حقوق کراچی تحریک ، بد حال ضلع وسطی میں فیملی کی ہمراہ احتجاج و دھرنا ، دوبارہ مردم شماری کا مطالبہ

207

کراچی(اسٹاف رپورٹر) مردم شماری دوبارہ کرانے ، کوٹا سسٹم کے خاتمے ، با اختیار شہری حکومت و فوری بلدیاتی انتخابات اور شہر کے گمبھیر مسائل کے حل کے لیے جاری جماعت اسلامی کی ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ کے سلسلے میں اور بالخصوص ضلع وسطی کی بد حالی ، رہائشی اور تجارتی مراکز میں چھوٹے دکانداروں ، تاجروں اور عام شہریوں کی مشکلات و پریشانیوں سے نجات کے لیے ہفتے کے روز فائیو اسٹار چورنگی تا حیدری مارکیٹ تک فیملی کے ہمراہ احتجاجی مارچ کیا گیا ، جس کی قیادت جماعت اسلامی ضلع وسطی کے عبوری امیر وجیہ حسن نے کی ۔ بعد ازاں حیدری مارکیٹکے سامنے دھرنا بھی دیا گیا جس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، سیدوجیہ حسن ،حیدری مارکیٹ کے صدر اختر شاہد،لیاقت آباد مارکیٹ کے صدر سید سرفراز احمد اور دیگر نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے ۔ فائیو اسٹار چورنگی پر استقبالیہ کیمپ میں بڑا بینر لگایا گیا تھا ، جس پر ’’بدحال ڈسٹرکٹ سینٹرل ، شہر کا لاوارث ضلع ، ہر پارک اور کھیل کے میدان پر قبضہ ، بلڈرزمافیا کاراج ، کچرے کے ڈھیر ، ٹوٹی سڑکیں ، اُبلتے گٹر اور آوارہ کتے ‘‘ درج تھا۔ احتجاجی مارچ و دھرنے میں خواتین ، بچوں ، بزرگوں، نوجوانوں ، چھوٹے دکانداروں اور تاجروں سمیت مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ شرکا نے ہاتھوں میں بڑے بڑے بینرز و پلے کارڈز اور جماعت اسلامی کے جھنڈے بھی اُٹھائے ہوئے تھے ۔بچوں نے زرد رنگ کے غبارے اُٹھائے ہوئے تھے جن پر ’’حق دو کراچی کو‘‘ تحریر تھا ۔ شرکا نے کراچی کے جائزو قانونی حقوق ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے پُر جوش نعرے بھی لگائے ۔ جن میں یہ نعرے شامل تھے ۔’’حق دو کراچی کو ، پورا ٹیکس اور آدھی گنتی نامنظور نامنظور،3 کروڑ عوام کا نعرہ مردم شماری دوبارہ‘ وفاق کے ارادے چکناچور آدھی گنتی نامنظور، وفاق کا خواب چکنا چور آدھی گنتی نامنظور ، لولی پاپ نہیں بااختیار شہری حکومت، کوٹا سسٹم ختم کرو، پورا ٹیکس اور آدھی گنتی نامنظور ، کراچی کے نوجوان بے روزگار کیوں؟، اتحادی جماعتوں کی سیاست بازی نہیں چلے گی ، کراچی کا مطالبہ مردم شماری دوبارہ‘‘۔ حیدری مارکیٹ پر دھرنے کے لیے بڑا پنڈال تیار گیا تھا اور بڑے پیمانے پر لائٹنگ اور سائونڈ سسٹم کا انتظام کیا گیا تھا ۔ بزرگوں کے لیے کرسیاں اور خواتین کے لیے ایک الگ حصہ مختص کیا گیا تھا ،دھرنا رات گئے تک جاری رہا ۔حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک 3 کروڑ عوام کے دل کی آواز اور ترجمان ہے ۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے کراچی کے مفادات کے خلاف اتحاد کیا ہوا ہے ، حکمران جماعتیں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف پوائنٹ اسکور نگ کر رہی ہیں ۔ حقو ق کراچی تحریک کے سلسلے میں (آج)اتوار 17جنوری کو شام 4:30بجے الہ دین پارک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کے3 کروڑ عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق دینے اور شہر کے گمبھیر مسائل کے حل کے لیے کراچی میں دو بارہ مردم شماری کرائی جائے ، کوٹا سسٹم ختم کیا جائے ، کراچی کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں ان کا حق دیا جائے ، ان کو سندھ حکومت اور مقامی اداروں میں ترجیحی بنیاد پر ملازمتیں دی جائیں ، کراچی میں بااختیار شہری حکومت کے لیے موجودہ لوکل باڈی ایکٹ ختم کر کے فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جائے ، کے الیکٹرک کا 15سال کا فرانزک آڈٹ کیا جائے اور قومی اداروں اور عوام کے اربوں روپے واپس کرائے جائیں ، گرین لائن سسٹم کو فی الفور فعال بناتے ہوئے شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے کم از کم 1ہزار بسیں فوری طور چلائی جائیں۔ ملک کے سب سے بڑے شہر میں ٹرانسپورٹ کا عملاً کوئی نظام نہیں ، لوگ چنگ چی رکشوں اور کوچوں کی چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں ، صرف ایک گرین لائن منصوبہ تک مکمل ہونے کو نہیں آرہا ، ماضی میں شہر کے اندر کے ٹی سی کی ہزاروں بسیں چلتی تھیں ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے مل کر پورا ادارہ تباہ کر دیا ، کے ٹی سی جب بند ہوئی اس وقت سندھ میں ایم کیو ایم کا وزیر ٹرانسپورٹ ہو تا تھا ، 1999ء میں سرکلر ریلوے بند ہو ئی اس وقت بھی ایم کیو ایم عروج پر تھی ۔انہوں نے کہا کہ پیکجز کے نام پر کراچی کے عوام کے ساتھ مسلسل دھوکا کیا جا رہا ہے، حکمران پارٹیوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کر رکھا ہے ، پیپلز پارٹی برسوں سے مسلسل کراچی دشمنی کا مظاہرہ کر رہی ہے ، ایم کیو ایم اقتدار کے مزے تو لیتی ہے لیکن کراچی کے بنیادی اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کچھ نہیں کرتی ، پی ٹی آئی نے بھی ڈھائی سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کراچی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا بلکہ اس نے اور ایم کیو ایم نے مل کر پہلے کوٹا سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ کرکے اور پھر جعلی اور متنازع مردم شماری کی منظوری دے کر کراچی دشمنی کی انتہا کر دی ۔ نواز لیگ کے دور میں ہونے والی مردم شماری میں کراچی کے ساتھ بڑا فراڈ ہوا اور ہماری آدھی آبادی کو غائب کر دیا گیا ، پی ٹی آئی نے بھی اس مردم شماری کو درست نہیں کیا اور کراچی کے ساتھ مزید ظلم و زیادتی اور حق تلفی کی راہ ہموار کی ، اس ظلم و زیادتی اور حق تلفی پر ایم کیو ایم نے خاموشی اختیار کی اور وہ ہنوز وفاقی حکومت میں شامل ہے ، پیپلز پارٹی بھی کراچی سے صرف وسائل لینے اور لوٹ مار و کرپشن کرنے کے لیے تو آگے آجاتی ہے لیکن جب 3 کروڑ شہریوں کے جائز اور قانونی حق کی بات کی جائے تو عصبیت کا مظاہرہ کرتی ہے ، سید وجیہ حسن نے کہا کہ کراچی سے منتخب ہونے والی جماعتوں نے کراچی کو اون کرنے سے انکار کردیا ہے۔ حکومت میں بیٹھے افراد کو کراچی کے عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی نے ہمیشہ کراچی کے بنیادی مسائل کو اُجاگر کیا ہے۔ اس وقت کوٹا سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ ، کراچی کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتیں نہ ملنا، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ، کوئی بھی سیاسی جماعت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے میدان میں نہیں ہے۔ ڈسٹرکٹ سینٹرل سے منتخب ہونے والے یہاں کے مسائل تک کو نہیں جانتے۔ صوبے کی متعصب حکومت نے ایسے لوگوں کو ڈسٹرکٹ سینٹرل میں تعینات کیا ہے جنہیں ٹوٹی ہوئی سڑکیں، اُبلتے گٹر نظر نہیں آتے، سیوریج کا نظام تباہ حال ہے، دن دیہاڑے ضلع وسطی میں پولیس تھانے کے سامنے چوری و ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔صبح سویرے آوارہ کتوں کی بہتات کی وجہ سے لوگوں کا نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے بچوں کے لیے پارک اور میدان موجود نہیں ہے۔ اس وقت صوبے میں وڈیرہ شاہی نظام چل رہا ہے اگر کراچی کا پیسہ کراچی میں خرچ نہیں ہورہا تو لاڑکانہ اور سکھر میں بھی ترقیاتی کام نہیں ہورہے ۔ جماعت اسلامی وہ واحد جماعت ہے جو ڈسٹرکٹ سینٹرل سمیت پورے کراچی کا واحد سہارا ہے۔ عوام جماعت اسلامی کا دست و بازو بنیں۔حیدری مارکیٹ کے صدر اختر شاہدنے کہا کہ کراچی کے اہم ترین مسائل کو اُجاگر کرنے پر ہم جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ کراچی کے عوام اور تاجر برادری جماعت اسلامی کی تحریک کے مطالبات جو کراچی کے عوام کے دل کی آواز ہیں کو منوانے کی جدوجہد میں بھرپور طریقے سے ساتھ دیں گے۔لیاقت آباد مارکیٹ کے صدر سید سرفراز احمد نے کہا کہ جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں جو لاک ڈائون کے دوران مارکیٹوں اور دکانداروں کے ساتھ کھڑی رہی اور آج بھی ہمارے مسائل حل کرنے کے لیے میدان عمل میں موجود ہے۔ لیاقت آباد مارکیٹ کے دکاندار اورتاجر برادری جماعت اسلامی کے ساتھ ہے۔