سیسی میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی

127

سندھ سوشل میں ایک بار پھر عدالت عظٰمی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے OPS آوٹ آف ٹرن پروموشن اور آوٹ آف کیڈر افسران کو تعینات کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ 2017 میں سیسی آفیسرز فیڈریشن کے کیس میں کمشنر سیسی نے باقاعدہ Affidavit سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروایا تھا کہ آئندہ ادارہ عدالت اعظمی کا فیصلوں کا احترام کرے گی اور احکامات کی خلاف ورزی نہیں کرے گی۔ اس غیر مشروط معافی پر ادارہ کو تنبیہ کرتے ہوئے عدالت نے تحریری فیصلہ میں لکھا تھا کہ آئندہ اگر ادارے نے ایسے کوئی احکامات جاری کرے تو مدعی عدالت کو آگاہ کرے۔ لیکن کچھ عرصے کی خاموشی کے بعد ایک ایک کر کے تمام من پسند افسران کو ایک بار پھر غیرقانونی طور پر پوسٹنگ دیدی گئی ہیں۔ جس میں ڈائریکٹر ایڈمن میڈیکل کی پوسٹ پر ایک ڈاکٹر محترمہ ملکہ بلوچ کو تعینات کیا گیا۔ جب کہ گریڈ 18 کے سینئر ڈائریکٹرز فیصل رشید، جمیل احمد، محمد نوید کو پوسٹنگ نہیں دی جارہی اور انہیں بغیر کسی کام لیے لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ مسلسل ایک سال سے دی جارہی ہے۔ اسی طرح سینئر ڈائریکٹر آفتاب عالم کو سیسی رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسپتال میں تعینات کردیا گیا ہے۔ جب کہ دس سال تک ملازمت سے غیر حاضر رہنے والی ڈاکٹر صاحبہ کو ناصرف غیرقانونی طور پر بحال کیا گیا بلکہ ان ڈاکٹر صاحبہ کو اسپتال میں پوسٹنگ کے بجائے ڈائریکٹر ایڈمن کی منافع بخش پوسٹ پر تعینات کیا گیا جو کہ سندھ کے محنت کشوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے کہ ایک طرف کو سیسی کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی شدید کمی ہے جب کہ اسی طرح مختلف دیگر ڈاکٹرز کو بھی ایڈمن، پروکیورمنٹ سمیت دیگر اہم پوسٹوں پر ڈائریکٹرز کی جگہ پوسٹ کیا گیا ہے اور ڈائریکٹرز کو OSD بنا دیا گیا۔ جب کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ نیب سیسی کے دو درجن سے زائد ڈاکٹرز کے خلاف اربوں روپے کے ریفرنس دائر کرچکی ہے۔ جس میں کچھ ملزمان گرفتار اور باقی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے ضمانتوں پر ہیں۔ دوسری جانب سائٹ ایسٹ ڈائریکٹوریٹ میں جونیئر موسٹ ڈپٹی ڈائریکٹر آصف داؤد کو تعینات کیا گیا ہے۔ جن کی تعیناتی کے بعد اس آفس نے صرف دو ماہ تین کروڑ سے زائد کا خسارہ کیا ہے جبکہ ماضی میں مختلف صنعت کار اور ان کی مختلف ایسوسی ایشن محترم کے حوالے سے کمشنر سیسی کو شکایات بھی کرتی رہی ہیں کہ وہ صنعت کاروں کو غیر ضروری طور حراساں کرتے ہیں۔ اسی طرح لانڈھی اور سکھر میں دو جونیئر افسران کو تعینات کیا گیا جو شاید اپنا ٹارگٹ تو مکمل کررہے ہیں لیکن ادارے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ سیکرٹری لیبر رشید سولنگی، وزیر محنت سعید غنی اور چیف سیکرٹری سندھ کو سوشل سیکورٹی ایمپلائز انسٹی ٹیوشن کی اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے اس سے قبل کہ عدالت یا نیب ان معاملات کا نوٹس لے۔