امریکی حکومت کی مدد سے دائر کیے جانے والے مقدمے میں امریکی عدالت کے فیصلہ کے مطابق یہ اہلکار قتل کے مجرم تھے۔ لیکن دسمبر 2020 میں جب امریکی محکمہ خارجہ ڈینیل پرل قتل کیس کے ملزموں کی بریت پر اظہار تشویش کررہا تھا اس وقت امریکی صدر ان اہلکاروں کے لیے صدارتی معافی کا اعلان کررہے تھے۔
احمد عمر شیخ کا مقدمہ اب پاکستان میں عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے، امریکی حکومت کی کوشش ہے کی ملزمان کو اپنی تحویل میں لیں لے، لیکن دوسری جانب علی کنعانی، احمد ہیثم اور 17عراقیوں کے قاتل رہا ہوگئے ہیں۔ ان دو واقعات سے امریکا کا دہرا معیار بھی عیاں ہوتا ہے اور ایک پوشیدہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ موجودہ ریاستی نظام میں شہری امریکا کا ہو یا تیسری دنیا کا، ریاستی مفادات کے سامنے اس کی جان کی قیمت صفر ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ڈینیل پرل کے قتل پر امریکی محکمہ خارجہ ٹویٹس کے ذریعے محض تشویش کا اظہار کررہا ہے، ورنہ امریکی مفادات کو ادنیٰ نقصان پہنچانے پر بھی امریکا جس حدتک جاتا ہے اس کا سب کو خوب اندازہ ہے۔