گیس کا بحران تشویشناک ہے‘ جنیدی

32

پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر اور سینئر مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی نے گیس کے شدید بحران پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کے آئینی حقوق کی پامالی کا سلسلہ فوری طورپر بند نہ کیا تو اس کے نتیجے میں سینکڑوں صنعتیں بند اور لاکھوں مزدور مزید بیروزگار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ وفاقی حکومت بلا کسی مربوط صنعتی پالیسی اور صوبوں کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ آمرانہ اقدامات اُٹھارہی ہے جس کے نتیجہ میں ایک جانب صوبوں کے آئینی حقوق پامال کیے جارہے ہیں تو دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی صوبہ، سندھ کا بدترین معاشی و اقتصادی استحصال کیا جارہا ہے۔ سینئر مزدور رہنما نے کہا کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے نتیجہ میں صرف صوبہ سندھ میں کئی لاکھ صنعتی و تجارتی مزدور اپنے روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور اگر وفاقی حکومت نے فوری طور پر سندھ میں گیس بحران کو ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کیا تو مزید کارخانے بند اور ڈیڑھ سے دو لاکھ صنعتی کارکنان کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجہ میں شدید سیاسی بے چینی اور بد امنی بھی جنم لے سکتی ہے۔ حبیب الدین جنید ی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہر مسئلہ انا پرستی اور ہٹ دھرمی سے حل نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے ردعمل میں بحران در بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک کو اقتصادی، صنعتی، تجارتی اور معاشرتی بحران سے بچانے کے لیے فوری طور پر سندھ میں گیس فراہمی کے مسئلہ کو حل کیا جائے اور صوبہ کے وسائل پر ناجائز قبضہ اور اُس کے عوام کے آئینی حقوق کی پامالی کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔