پلواما حملے کا بھانڈا پھوٹنے پر بھارت میں تہلکہ، تحقیقات کا مطالبہ

320

نئی دہلی ‘اسلام آباد(آن لائن+اے پی پی) پلواما حملے کا بھانڈا پھوٹنے پر بھارت میں تہلکہ مچ گیا ہے،بھارت میں متنازع اینکر ارنب گوسوامی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ہنگامہ مچ گیا ہے اور اسے چیٹ گیٹ کا نام دیا گیا ہے۔کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ارنب گوسوامی معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ٹی وی میزبان اور ری پبلک میڈیا نیٹ ورک کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کی اپنے ساتھی صحافی اور براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل (بارک) کے سابق سی ای او پارتھو داس کے ساتھ واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی ہے جس سے انکشاف ہوا ہے کہ اسے بھارت کے بہت سے خفیہ رازوں کا پہلے سے علم تھا اور پلواما حملے سے وہ اپنے چینل کی رینکنگ بڑھانے کی باتیں کررہا تھا۔اس چیٹ سے یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا کہ ارنب گوسوامی بالاکوٹ پر بھارتی حملے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات سیقبل سے ہی آگاہ تھا۔بھارت کے اندر ان انکشافات سے تہلکہ مچ گیا ہے اور لوگ سوال اٹھارہے ہیں کہ ایک ٹی وی اینکر کو کس طرح ملکی رازوں اور حساس معاملات تک رسائی حاصل ہوگئی جسے اس نے اپنی رینکنگ بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں نے بی جے پی حکومت سے معاملے کی مشترکہ پارلیمانی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریسی رہنما منیش تیواری نے کہا کہ اگر ارنب گوسوامی اسکینڈل میں سچائی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ 2019 ء کے عام انتخابات اور بالاکوٹ فضائی حملوں کے درمیان براہ راست تعلق ہے، کیا محض انتخابات جیتنے کے لیے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگایا جاسکتا ہے۔ سابق وزیر داخلہ پی چدم برم نے بھی کہا کہ اگر ایک صحافی اور اس کے دوست کو بالاکوٹ حملے کا 3روز قبل علم تھا تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ان کے ذرائع نے یہ خبر پاکستانی جاسوسوں کو نہیں بتائی ہوگی۔ششی تھارور نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے کہ ملکی دفاعی رازوں کو کس طرح تجارتی مقاصد کے لیے ٹی وی چینل کو فراہم کیا گیا جو کہہ رہا ہے کہ پلواما میں 40 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کو ہم بہترین انداز میں کیش کرائیں گے۔ ادھر شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور دیگر جماعتوں نے بھی معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ نیشنلسٹ کانگریس کے ترجمان مہیش تاپسی نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوس ناک اور صدمے کا باعث ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات کو ٹی آر پی اور ریٹنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھارتی سازش بے نقاب ہونے کے حوالے سے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ بھارت پلواما حملے کی آڑ میں کوئی چال چل سکتا ہے ،بالآخر بھارت کی وہ سازش بے نقاب ہو گئی ہے،بھارت اپنے سیاسی مقاصد اور اپنے داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے پورے خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلا ہوا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پلواما واقعے کے حوالے سے میرے بیانات آن ریکارڈ ہیں،ہم نے واضح کیا تھا کہ پلوامابھارت کی جانب سے ایک فالس فلیگ آپریشن ہے اور اس کی آڑ میں بھارت کوئی چال چل سکتا ہے ،مودی سرکار نے الیکشن جیتنے کے لیے اپنے ہی40 فوجیوں کی جان لے لی،ان40فوجیوں کی ہلاکت پر غمزدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے منظور نظر اینکر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ مودی کی جیت کے لیے زبردست چال ثابت ہو گی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی حکمراں اپنے سیاسی مقاصد اور اپنے داخلی معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے پورے خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں،ہم خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ ای یو ڈس انفولیب کے چشم کشا انکشافات نے بھارت کے ناپاک عزائم کی قلعی کھول دی ہے ، بھارت اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے ،ہم چاہتے ہیں دنیا ہمارے ڈوزئیر کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بھارت کے خلاف پیش کیے گئے ٹھوس شواہد کا جائزہ لے اور اسے ذمے دار ٹھہرائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت ہمارے میڈیا کی آزادی پر سوال اٹھاتا ہے مگر آج آر ایس ایس کے منشور پر گامزن، بی جے پی سرکار اور ان کے منظور نظر میڈیا کا گٹھ جوڑ کھل کر سب کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے ،کس طرح اہم خفیہ معلومات، قبل از وقت ایک اینکر کے پاس پہنچ سکتی ہیں، کیا یہ الیکشن ماحول کو سازگار بنانے کے لیے کوئی ’’پلانڈ لیک‘‘تھا، ہم ان سب نکات کو عالمی سطح پر بھر پور طریقے سے اٹھائیں گے ۔