ضرورت یا عادت

61

روبینہ اعجاز،کراچی

افنان اور حنان سرد موسم کی رات میں خشک میوہ جات اور گرم کافی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔جو کہ کچھ دیر پہلے ان کی امی شازیہ نے موسم کی مناسبت سے ان کو دیے تھے ۔تھوڑی دیر کے بعد شازیہ ہاتھ میں ایک اور کافی کا کپ پکڑ کر اندر آئی اور اپنے شوہر کو کپ تھماتے ہوئے کہا۔ جو کہ کتابوں کے مطالعے میں منہمک تھے کہ گرم کافی پی لیجیے گا ایسا نہ ہو کہ یہ رکھی کے رکھی ٹھنڈی ہوجائے اور آپ مطالعہ میں مصروف رہیں۔ شازیہ اور بچوں کی طرف نظر ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا دراصل یہ جتنی کتابیں ہیں یہ سب میں ہی پڑھتا ہوں اور تو گھر میں کسی کو ٹائم ہی نہیں ہے۔ بچوں کو بھی اور تمھیں بھی جبکہ بچوں کی اچھی تربیت میں یہ اہم کردار ادا کریں گی۔
شازیہ کاشمار ان ماؤں میں ہوتا تھا جو اپنے بچوں کا دل و جان سےخیال رکھتی ہیں۔ سارا دن گھر کے کام کاج میں اس کی تزئین و آرائش میں ۔ کھانا پکانے میں وہ بھی بچوں کی صحت کے حوالے سے خاص خیال رکھتی۔مصروف رہتی ۔بازار جا کر اچھے سے اچھے خوبصورت سوٹ دونوں بیٹوں کے لیے لاتی ویسے بھی اس کے بچے ماشاللہ بہت خوبصورت تھے پھر ان کی اچھی صحت اور خوبصورت کپڑوں سے ان کی شخصیت اور نکھر جاتی۔
آج تیز بارش ہو رہی تھی شازیہ نے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا اللہ رحم کرے۔ تو دونوں بچے جو کے موبائل پرگیمز کھیل رہے تھے انھوں نے اپنی امی کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ امی آپ رحم کیوں مانگ رہی ہیں۔کتنا خوبصورت موسم ہو رہا ہے۔ اس بات کا جواب دینے کے لیے ابھی شازیہ نے منہ کھولا ہی تھا کہ دروازے پر اطلاعی گھنٹی کی آواز سے وہ اس طرف لپکی۔ دروازہ کھولا تو اس کی بڑی بہن نازیہ سامنے کھڑی تھی۔ارے باجی آپ اتنی تیز بارش میں کیسے آئیں۔اصل میں میں نے کل گھر میں درس رکھا ہے سوچا اس کا بلاوا بھی دے دوں اور کچھ خریداری بھی کرنی تھی ۔مگر ابھی راستے ہی میں تھی کہ تیز بارش نے آ لیا بس اللہ رحم کرے ۔ نازیہ نے قدرے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔ یہ بات سننی تھی کہ بچےہنسنے لگے کہ خالہ جان بھی ایسی باتیں کر رہی ہیں ۔شازیہ کی بہن نے بچوں کو آواز دی بچوں ادھر آؤ میرے پاس تم لوگ تو میرے پاس آئے ہی نہیں تو بچے بھاگتے ہوئے آئے تیز آواز سے مخاطب ہو کر بولے بتائیے کیا بات ہے ۔ اس پر نازیہ نے قدرے حیران ہوتے ہوئے کہا ارے کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو ؟نہ دعا نہ سلام ہاتھوں میں فون لیے گیم کھیلے جا رہے ہو ۔شازیہ ذرا کھسیانی ہو کر بولی۔ دراصل ان کی پڑھائی بھی آج کل آن لائن ہو رہی ہے اور اس لیے ہر وقت فون میں ہی منہمک رہتے ہیں۔ دوسری طرف کانوں میں ہیڈ فون لگا کر ان کی عادت اونچا بولنے کی ہو گئ ہے۔اصل میں کچھ دنوں سے پریشان تو وہ بھی تھی ۔اس نے اپنی بہن کا بازو پکڑا اور کھانے کی میز پر لے گئی۔نازیہ نے بچوں کو آواز دے کر بلایا کہ سب ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں۔کھانے میں لوکی گوشت دیکھ کر دونوں بچوں کے منہ بن گئے امی یہ آپ نے کیا پکایا ہے ۔لوکی کا مزہ کتنا خراب ہوتا ہے۔نازیہ نے سنتے ہی اعتراض کیا بچوں تمہیں پتا ہے ہمارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لوکی کتنی پسند تھی پھر اللہ تعالی نے جتنی چیزیں بھی انسان کے کھانے کے لیے بیدا کی ہیں سب ہمارے لیے کسی نہ کسی طرح فائدے مند ہوتی ہیں۔شام کو جاتے ہوئے نازیہ نےاپنی بہن شازیہ کو کہا مجھے فکر ہو رہی ہے تمہارے دونوں بچے مستقل فون لیے بیٹھے رہتے ہیں اور ان کے اخلاق و اطوار بھی مجھے کچھ صحیح نہیں لگ رہے ہیں۔
اونہہ دروازہ بند کر کےشازیہ بڑ بڑائی بہت نصیحت کر رہی ہیں باجی۔ آجکل تو سارے بچے ہی مصروف ہو چکے ہیں ۔
گھر اور بچوں کی مصروفیت میں شازیہ کو تو سارا دن سر کھجانے کی فرصت ہی نہیں ملتی تھی کہ وہ دوسری طرف بھی دیکھے۔
دوسرے دن شازیہ اپنی بہن کے گھر گئی ابھی درس شروع ہی ہوا تھا کہ اس میں سورہ لقمان کی آیات کے ترجمے کی تفصیل بتائی گئی۔احادیث کا بھی حوالہ دیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ بچوں کی تربیت کے لیے اسلامی معلومات دینا والدین کے لیے کتنا ضروری ہے اس کے لیے انہیں قرآن پاک سے معلومات دی جائیں ۔پیغمبروں کے قصے سنائے جائیں ۔واپسی پر گھر آتے ہوئے شازیہ نہایت نادم تھی اور اس کو اپنے بچوں کی طرف سے جو قلق تھا اس کا جواب مل چکا تھا۔