وائٹ ہائوس سے ٹرمپ کا بوریا بستر سمٹنا شروع

220
واشنگٹن: امریکی صدر کی رہایش گاہ وائٹ ہاؤس سے ٹرمپ کا بوریا بستر سمیٹا جارہا ہے‘ مقرب مشیر پیٹر ناوارو بھی اپنی پسندیدہ تصویر اٹھائے جا رہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی رہایش گاہ وائٹ ہاؤس سے اپنا بوریا بستر سمیٹنا شروع کردیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ عجلت 20 جنوری کو نو منتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہ کرنے اور کچھ گھنٹے قبل ہی واشنگٹن چھوڑنے کے فیصلے کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری سے قبل ہی فلوریڈا میں اپنی مارالاگو نامی کوٹھی منتقل ہو جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے بکسوں اور کاٹنوں میں بند ٹرمپ کا ذاتی سامان وائٹ ہاؤس سے منتقل ہوتا دیکھا جارہا ہے۔ ساتھ ہی ٹرمپ کے مشیر بھی صدارتی رہایش گاہ سے اپنی ذاتی اشیا نکال رہے ہیں۔ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ جوبائیڈن کی حلف برداری تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ انہوں نے بائیڈن کو اقتدارسونپنے کا وعدہ تو کیا ہے، لیکن ابھی تک انہیں انتخابات میں جیت پر مبارک باد نہیں دی ہے۔ اس کی وجہ صدر ٹرمپ کا اپنی شکست کو انا کا مسئلہ بنانا ہے۔ اس غیرسنجیدہ رویے اور کیپٹل ہل میں حامیوں کی ہنگامہ آرائی نے ٹرمپ کی شہرت کو مزید داغ دار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے مسلح افواج کی جانب سے الوداعی تقریب بھی منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے منصب سے رخصت ہو جائیں گے۔ 2اعلیٰ سرکاری عہدے داروں بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کسی قسم کی عسکری الوداعی تقریب نہیں ہو گی۔ واضح رہے کہ صدر کی میزبانی کرنا کسی بھی فوجی اڈے کے لیے بڑا اعزاز شمار ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ فوج کے سامنے آخری بار 12 دسمبر کو ویسٹ پوائنٹ میں نظر آئے تھے۔ اس موقع پر بری اور بحری افواج کے بیچ ایک میچ کھیلا جا رہا تھا۔ صدر رونالڈ ریگن وہ پہلے صدر تھے، جنہوں نے 1989ء میں مسلح افواج کی جانب سے منعقد کی گئی الوداعی تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس کے بعد سے امریکا کے تمام صدور وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے سے قبل اس اعزازی تقریب میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ ادھر ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی آیندہ ہفتے ٹرمپ کیخلاف مراسلہ سینیٹ کو بھیجیں گی۔