امریکا کی عالمی رسوائی (دوسراحصہ)

183

وینزویلا کی حکومت، جسے امریکا قانونی تسلیم نہیں کرتا، نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’’اپنی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے امریکیوں نے جو حالات دوسرے ملکوں میں پیدا کیے، آج وہ خود انہی افسوسناک حالات سے گزر رہے ہیں، یعنی یہ مکافاتِ عمل ہے‘‘۔ 2006ء میں فجی میں انقلاب لانے والے وزیر اعظم نے کہا: ’’آج ہم نے جو مناظر واشنگٹن میں دیکھے، یہ دنیا بھر میں جمہوریتوں کے لیے خطرہ ہیں، سچی اور اصلی جمہوریت ایک قیمتی دولت ہے، جو کسی بھی قوم کو خیرات میں نہیں ملتی، ہمیں یقین ہے کہ امریکا میں یہ بدصورت باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگا‘‘۔ نو منتخب امریکی صدر بائڈن نے کہا: ’’آج امریکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو تشدد پر اکسایا‘‘۔ سابق خاتون اول مشیل اوباما نے کہا: ’’امریکی مرکزِ اقتدار کی بے حرمتی کی گئی، حیرت ہے دسیوں لاکھوں امریکیوں نے ایک ایسے شخص کو ووٹ دیا جو اپنی انا کی خاطر ہماری جمہوریت کو شعلوں کی نذر کرنا چاہتا ہے‘‘۔ دارالعوام کی اسپیکر نینسی پلوسی نے کہا: ’’ٹرمپ کو ایوان صدر سے نکال دینا چاہیے‘‘۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے نائب صدر سے کہا: ’’دستور کی پچیسویں ترمیم کے تحت ٹرمپ کو صدارت سے نکال دیں‘‘۔ امریکی سینیٹ میں ری پبلکن لیڈر مچ مکونل نے ایوان میں کھڑے ہوکر کہا: ’’اگر آج ہم نے اپنے ووٹرز، عدالتوں اور ریاستوں کے انتخابی فیصلوںکو ردّ کردیا تو ہم اپنی جمہوریہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے، اگر آج ہم نے ایسا کیا تو آئندہ عوام کبھی بھی انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے‘‘۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا: ’’کل ہم نے امریکا میں جوکچھ دیکھا، اس سے واضح ہوگیا کہ مغربی جمہوریت تباہ ہوچکی ہے۔ سابق اٹارنی جنرل بل برنے کہا: ’’ٹرمپ کا اقدام اپنے منصب اور حامیوں سے دھوکا تھا‘‘۔
جو بائیڈن نے کہا: ’’میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ٹی وی پر آئیں اور اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے آئین کا تحفظ کریں، کیپٹل ہل میں گھس جانا، کھڑکیاں توڑنا، امریکی سینیٹ کے دفاتر پر قبضہ کرنا اور منتخب اراکین کے لیے خطرہ بننا، احتجاج نہیں، بغاوت ہے‘‘۔ جو بائیڈن کے اس پیغام کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ایک وڈیو پیغام میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر صدارتی انتخاب چوری کیے جانے کا الزام دہراتے ہوئے کیپیٹل ہل کے اندر اور باہر موجود اپنے حامی مظاہرین سے اپنے گھروں کو لوٹ جانے کا مطالبہ کیا۔ اپنے وڈیو پیغام میں انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا: ’’مجھے معلوم ہے آپ تکلیف میں ہیں، آپ کو دکھ ہوا ہے، ہم سے الیکشن چرایا گیا ہے، یہ ہر کوئی جانتا ہے، خاص طور پر دوسری جانب والے، لیکن اب آپ کو گھر جانا ہو گا، ہمیں امن حاصل کرنا ہو گا، ہمیں آئین اور قانون نافذ کرنا ہوگا‘‘۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا: ’’میں نے عمارت کو محفوظ بنانے اور گھسنے والوں کو بے دخل کرنے کے لیے فوری طور پر نیشنل گارڈز اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو تعینات کیا، میری مہم نے انتخابی نتائج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر قانونی راستہ اپنانے کی بھر پور کوشش کی۔ میرا واحد مقصد ووٹوں کی سالمیت کو یقینی بنانا تھا، 20جنوری کو ایک نئی انتظامیہ کی شروعات ہوگی، میری توجہ اب اقتدار کی منظم اور بلا رکاوٹ تبدیلی کو یقینی بنانے پر ہے‘‘۔
Capitol Hill پر حملوں کی تاریخ: 1814ء میں برطانوی فوج نے کیپٹل ہل کی بلڈنگ کو جلانے کی کوشش کی تھی، حملہ آوروں نے پہلے بلڈنگ کو لوٹا اور پھر شمالی اور جنوبی حصوں میں آگ لگادی، 1915ء میں ہارڈورڈ یونیورسٹی کے جرمن نژاد پروفیسر ایرک میوٹرنے جرمنی کے دشمنوں کو امریکی اسلحہ بیچنے پر احتجاج کرنے کے لیے کیپٹل ہل میں بارود رکھا تھا، 1954ء میں پورٹوریکو کے قوم پرست گروپ نے کیپٹل ہل پر حملہ کیا، اس میںکانگریس کے پانچ ارکان زخمی ہوئے تھے، 1971ء میں بائیں بازوکے شدت پسندوں نے جنوب مشرقی ایشیا میں امریکی فوج کی موجودگی کے خلاف کیپٹل ہل کے واش روم میں بم رکھنے کی ذمے داری قبول کی تھی، حالیہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، باون افراد گرفتار ہوئے اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔
دارالعوام کی ایک قرارداد کے ذریعے نائب صدر مائک پنس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پچیسیویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوے ٹرمپ کو صدارت سے فارغ کردیں، مگر انہوں نے دارالعوام کی اسپیکر کو لکھا: ’’میرے نزدیک پچیسیویں آئینی ترمیم ہمارے آئین کی روح کے منافی ہے، اس سے غلط روایت قائم ہوگی، میں یقین دلاتا ہوں کہ انتقالِ اقتدارنیک نیتی سے ہوگا، میں موجودہ صورتِ حال میں سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بنوں گا‘‘۔ دارالعوام میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کی جاچکی ہے کہ ٹرمپ کا ایوان صدر میں مزید رہنا قومی سلامتی، جمہوریت اور آئین کے لیے خطرے کا باعث ہے، وائٹ ہائوس کے ذرائع نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر بیس ری پبلکن ارکان کانگریس قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے۔ ہم نے یہ جائزہ اس لیے پیش کیا ہے تاکہ ہمارے قارئین کو معلوم ہوکہ آج روس، چین، وینزویلا اور فجی کے رہنما بھی امریکا کو جمہوریت کا درس دے رہے ہیں، امریکا کے لیے اس سے بڑھ کر رسوائی اور کیا ہوگی، نیز وہ یہ بھی باور کرارہے ہیں: ’’اے بادِصبا! ایں ہمہ آوردئہ تست‘‘، یعنی تم نے جوکچھ دوسروں کے لیے بویا تھا، آج اس کی تیار فصل تمہیں خود کاٹنی پڑ رہی ہے۔
(جاری ہے)