رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو

265

وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ ’’توہین رسالت پر فتوے بازی بند ہونی چاہیے، تمام مکاتب فکر کے متفقہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی، نفرت انگیز تقریر و تحریر کی اجازت نہیں دی جا سکتی جب کہ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ پاکستان کی منزل صرف معتدل اسلامی ریاست ہے‘‘۔ طاہر اشرفی جو کچھ فرما رہے ہیں وہ درست ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ موصوف یک طرفہ بیان داغ کر اور رسالت کی توہین کرنے والوں کے متعلق ایک حرف بھی نہ کہہ کر آخر ان کے دل میں خوف خدا نہیں تو توہین رسالت کے قانون ہی کا ڈر کیوں پیدا نہیں کرنا چاہتے۔
پوری دنیا اس بات سے خوب اچھی طرح آگاہ ہے کہ مسلمان خواہ کتنے ہی گمراہی کے شکار یا گناہ گار ہی کیوں نہ ہوں، اپنے حبیب مکرمؐ کے متعلق کوئی خباثت حتیٰ کہ ذرہ بھر بھی ترش لہجہ برداشت نہیں کر سکتے۔ جس طرح دنیا میں موجود درجنوں دھرم رکھنے والی اقوام، تمام تر بگاڑ کے باوجود، اپنے اپنے پیشواؤں یا خود تراشیدہ خداؤں کے متعلق کسی کا توہین آمیز رویہ یا لہجہ برداشت نہیں کر سکتیں، اسی طرح، بلکہ اْن سب سے بڑھ کر مسلمانوں کے لیے ایسا کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔ اشرفی صاحب کا یہ فرمانا کہ ’’علما کو توہین رسالت پر فتوے بازی بند کر دینی چاہیے‘‘، نہ صرف خلافِ عقل و فہم ہے بلکہ ایسی گمرہی کی بات ان کی جانب سے آنے کی توقع کی نہیں جا سکتی تھی۔ ایک جانب وہ فرماتے ہیں کہ علما نے توہین رسالت کے قانون کے لیے جو متفقہ فیصلہ کیا ہے اس کی پاسداری ضروری ہے تو دوسری جانب اگر علما اس قانون پر عمل درآمد کی بات کریں تو وہ اس مطالبے کو یا اس قانون پر عمل درآمد یقینی بنانے کے مطالبے کو ’’فتویٰ‘‘ قرار دیتے ہیں۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ علما کی جانب سے اگر ایسے فرد، افراد یا کسی ادارے کے خلاف کوئی فتویٰ آتا ہے جو رسالت کی یا صحابہ کرام کی توہین و تضحیک میں ملوث یا اس کی ہاں میں ہاں ملانے میں شریک رہا ہو تو یہ بات کہاں سے قابلِ گرفت ہو گئی؟۔ یہ سمجھ لینا کہ پاکستان کے علمائے کرام کسی کے لیے قانونِ رسالت کے مطابق کسی قسم کی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں یا ایسے فرد، افراد یا اداروں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ محض جھوٹ اور شک کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں، علمائے کرام پر ایک تہمت جیسا ہے۔
سیدھی سی بات یہ ہے کہ جب پاکستان میں توہین رسالت کے سلسلے میں ایک قانون موجود ہے تو اس پر قانون کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانا بھی بہت ضروری ہے لیکن یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت ہی کے سلسلے میں کیا، کسی بھی سلسلے میں بنائے گئے قوانین پر سرے سے عمل در آمد ہی نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ہر آنے والا دن فتنوں در فتنوں کو بڑھانے کا سبب بنتا چلا جا رہا ہے۔ اگر ملک میں کسی بھی اور خاص طور سے توہین رسالت جیسے گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف حکومت فوری اور قانون کے مطابق کارروائی کرتی نظر آئے تو علما کو ایسے فرد، افراد یا اداروں کے خلاف فتوے جاری کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن جب پورے ملک میں ہر کس و ناکس توہین رسالت کو ایک مذاق بنا کر رکھ دے اور حکومت وقت تماش بین بنی رہے تو پھر علما ہی کیا، کوئی بھی سچا عاشقِ رسول اس بات کو برداشت کر ہی نہیں سکے گا۔
دیکھا یہی گیا ہے کہ سرکاری علما سرکار کی چاپلوسی میں اس بات کا لحاظ بھی نہیں رکھتے کہ اسلام کے سلسلے میں کوئی بھی بات کہتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ اسی کانفرنس میں موجود نورالحق قادری فرماتے ہیں کہ ’’پاکستان کی منزل صرف معتدل اسلامی ریاست ہے‘‘۔ اب کوئی صاحب عقل یہ سمجھائے کہ کیا اسلامی ریاست کبھی غیر معتدل بھی ہو سکتی ہے۔ اسلام ہے ہی امن و سلامتی کا نام۔ امن و سلامتی کی بنیادی شرط ہی اس کا ہر معاملے میں نہایت متوازن ہونا ہے۔ جہاں بھی کسی معاملے میں ذرہ برابر کوئی اونچ نیچ ہوگی، وہیں سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔
توہین رسالت کا معاملہ ہو یا عدل و انصاف غیر منصفانہ و امتیازی ہو جائے، کسی بھی ریاست کے حالات وہیں سے بگڑنا شروع ہو جاتے ہیں لہٰذا طاہر اشرفی ہوں یا سرکار کے وظیفہ خوار علمائے کرام، ان کو بنائے گئے قانون پر کسی کے کہے بغیر عمل درآمد کرانے اور عدل و انصاف میں منصفانہ اور غیر امتیازانہ طرز عمل کو یقینی بنانے پر زور دینا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ تو شدت پسندی جنم لے گی اور نہ ہی علما کو کسی بھی سلسلے میں فتوے جاری کرنے پڑیں گے۔ لہٰذا بقول شاعر
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو