ناروے میں کرونا ویکسین لگوانے والے 29 افراد ہلاک

293

اوسلو: یورپی ملک میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک لینے والے 29 افراد چند دن میں ہی جان سے چلے گئے، جس کی نارویجن حکومت نے بھی تصدیق کردی ہے۔

ترک نیوز ایجینسی انادولو کے مطابق ناروے میں کورونا ویکسینیشن کیلئے امریکی و جرمن کمپنی فائزر اور بائیو این ٹیک کی مشترکہ تیار کردہ ویکسین استعمال کی جارہی ہے اور اب تک 33 ہزار لوگوں کو ویکسین کی پہلی خوراک دی جاچکی ہے۔ ناروے کی حکومت نے ویکسین کا پہلا ڈوز لینے والے 29 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے، جبکہ مرنے والے 29 میں سے 13 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے جس کی رپورٹ کے مطابق ان افراد کی موت کورونا ویکسین کے سائڈ ایفیکٹس کی وجہ سے ہوئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مرنے والے تمام افراد کی عمریں 80 سے 90 سال کے درمیان تھیں اور یہ سب نرسنگ ہومز کے رہائشی تھے، نارویجن حکومت نے تنبیہ کی ہے کہ کورونا ویکسین بزرگ اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

نارویجن میڈیسن ایجنسی کے چیف فزیشن سیگار ہورٹیمو نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین لگنے کے بعد بخار اور متلی ہونا عام ہے اور پیچیدہ صحت کے مسائل رکھنے والوں کے لیے ویکسین کے اثرات مہلک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ 29 افراد کی موت کی بنیاد پر ویکسین کو غیر محفوظ قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم اب ڈاکٹروں کو ویکسین لگانے سے پہلے مزید باریک بینی سے صحت کا جائزہ لینا ہوگا۔