تونس : سرکاری عمارتیں فوج کے سپرد ، گرفتاریاں 604 سے متجاوز

149
تیونس: مظاہرین نے آگ لگاکر سڑکیں بند کررکھی ہیں‘ پولیس اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں

 

تیونس شہر (انٹرنیشنل ڈیسک) تیونس کے دارالحکومت اور دیگر شہروں میں مسلسل دوسری رات پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد سرکاری عمارتیں فوج کے حوالے کردی گئی ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق 2 روز تک جاری رہنے والے پُرتشدد احتجاج کے بعد پیر کے روز سوسہ، سلیانہ، بنزرت اور قصرین صوبوں میں تمام سرکاری عمارتوں اور عوامی تنصیبات پر بھاری تعداد میں فوج تعینات کردی گئی ہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان 2 روز تک شدیدجھڑپیں جاری رہیں۔ اس دوران 600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے اکثر کی عمریں 20 سال سے کم ہے۔ داخلی سلامتی افواج کے ترجمان ولید حکمہ نے بتایا ہے کہ گرفتار شدہ لڑکوں اور کم سن بچوں نے لوگوں کی املاک میں توڑ پھوڑ کی ہے اور دکانوں اور بینکوں کو لوٹنے کی کوشش کی ہے۔ تیونس میں غربت، بدعنوانیوں اور بے انصافیوں کے خلاف عوامی انقلاب برپاہوئے ایک عشرہ ہونے کو ہے، لیکن سابق مطلق العنان صدر زین العابدین کی حکومت کے خاتمے کے 10 سال بعد بھی شمالی افریقا کے اس عرب ملک کی معیشت میں بہتری نہیں آئی ہے۔ البتہ اس دوران اس نے جمہوریت کی جانب ضرور پیش قدمی کی ہے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران کئی بار صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد ہوچکے ہیں۔ ان کے نتیجے میں انتقالِ اقتدارکا عمل پُرامن انداز میں مکمل ہوا ہے۔ سیاسی میدان میں اس بہتری کے باوجود اقتصادی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں اور ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اس وقت ملک کا دیوالا نکلنے کو ہے، جب کہ سرکاری خدمات کی حالت ابتر ہوچکی ہے۔