چینی عوام نے ثابت کردیا جمہوریت کے بغیر معاشی ، سیاسی اور فوجی طاقت بنا جاسکتا ہے

295

 

کراچی (رپورٹ \محمد علی فاروق) ترقی کے لیے جمہوریت ضروری نہیں‘ چین کی ترقی آمریت کی مرہون منت نہیں‘ ترقی میں دیانتداری اور محنت کا عنصر بھی شامل ہے ‘چین نے نظم وضبط کو برقرار رکھتے ہوئے آبادی کی زیادتی کو ایک قوت کے طور پر استعمال کیا‘ ترقی وخوشحالی اور فلاح و بہبود کا تعلق جمہوریت سے نہیں بلکہ انسانی مساوات سے ہے اور معاشی مساوات کا یہی نظریہ چین میں بھی کسی حد تک رائج ہے‘ چین میں مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ قائم ہے‘ یعنی اس کو مزدور طبقے کی آمریت بھی کہا جا سکتا ہے‘ دنیا میں جمہوریت کے جتنے بھی ماڈل ہیں اس میں پارلیمان اصل قوت ہے‘ اسلامی جمہوریت میں اصل قوت حاکمیت اعلیٰ اللہ رب العالمین کی ذات ہے‘ دین اسلام کی برکات سے زمین وآسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں‘ چین میں
کیپٹل ازم اور کیموازم کے مشترکا ملاپ سے بنے والا نظام ( کیپی کو ن) موجود ہے‘ چینی عوام نے اظہار رائے اور جمہوریت کی قربانی دی ‘ اس قربانی کے نتیجے میں 40 کروڑ عوام گزشتہ50 سال میں دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گئے‘ اس طرح چینی عوام نے ثابت کر دیا کہ جمہوریت کے بغیر بھی ایک معاشی، سیاسی اور فوجی طاقت بنا جا سکتا ہے جبکہ چین کی آزادی رائے کی پابندی ان کے چہرے کو داغ دار کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، بین الاقوامی امور کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر اور پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے جسارت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اس سوال کے جواب میںکیا کہ ’’کیا چین کی ترقی نے ثابت کر دیا ہے کہ ترقی کے لیے جمہوریت ضروری نہیںہے ؟‘‘ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ یہ بات اپنی جگہ مستحکم ہے کہ ترقی محض جمہوریت کے ساتھ مشروط نہیں‘ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے دیا نتدار، مخلص، محنتی قیادت اور نظریے کی ضرورت ہوتی ہے‘ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چین کی ترقی آمریت کی مرہون منت ہے‘ چین کی ترقی میں دیانتداری اور محنت کا عنصر بھی شامل ہے‘ جمہوریت بحرحال اپنی جگہ ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں احتساب اور رائے کا اشتراک ہوتا ہے جس کی وجہ سے ملک بہتر طریقے سے اپنے معاملات ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ترقی کا راز محض ایک جمہوریت نہ ہونے میں تلاش نہ کیا جائے دیگر عوامل بھی اس میں کار فرما ہیں جن میں دیانتدار قیادت اور آبادی کی زیادتی کو ایک قوت کے طور پر استعما ل کرنے کے ساتھ نظم وضبط بھی شامل ہے ‘ چین کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ وہاں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے حالات انتہائی ناخوش گوار ہیں جو ان کی ترقی کو ماند کر رہے ہیں‘ ان پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے‘ چین کی آزادی رائے کی پابندیاں ان کے چہرے کو داغ دار کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جنہوں نے جمہوریت کے ہوتے ہوئے ترقی کی ہے‘ بعض عناصر یہ بات ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ترقی کے لیے جمہوریت زیادہ ضروری نہیں ہے اس کے بغیر بھی گزارہ ہو سکتا ہے‘ ترقی کے لیے حالات اور واقعات کو دیکھنا لازمی ہے‘ پاکستان میں دین اسلام کی برکات ہیں‘ اس پر عمل کرنے سے زمین و آسما ن کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت میں حاکمیت اعلیٰ رب العالمین کی ذات ہے‘ دنیا میں جمہوریت کے جتنے بھی ماڈل ہیں ان میں پارلیمان اصل قوت ہے‘ پھر اس میں ایک لازمی حصہ اطاعت رسولؐکا ہے جو پاکستان کے سسٹم کی بہترین بنیا د ہے‘ تیسری بات خوف خدا کا قیادت میں ہونا لازمی جز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نظام میں جمہوریت اپنا ایک مقام رکھتی ہے‘ زبردستی مسلط ہونا ملوکیت اور بادشاہت ہے جس کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے‘ یہاں حکمران عوام کی آزاد مرضی کے ساتھ ان کے امور کا ذمے دار بنتا ہے اور سود سے پاک معیشت کو استوار کر تا ہے‘ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے نظریے کے مطابق اپنا نظام زندگی اپنائیں۔ پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ چین نے ثابت کر دیا کہ جمہورت کے بغیر ترقی ہو سکتی ہے‘ چین میں کبھی بھی جمہوریت نہیں رہی‘ ایک مفروضہ ہے کہ جمہوریت ترقی کی راہیں استوار کرتی ہے اور اس سے معاشی، سماجی، سیاسی ترقی اور استحکام کی راہیں کھلتی ہیں مگر یہ مفروضہ ہر بار درست ثابت نہیں ہوتا‘ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم دنیا کے کس خطے میں رہتے ہیں اور وہاں کے حالات واقعات کس طرح کے ہیں‘ مغربی ممالک میں جمہوریت نے اپنے پائوں جمانے میں ایک لمبا عرصہ لگایا ہے‘ جمہوریت میں پارلیمانی نظام ہو یا صدارتی نظام اس کی قیادت کیسی ہے؟ کوئی بھی نظام جمہوریت، آمریت، بادشاہت، مورثیت ، سوشل ازم، کیموازم، یا دیگر نظام اس وقت درست سمت میں کا م کرتے ہیں جب عوام کو بنیادی سہولیات میسر ہوں‘ جب ریاست میں امن وامان، سلامتی اور عوام کی جان و مال محفوظ ہو‘ کسی بھی نظام میں عوام کے مسائل کا حل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نظام اس ریاست کی ترقی کا راز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں جمہوریت پر تجربات ہوتے رہے ہیں‘ اس میں ملٹی پارٹی نظام ہے‘ کمیونسٹ پارٹی میں یک جماعتی نظام ہے جو جمہوریت کی نفی کر تا ہے‘ چین کے یک جماعتی نظام کو عوام نے بادل ناخواستہ قبول کیا ہوا ہے‘ چین میں موزتن کی قیادت میں 1949ء میں انقلاب آیا‘ چین ایک کیمونسٹ ملک بھی ہے اور وہاں سرمایہ داری نظام بھی موجود ہے یعنی کیپٹل ازم اور کیموازم کے مشترکا ملاپ سے بنے والا نظام جسے (کیپی کون) کہا جاتا ہے‘ 1966ء میں چینی کیمونسٹ پارٹی نے اسمبلی میں کلچر پر قرارداد منظور کرنے پر اپنا کر دارادا کیا‘ انہوں نے اظہار رائے اور جمہوریت کی قربانی دی اور اس قربانی کے نتیجے میں عوام گزشتہ 50 سال میں دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گئے جس میں زرمبادلہ کے ذخائر 3 ٹریلین ڈالر سے زاید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی کیمونسٹ پارٹی نے طے کیا ہے کہ وہ گورباچوف کی طرح غلطی نہیںکریںگے‘ وہ اپنے ملک میں سیاسی آزادی نہیں دیںگے جبکہ عوام کو ہر قسم کی معاشی آزادی دی جائے گی اور چین کے عوام کو کمیونسٹ پارٹی کے نظام میں رہنا ہوگا‘ اس حوالے سے مزاحمت کی گئی تو پھر ریا ست حرکت میں آئے گی‘ چین کی اکثریت نے اس بات کو تسلیم کر لیا‘ چین کے عوام نے کہا کہ انہیں معاشی استحکام اور امن چاہیے‘ لاقانونیت نہیں‘ اس طرح چین کے عوام نے یہ بات ثابت کر دی کہ تر قی کے لیے جمہوریت کی اہمیت نہیں‘جمہوریت کے بغیر بھی وہ ایک معاشی، سیاسی اور فوجی طاقت بن سکتے ہیں۔ تاج حیدر نے کہا کہ مجھے اس بات کا بہت پہلے سے ادراک ہے کہ دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال میں پاکستان چائنا کے بلاک میں ہی جائے گا کیونکہ ہم جیسے بھی ہیں‘ اچھے یا برے۔ ہمارے پاس مساوات انسانی اور بھائی چارے کا نظریہ امریکا سے بہتر ہے‘ ترقی، فلاح اور خوشحالی کا تعلق جمہوریت سے نہیں بلکہ انسانی مساوات سے ہے‘ معاشی مساوات کا یہی نظریہ چین میں بھی کسی حد تک رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل چین میں غیر جمہوری نظام نہیں ہے بلکہ چائنا میں اپنی نوعیت کی ایک الگ جمہوریت قائم ہے اس جمہوریت کی بنیادی بات یہ ہے کہ اس میں مزدوروں کی ڈکٹیٹر شپ قائم ہے‘ یعنی اس کو مزدور طبقے کی آمریت بھی کہا جا سکتا ہے ‘ جمہوریت جہد مسلسل کا نام ہے جو ایک فرد اور اقوام کو معاشی اور سماجی ترقی کی راہ پر لے جاتی ہے اور بنیادی انسانی حقوق اور آزادی کا احترام سکھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ دارانہ آمریت چند افراد کی بہت سے افراد پر حاکمیت ہے جبکہ مزدور طبقے کی آمریت بہت سے افراد کی چند افرا د پر حاکمیت ہے‘ اس وقت پاکستان کو بھی امریکا اور چائنا میں سے کسی ایک کے نظام کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور اب ہمارے پاس چائنا کے ساتھ کھڑے ہونے کے علاوہ کو ئی اور راستہ نہیںہے‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھی معاشی مساوات کو اپنانا پڑے گا‘ اگر ایسا نہیں ہوگا تو پاکستان کی معاشی ترقی رک جا ئے گی‘ ہمارے مذہب میں بھی یہ ہے کہ سرمایہ کو گردش میں رہنا چاہیے‘ سرمایہ معاشرے میں اس طرح ہے جیسے بدن میں خون‘ اگر خون گردش کرتا ر ہے تو زندگی قائم رہتی ہے‘ جیسے بدن میں خون روک جائے تو زندگی کا خاتمہ ہو جا تا ہے‘ اگر سرمایہ چند ہاتھوں میں روک جائے تو انسانی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے‘ ہمارے مذہب نے ہمیں عقیدہ توحید سے سر فراز کیا ہے اورکچھ اصول دیے ہیں‘ اس میں انسانی مساوات اور انسانی آزادی بنیادی اہمیت کی حامل ہے‘ ان پر توحید کے دائرے میں رہ کر ہی عمل پیرا ہوا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان آزاد ہے‘ اللہ کے سب بندے ہیں اس لیے انسانوں میں مساوات کا ایک رشتہ بر قرار ہے‘ ہر جمہوری آئین میں انسانی آزادی اور مساوات بنیادی حیثیت کے حامل ہیں‘ چین کی ترقی بھی معاشی مساوات کے نظریے پر کھڑی ہے۔