فارن فنڈنگ کیس میں ہمیں پھنسانے والے خود پھنس گئے، وزیر اطلاعات

165

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں ہمیں پھنسانے کی کوشش کرنے والے خود پھنس گئے ہیں، مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کو خود بتانا پڑ گیا ہے انہیں فنڈز کہاں سے ملتے ہیں، جلسوں اور جتھوں کے پیچھے چھپنے کی بجائے ممنوعہ فنڈنگ کا حساب دیں۔

اسلام آباد میں پارلیمانی سیکریٹری فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے  وزیر اطلاعات سینیٹرشبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے بارے میں سب کو علم ہے کہ وہ ایک چھتری تلے کیوں اکٹھے ہیں، وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی حکومتوں میں قوانین کو پامال کیا، وزیراعظم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ سب میرے خلاف اکٹھے ہو جائیں گے، اپنی حکومتوں میں انہوں نے اداروں کو مفلوج اور پامال کیا، پی ڈی ایم کا سفر دھمکیوں پر مبنی تھا مگر انہیں عوام سے پذیرائی نہیں ملی اور اب ایک تھی پی ڈی ایم کے موضوع پر ٹی وی پر پروگرام ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل اکثر جماعتوں نے اپنے تمام پتے کھیل لیے ہیں اور تمام میں انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اب جو یہ آخری پتا کھیل رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ کا گمان ہونے لگے،  پی ڈی ایم کی طرف سے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج ایک بھونڈی کوشش ہے،پی ڈی ایم اداروں کو دھمکانا چاہتی ہے، مولانا فضل الرحمن نے نیب کا نوٹس ملنے پر کہا کہ وہ پوری پارٹی کے ہمراہ وہاں احتجاج کریں گے، مولانا فضل الرحمن سمجھتے ہیں وہ جس ریاست کا حصہ نہیں وہ نامکمل ہے۔

شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ملنے والے فنڈز کے 40ہزار ناموں کی تفصیلات ہمارے پاس موجود ہیں، پی ٹی آئی نے اپنے تمام جوابات الیکشن کمیشن کو جمع کرا دیے ہیں، یہ ہمیں پھنساتے ہوئے خود پھنس گئے ہیں، اب مسلم لیگ (ن)اور پیپلز پارٹی کو خود بتانا پڑ گیا ہے انہیں فنڈز کہاں سے ملتے ہیں، اپوزیشن جماعتوں نے اسکروٹنی کمیٹی کو جواب ہی نہیں دیے، کل اپوزیشن کی پیشی ہے انہیں چاہیے وہ الیکشن کمیشن کو جواب دیں اور اپوزیشن جتھوں کے پیچھے چھپنے کے بجائے اپنا جواب اسکروٹنی کمیٹی کو جمع کرائے،الیکشن کمیشن بار بار دونوں جماعتوں سے فنڈز دینے والوں کے شناختی کارڈ اور پتے مانگتا رہا۔

الیکشن کمیشن ان سے سوال پوچھتا ہے تو لیت و لعل سے کام لیتے ہیں،الیکشن کمیشن  میں تفصیلات جمع کرائیں تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ جھوٹا اور فریبی کون ہے،جلسوں اور جتھوں کے پیچھے چھپنے کی بجائے ممنوعہ فنڈنگ کا حساب دیں۔انہوں نے کہا کہ من پسند فیصلے لینے والی دونوں جماعتوں نے ملک کو جاگیر بنایا ہوا تھا،ماضی میں دونوں جماعتوں نے  اداروں میں من پسند لوگ بٹھائے ہوئے تھے، اب ایک ایسا لیڈر آیا ہے جو ان سے ملک کے لوٹے ہوئے اثاثوں کا حساب مانگ رہا ہے۔

اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری ریلوے فرخ حبیب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو قانون اپنے فنڈز کا ریکارڈ رکھنے کا پابند کرتا ہے اور اس ریکارڈ کو دیکھ کر الیکشن کمیشن انہیں انتخابی نشان جاری کرتا ہے،فارن فنڈنگ کیس کسی ایک کا  نہیں تمام سیاسی جماعتوں سے متعلق ہے، پی ڈی ایم جماعتیں سکروٹنی کمیٹی کے سامنے کوئی بھی ریکارڈ نہ رکھ سکیں،الیکشن کمیشن کے فارم 1 کے مطابق ذرائع آمدن اور اخراجات کی تفصیلات بتانا ضروری ہے ،پی ڈی ایم جماعتوں  کا الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کس منہ سے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کرنے جارہی ہیں؟ دونوں کے بارے میں فنڈز کا کیس 4سال سے الیکشن کمیشن میں چل رہا ہے، ان جماعتوں کو بتانا ہے کہ ان کو ملنے والے فنڈز کہاں سے آتے رہے ہیں جبکہ اپوزیشن اس میچ کا کپ لینا چاہتی ہے جو اس نے کھیلا ہی نہیں۔ پیپلز پارٹی والے مارک سیگل کا تو بتائیں، مارک سیگل آصف زرداری کے بھی لابیسٹ تھے اور انہیں 60لاکھ ڈالر دیے گئے۔