پی ٹی آئی ایڈہاک بنیادوں پر ملک کو چلارہی ہے، سراج الحق

125

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پی ٹی آئی ایڈہاک بنیادوں پر ملک کو چلا رہی ہے، مشیر درآمد ہو رہے ہیں، ہسپتالوں میں ٹھیکیداری نظام مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، وزیراعظم کے تبدیلی کے نعرے کھوکھلے ثابت ہوئے، قوم کا وقت ضائع کیا گیا، بند کمروں میں عوام کی قسمت کے فیصلوں اور ایک یرغمال سیاسی نظام کے تحت جمہوریت کبھی مضبوط نہیں ہوسکتی، فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک آئی ایم ایف کا ہے یا بائیس کروڑ عوام کا، مایوسی اور اندھیروں سے نکلنا ہوگا،  انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد ڈی چوک میں پمز ہسپتال کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی جانب سے کیے گئے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ تعلیمی نظام کی تباہی کے بعد پی ٹی آئی نے ہیلتھ سیکٹر کو بھی بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا، ہسپتالوں میں غریب عوام کے لیے ڈسپرین کی گولی تک میسر نہیں۔ حکمران طبقہ خود تو اپنے علاج کے لیے باہر چلا جاتا ہے، لیکن غریب علاج کے لیے در در کے دکھے کھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو ٹھیکیداری نظام کے تحت چلانے کی سازشیں ہورہی ہیں، پی ٹی آئی کے kp میں ہیلتھ ریفارمز لانے کے دعوے فریب ثابت ہوئے اب وہ پورے ملک کے بچے کھچے نظام کو بھی تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ایڈہاک کی بنیاد پر ملک کو چلانے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوگی۔ الیکشن سے قبل وزیراعظم یہ دعوے کرتے تھے کہ ان کے پاس دو سو معاشی ماہرین کی ٹیم موجود ہے، لیکن ڈھائی برسوں کے بعد بھی وہ ٹیم نہیں نظر نہیں آئی۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ایف ایم ایف اور ورلڈ بنک کے اشاروں پر ملک کو چلایا جارہاہے، مشیر باہر سے درآمد ہورہے ہیں، قوم کو کچھ معلوم نہیں کہ ان کی تقدیر کے فیصلے کہاں پر لکھے جارہے ہیں، ایک یرغمال سیاسی نظام کے تحت ملک میں جمہوریت کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی، ملک پر آزادی کے بعد سے ایک ایسا طبقہ مسلط ہے جس نے عوامی فلاح و بہبود اور اداروں کے استحکام کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام نے مارشل لاز اور جمہوری حکومتوں کے ادوار کو بخوبی دیکھ لیا ہے، پی ٹی آئی کی حکومت تعلیم، صحت، خارجہ، داخلہ محاذوں پر بری طرح ناکام ہو گئی ہے، وزیراعظم نے ملک کو مدینہ کی ریاست میں تبدیل کرنے کے دعوے کیے لیکن آج لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں، ہسپتالوں میں بنیادی صحت کی سہولتیں دستیاب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کروڑوں لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، انصاف اور احتساب کے وعدے فریب ثابت ہوئے، حکومت نہ صرف کسی بھی شعبہ میں بہتری لانے میں ناکام ہوئی بلکہ اس نے اداروں کو مزید متنازعہ بنا یااور کمزور کیا۔ ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے گئے۔ مہنگائی و بے روزگار ی کے ریکارڈ قائم ہوئے۔ پڑھے لکھے نوجوان اپنی ڈگریاں جلا کر چوکوں میں مزدوری کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ لنگر خانوں کے باہر لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔

امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھنا چاہتی ہے۔ مایوسی اور اندھیروں سے نکلنا ہوگا۔ ملک کو پٹڑی پر چڑھانے کے لیے ایک انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہے۔جماعت اسلامی نے اسلامی پاکستان کی منزل کے حصول کے لیے تحریک کاآغاز پہلے ہی کردیاہے۔جس کے تحت kpk کے مختلف شہروں اور گجرانوالہ میں جلسے اور ریلیاں ہوئیں۔ آنے والے دنوں میں پنجاب میں تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ سرگودہا میں جلد بڑا جلسہ کریں گے۔ جماعت اسلامی کے کارکن تیار رہیں۔