خیبر پختونخوا حکومت نے چائلڈ پروٹیکشن ترمیمی بل تیار کرلیا

128

پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے چائلڈ پروٹیکشن ترمیمی بل کا ڈرافٹ تیار کرلیا۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے چائلڈ پروٹیکشن ترمیمی بل کابینہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

ترمیمی بل میں تجاویز دی گئیں کہ بچوں سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے۔ زیادتی میں سزائے موت پانے والوں کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی کی جائے۔ سزائے موت سے قبل ریکارڈ ویڈیو منظوری کے بعد پبلک کی جائے گی۔

ترمیمی بل میں کہا گیا کہ عمر قید کی سزا پانے والا مجرم طبی موت تک جیل میں رہے گا۔ عمر قید پانے والے قیدیوں کو پیرول پر رہا نہیں کیا جائے گا۔

بل مسودہ میں کہا گیا کہ بچوں سے زیادتی کے مرتکب افراد کی سزا میں حکومت معافی نہیں دے سکے گی۔ بچوں کی غیر اخلاقی ویڈیو بنانے پر 14 سال قید با مشقت اور 5 لاکھ  روپے جرمانہ عائد ہوگا۔

بل میں تجویز دی گئی کہ بچوں کو بدکاری کی جانب راغب کرنے پر 10 سال قید بامشقت کی سزا دی جائے۔ بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث ملزمان کو 14 سے 25 سال قید کی سزا سنائی جائے۔

ترمیمی بل میں مزید کہا گیا کہ زیادتی میں ملوث افراد کا ریکارڈ چائلڈ کمیشن اور نادرا میں درج کیا جائے گا۔ زیادتی کے مرتکب مجرم بسوں میں سفر نہیں کرسکیں گے۔

بل میں کہا گیا کہ ملوث افراد کو بچوں سے متعلق اداروں میں ملازمت نہیں دی جائے گی۔ ملازمت دینے والے ادارہ  مالک یا منیجر کو 10 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔