ڈائریکٹوریٹ کالجز کراچی کے نظام کو متعصبانہ طرز پر چلائے جانے کا انکشاف

67

کراچی (رپورٹ: محمد انور) کراچی کے ڈائریکٹوریٹ کالجز کے نظام کو مبینہ طور پر متعصبانہ طرز پر چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ میں غیر مقامی انتظامی افسران کا غلبہ ہوچکا ہے جبکہ کراچی کے ایک سو 47 کالجز میں بھی غیر مقامی پرنسپل کے تقرر کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔ ان دنوں ڈائریکٹوریٹ میں ڈائریکٹر ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی 12 اسامیوں میں سے صرف ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی اسامی پر مقامی افسر سہیل نعیم مقامی ہیں جبکہ باقی تمام غیر مقامی اور کراچی کا ڈومیسائل نہ رکھنے والے افسران ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ کالجز اور اس کے ماتحت کالجز میں 2016 کے بعد اچانک ہی میریٹ اصول و ضوابط کے خلاف اندرون سندھ سے تعلیم حاصل کرنے اور دیہی سندھ کا ڈومیسائل رکھنے والے افسران کے کراچی میں تقرر کا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے شہر کے کالجز کا ماحول مبینہ طور پر خراب ہونا شروع ہوگیا۔کراچی کے ماحول اور قومی زبان اردو کے تلفظ و ادائیگی سے ناواقفیت کی وجہ سے غیر مقامی افسران اور اساتذہ کو خود دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ کالجز کے مقامی طالب علموں کو بھی اپنے غیر مقامی اساتذہ سے گفتگو میں اور ان کے لیکچرز کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ کالجز میں ڈائریکٹر ، تین ایڈیشنل ڈائریکٹرز میں ایڈیشنل ڈائریکٹر انسپکشن کی پوسٹ پر سکینہ سموں متعین ہیں جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر فنانس اور ہیومن ریسورسز خالی ہیں جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پر گلاب رائے ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایچ آر پر شفیق چاچڑ فنانس پر غفار بھٹو اسسٹنٹ ڈائریکٹر ( جنرل) پر عمران حیدر شاہ ، شہباز شاہانی ، شریف بوگھیو ، فرحت بھٹو، اور سہیل نعیم تعینات ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے ضلع ملیر میں 14 کالجوں میں کسی کالج میں بھی کراچی کا ڈومیسائل رکھنے والا پرنسپل نہیں ہے۔ ضلع جنوبی کے 16 کالجز میں غیر مقامی اور پانچ کالجز میں مقامی ضلع غربی کے نو کالجز میں غیر مقامی، ضلع شرقی کے 20 ، ضلع کورنگی کے 8 کالجز میں غیر مقامی اور ضلعی وسطی کے تین کالجز میں غیر مقامی اساتذہ پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔