ایک اور برس بیت گیا

162

کیسے کہوں کہ نیا سال مبارک ہو؟ بلکہ مجھے تو یہی پتا نہ چلا کہ 2020 کیسے گزر گیا۔ سال کے شروع ہی سے کورونا وائرس کے پھیلنے اور لاکھوں لوگوں کے مرنے سے انسان اس قدر سہم گیا کہ بتا نہیں سکتا۔ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا سے لوگوں میں جو خوف و ہراس بڑھا ہے اس سے ہم سب اب تک باہر نہیں آ پائے ہیں۔ اس کے علاوہ کورونا کی وجہ سے انسان کا ذہنی تناؤ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہماری روز مرہ کی زندگی ہی تبدیل ہو گئی۔ جہاں لوگوں کو اپنی جان کی پڑی ہے تو وہیں بے روزگاری اور سماجی دشواری نے پریشانی میں اور اضافہ کر دیا ہے۔ تاہم اگست کے مہینے سے کچھ حدتک کورونا کے گھٹنے سے ایک امید سی بنی تھی۔ لیکن ابھی دو مہینے بھی نہیں گزرے تھے کہ پھر دوسری لہر نے پوری دنیا میں ایک بار پھر خوف و ہراس اور مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ کورونا کی ایک نئی قسم سے برطانیہ کے سائنسداں اور حکومت کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ اب تو کرسمس کورونا کی بھینٹ چڑھ چکی ہے اور برطانیہ کا مقبول نئے سال کی تقریب بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔ پھر بھی کچھ منچلے حکومتی پابندی کے باوجود چھپ چھپ کر جشن مناتے رہے اور پولیس انہیں گرفتار بھی کرتی رہی۔ ہر سال کی طرح اس سال نئے سال کا جشن ویسا دیکھنے کو نہیں ملا جیسا کہ ہر سال ہوتا ہے۔ ہر سال لندن میں دریائے تھیمز کے کنارے آتش بازی کی زبردست نمائش کی جاتی ہے جسے لاکھوں لوگ دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدتے ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنے قریبی دوست اور رشتہ داروں کے ہمراہ اس نظارے کو دیکھنے کے لیے لندن کے معروف Ben) Big) بگ بین کے قریب جمع ہو تے ہیں اور گلے لگ کر ایک دوسرے کو نئے سال کی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
عام طور پر 31؍دسمبر کی رات سے پہلی جنوری کی صبح تک لندن ٹرانسپورٹ مسافروں سے کوئی کرایہ وصول نہیں کرتی ہے جسے لندن مئیر کی طرف سے ایک تحفہ سمجھا جاتا ہے۔ لندن کا معروف اور تاریخی بگ بین جیسے ہی اپنی گرج دار آواز کے ساتھ رات کے بارہ بجنے کا اعلان کرتا ہے لندن ویل سے آتش بازی کا مظاہرہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس وقت لوگ اپنی محبت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں اور نئے سال کو کس طرح گزارے گے، اس کا وعدہ کرتے ہیں۔ نئے سال کی آمد کا جشن لندن کے علاوہ بیجنگ، سڈنی، نیویارک، پیرس اور دبئی میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ جہاں لاکھوں لوگ ایک مخصوص اور معروف جگہ پر جمع ہو کر آتش بازی کا بہترین مظاہرہ دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے دن اخباروں میں کس شہر کی آتش بازی شاندار تھی اس پر تبصرہ بھی ہوتا ہے۔ ان آتش بازیوں کے مظاہرے پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں جو ان لوگوں سے وصول کیے جاتے ہیں جو اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔
آئیے سال 2020 کا مختصر طور پر سیاسی اور سماجی پسِ منظر میں ایک جائزہ لیتے ہیں۔ یوں تو 2020 لوگوں کے لیے ایک مایوس کن سال رہا۔ دنیاکورونا وائرس کی لپیٹ میں سسکتی رہی اور ہر دن ہم اسی آس میں بیٹھے رہے کہ اب کورونا کا خاتمہ ہوگا۔ دنیا کی معیشت سست اور ٹھپ ہوگئی اور بے روزگاری نے کئی گھروں کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ برطانیہ نے قرض لینے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور پورے سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے بزنس بند ہونے پر حکومت فرلو اسکیم کے تحت لوگوں کو پیسے بانٹ رہی ہے تاکہ ان کا کسی طرح گزارا ہو۔
نومبر 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار سے دنیا کے امن پسند لوگوں کو راحت ملی۔ اس بات کا تو ہم سب کو علم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف لینے کے بعد پوری دنیا کی امن کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ رویے سے لوگوں کا جینا حرام ہو چکا تھا۔ ان کے بیانات اور ٹوئٹ کو دیکھنے کے بعد ہر امن پسند آدمی سہم سا گیا تھا۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہاں ماننے والے الیکشن میں ہار کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے امریکی الیکشن کو ایک دھاندلی بتاتے ہوئے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ اب تو عدالت عظمیٰ نے بھی ٹرمپ کی شکایت کو مسترد کر دیا ہے۔ دراصل اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی صدر کو نہ تو امریکا کی پروا ہے اور نہ ہی وہ ایک تہذیب یافتہ صدر ہیں بلکہ ان کے اوٹ پٹانگ بیانات سے تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنا دماغی توازن کھو دیا ہے۔ خیر نئے صدر کی آمد سے کیا تبدیلی آئے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
2020 میں برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بورس جونسن کورونا وائرس سے بیمار ہو کر اسپتال پہنچ گئے اور صحت یاب ہو کر واپس بھی آ گئے۔ تاہم برطانیہ میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد لگ بھگ 60,000 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ کورونا ویکسین کافی تعداد میں لوگوں کو دیے جارہے ہیں لیکن کورونا سے کیسے چھٹکارا پایا جائے اس کا کسی کو کوئی علم نہیں ہے۔ اب تو کورونا کی دوسری لہر نے ایک بار پھر برطانیہ کے لوگوں میں مایوسی پیدا کر دی ہے اور انسان امید اور نا امیدی میں الجھ کر اپنے دن گزار رہا ہے۔ بورس جونسن کے وزیراعظم بنتے ہی (Brexit) بریکسٹ زیرِ بحث رہا۔ دراصل وہ الیکشن اسی بنیاد پر جیتے تھے۔ آخر کار بورس جونسن نے یوروپی یونین سے تجارتی معاہدہ کر ہی لیا۔ کیونکہ 31دسمبر کو برطانیہ کو یوروپی یونین چھوڑنا تھا۔ اس کے بعدکچھ چیزیں ویسی ہی رہیں گی لیکن کچھ چیزیں مکمل طور پر بدل جائیں گی۔ جیسے یورپی یونین میں برطانیہ کے ارکان اپنی نشستیں کھو دیں گے۔ یورپی یونین کے اجلاسوں میں برطانیہ شامل
نہیں ہوگا۔ برطانوی پاسپورٹ کا رنگ بدل جائے گا۔ بریگزٹ کا یادگاری سکہ جاری ہوگا۔ تاہم کچھ اہم چیزیں اسی طرح قائم رہیں گی جیسے برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارت بغیر کسی اضافی چارج کے جاری رہے گی، ڈرائیونگ لائسنس اور پالتو جانوروں کے پاسپورٹ استعمال میں رہیں گے، یوروپین ہیلتھ انشورنس کارڈ کا استعمال پورے یورپ میں جاری رہے گا، یوروپی یونین میں رہنا اور کام کرنا جاری رہے گا۔
2020 ہندوستان کے لیے ایک مایوس کن سال رہا ہے۔ عام لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کورونا وائرس سے لوگ اب بھی خوف زدہ ہیں۔ نریندر مودی کے لیے کچھ دشواریاں ضرور بڑھی ہیں لیکن وہیں انہیں کئی ریاستی الیکشن میں مقامی پارٹیوں کے ساتھ کامیابی بھی نصیب ہوئی ہے۔ حال میں شروع ہوئے کسان احتجاج نے دنیا بھر میں ہندوستانی وزیر اعظم کی ہٹ دھرمی پر سوال اٹھایا ہے۔ جب کہ ہندوستان کی معیشت دھیمی ہوئی ہے۔ اب بھارتیا جنتا پارٹی اپنی پوری طاقت سے بنگال پر نظر لگائے بیٹھی ہے کیونکہ جلد ہی مغربی بنگال کا ریاستی الیکشن ہونے والا ہے۔
2020 میں چین اور امریکا کے تعلقات میں کافی گراوٹ ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ امریکی صدر ٹرمپ کا بار بار چین پر یہ الزام لگانا کہ کورونا کا پھیلاؤ چین نے کیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تناؤکافی بڑھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کا چین کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی کافی خراب ہے۔ تاہم چین دنیا کے کئی ممالک میں اپنا کاروبار کامیابی سے پھیلا رہا ہے جس کی وجہ سے امریکا اور ہندوستان گاہے گاہے چین کی پالیسی پر نکتہ چینی کررہے ہیں۔ میں نے 2020 کوکورونا سے پریشان اور مایوس کن سال محسوس کیا ہے۔ جس سے ہم سب اب تک پریشان ِ حال ہیں۔ تاہم اس بات پر ہم امید رکھتے ہیں کہ ان شااللہ کورونا کا خاتمہ ہوگا اور ایک بار پھر ہم اپنی عام زندگی کی طرف لوٹے گے۔