بیلٹ اینڈ روڈ: ’’سمندروں، آسمانوں میں چھپے رستے‘‘

402

بیلٹ اینڈ روڈ کے سمندروں، آسمانوں میں چھپے رستے کی تفصیلات کا دنیا کو بہت کم علم ہے۔ ہم میں سے اکثر کا خیال ہے کہ بندرگاہوں سے بندرگاہوں اور زمینی راستے بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو کا مرکز رہیں گے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے دنیا کو خلا سے کنٹرول کرنے لیے چین نے سیٹلائٹ نیوی گیشن نظام (جی پی ایس) اور سمندروں میں آپٹک کیبل بچھا کر سی پیک کے تحت پاکستان اور دنیا بھر میں اپنے ڈیجیٹل اور گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کو محفوظ بنانے کا منصوبہ 28 دسمبر 2011ء کو دنیا کے سامنے رکھا جب چین نے ’’بیڈو نامی سیٹلائٹ نیوی گیشن نظام (جی پی ایس) کا 50فی صد کام مکمل کرلیا تھا‘‘۔ ڈیفنس پالیسی ویب سائٹ کی دو ہزار گیارہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر چین پر بحری حملہ ہو تو وہ اس نظام کی مدد سے ڈرون کے ذریعے سمندری جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ نیوی گیشن نظام سے سیٹلائٹ کنٹرول ہتھیاروں کو بھی ناکارہ بنایا اور ہتھیاروں کے سیٹلائٹ کنٹرول کو ختم بھی کیا جاسکے گا۔ جی پی ایس کی مدد سے فضاء سے فضاء، زمین سے زمین اور فضاء وزمین سے سمندری آبدوزوں اور سمندر میں چھپے اسلحہ کو بھی نشانہ اور اس کو ناکارہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
بیڈو نامی سیٹلائٹ نیوی گیشن نظام جس میں شروع میں چند سیارے تھے لیکن دنیا کی گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کو کنٹرول کرنے کے لیے 35سیاروں کو فضاء میں پہنچانے پر 2011ء سے کام میں تیزی پیدا کی گئی اور اب یہ کام مکمل ہو چکا اور دنیا کو پوری طرح کنٹرول کر نے کے لیے گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) ایک سے دو ہفتوں میں کا م کا آغاز کر دے گا جس کے بعد چین کا امریکا پر سیٹلائٹ نیوی گیشن نظام پر انحصار کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا۔ پاکستان 2020ء جون میں چینی سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم میں شامل ہونے والا پہلا ملک ہے۔ ایشیاء کے دوسرے علاقوں تک اس جی پی ایس نظام کو پھیلانے کے لیے بیجنگ نے سن دو ہزار بارہ تک مزید چھ سیٹلائٹ خلا میں بھیجے اس کے بعد دو ہزار بیس تک تقریباً پینتیس سیٹلائٹ کی مدد سے اس نظام کو عالمی سطح پر پھیلا دیا۔ اس نئے جی پی ایس نظام سے عام آدمی کو دس میٹر کے فاصلے تک صحیح مقام کا پتا ہو سکے گا۔ یہ نظام صفر اعشاریہ دو میٹر فی سیکنڈ تک رفتار اور صحیح وقت بھی بتائے گا لیکن چین کی فوج اس سے مزید ڈیٹا حاصل کر سکے گی۔ اس کے علا وہ ڈیجیٹل سلک روڈ کے لیے چین نے دنیا بھر کے سمندروں کے اندر 20آپٹک کیبل بچھانے کا کام شروع کیا تھا جس میں سے 16کیبل بچھائی جا چکی ہیں۔ اب تک چین جی پی ایس کے لیے امریکی نظام پر انحصار کرتا تھا اور اب اپنا نظام ہونے سے چین امریکا کی جانب سے اسے بند کیے جانے کی صورت میں پریشانی کا سامنا کرنے سے بچ جائے گا۔
موجودہ فائبر آپٹک نیٹ ورک، جس کے ذریعے پاکستان دنیا سے رابطے میں ہے، اب اس میں بھارت کی شراکت داری آگئی ہے، جس میں ممکنہ طور پر بھارت کی کچھ کمپنیاں شراکت دار ہیں یا پھر اس نیٹ ورک میں اسٹیک ہولڈر بھی ہیں۔ بھارت کی فائبر آپٹک نیٹ ورک میں شمولیت کے بعد سے پاکستان کے لیے بہت خطرہ پیدا ہو گیا ہے، خاص کر جب بات مواصلاتی نظام کی خفیہ نگرانی کی آتی ہو۔ جنوری 2020ء میں ڈائریکٹر جنرل اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) میجر جنرل عامر عظیم باجوہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آگاہ کیا تھا کہ پاکستان کے باہر سے آنے والا انٹرنیٹ ٹریفک پہلے بھارت اور پھر پاکستان کی طرف بھیجا جاتا ہے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ تاہم چین کا راستہ اختیار کرتے ہوئے پاکستان انٹرنیٹ کی دنیا میں بھارت سے متعلق خطرے کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ لیکن چینی انٹرنیٹ ماڈل کی وجہ سے پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کے لیے آزادی رائے کا خطرہ چین کی جانب سے بڑھ سکتا ہے۔
سی پیک کے تحت پاکستان کو ڈیجیٹل اور محفوظ بنانے کا منصوبہ کسی حد تک دستاویزات کی صورت میں موجود ہے۔ سی پیک منصوبے کا روڈ میپ جو نومبر 2013 سے دسمبر 2015 کے درمیان دونوں ممالک کے ماہرین کی جانب سے بنایا گیا۔ طویل المدتی منصوبے (ایل ٹی پی) کی دستاویزات پتا چلتا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے مؤثر مواصلاتی فریم ورک قائم کرنے کا منصوبہ ہے جس میں پاکستان اور چین کو آپس میں ملانے کے لیے فائبر آپٹک کیبل، انٹرنیٹ ٹریفک کے بہاؤ کے لیے ایک نیا سب میرین اسٹیشن اور ڈیجیٹل ٹیلی ویژن منصوبے شامل ہیں۔ دستاویزات میں 15 سالہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کا آغاز 2016 سے کیا جاچکا ہے جبکہ اختتام 2030 میں ہوگا۔ سی پیک ماسٹر پلان سے پاکستان اور چین کو درپیش مسائل سامنے آئیں گے۔ اس منصوبے سے مواصلات کا نظام بہتر ہوگا اور یہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں میں اضافہ کرے گا۔ منصوبہ جامع اسٹرٹیجک تعاون کو وسیع کرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تیز اور با اعتماد انٹرنیٹ رابطے کی ضرورت درپیش ہے جو یورپ، امریکا یا بھارت سے نہیں بلکہ سیدھا پاکستان سے چین پہنچے۔
ایل ٹی پی کے نفاذ سے نیٹ ورک پاکستان میں انٹرنیٹ براہِ راست داخل ہو جائے گا اور اس کی اسپیڈ بھی بڑھے گی خاص طور پر گلگت بلتستان اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں انٹرنیٹ نہ ہونے کے برابر ہے اور انٹرنیٹ کی قیمت پر بھی واضح فرق پڑے گا اور قیمتیں ناقابل یقین حد تک کم ہوجائیں گی۔ علاوہ ازیں فائبر آپٹک بچھائے جانے کے بعد پاکستان، چین کے ذریعے انٹرنیٹ کی دنیا سے رابطے میں ہوگا جبکہ زیرِ سمندر موجود فائبر آپٹک پر پاکستان کا انحصار کم ہو جائے گا۔ دستاویزات کے مطابق زیرِ آب موجود کیبل میں خرابی آنے کے باعث انٹرنیٹ کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ وسیع پیمانے پر اس نیٹ ورک سے وسط ایشیائی ممالک کو بھی کم قیمت میں بہتر انٹرنیٹ حاصل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ’بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو‘ کے ممالک سے رابطہ آسان اور سہل ہو جائے گا لیکن دنیا میں یہ روایت عام ہے کہ ملکوں کے درمیان دوستی اور دشمنی کے لیے وقت مقرر نہیں ہوتا اس لیے بھارت کے علاوہ دوسرے ملکوں سے دوستی میں بھی ملک کی بقا اور سلامتی کا ہر حال میں خیال رکھنا ریاست کی ذمے داری ہے اور وہ مکمل کنٹرول سے اپنی ذمے داری انجام دینے میں مصروف ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے ہوئی اور زمینی افواج کی آمد نظر آتی ہے لیکن سمندروں میں چھپے کیبلوں، اور آسمانوں میں پھیلی ہوئی ویب نظر سے اُوجھل لیکن بھیانک موت اور تباہی سے بھرپور ہوتی ہیں ان سے بچاؤ بھی بہت ضروری ہے۔