تعلیمی ادارے18 جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان

186

اسلام آباد : وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے ملک بھرمیں تعلیمی ادارے 18 جنوری بروز پیر سے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کردیا  ہے جبکہ اس سال کسی بچے کو امتحان کے بغیر پاس نہیں کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے جمعے کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک بھرمیں تعلیمی ادارے18 جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پہلے مرحلے میں نویں سے 12ویں جماعت کی کلاسوں کا آغاز ہو گا۔

وزیرتعلیم کا کہنا تھا کہ 9، 10، 11 اور 12 کلاسز کا تعلیمی سلسلہ پیر 18 جنوری کو شروع کردیا جائے گا جبکہ جبکہ پرائمری سے مڈل کی کلاسیں 25 جنوری کے بجائے یکم فروری سے کھلیں گی۔

وفاقی وزیرِ تعلیم نے بتایا کہ پرائمری سے 8 ویں تک کی کلاسوں کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کے تعلیمی ادارے بھی یکم فروری سے کھلیں گے جبکہ مختلف شہروں میں انفیکشن کا ریٹ مختلف ہے اور اگلے ہفتے تمام صورتِ حال پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

 دوسری جانب وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ 15 ستمبر کو تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس وقت بیماری لگنے کا ریٹ 1 اعشاریہ 9 کے قریب تھا جبکہ 26 نومبر کو تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا تو کورونا وائرس کی مثبت شرح 7 اعشاریہ 14 ہو گئی تھی اور پچھلے 8 ماہ کے دوران تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم نے بتایا کہ ماہرین نے بتایا تھا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے مثبت شرح کم ہوگی جبکہ کورونا وائرس کی مثبت شرح 7 اعشاریہ 14 سے کم ہوکر 6 اعشاریہ 10 ہو گئی ہے۔

پریس کانفرنس سے پہلے  وفاقی وزیر تعلیم  شفقت محمود کی زیرصدارت وزرائے تعلیم اور وزرائے صحت کا اجلاس ہوا ، جس میں کورونا کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اجلاس میں اسکول کھولنے سے متعلق صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔

واضح رہے گزشتہ اجلاس میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور فیصلہ ہوا تھا کہ 18 جنوری کو نویں، دسویں، گیارویں اور بارہویں کے طلبہ تعلیمی اداروں میں جاسکیں گے۔

شفقت محمود کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ تعلیم کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ صحت کی بنیاد پر کیا جائے گا، طلبہ کی بہبود ہمیشہ اولین ترجیح ہو گی۔

شفقت محمود نے بتایا کہ ہمارے ہاں انفیکشن کے کی شرح مختلف شہروں میں مختلف ہے، زیادہ آبادی والے شہروں لاہور، کراچی، پشاور، حیدرآباد میں کورونا کا پھیلاو زیادہ نظر آتا ہے اور دورے شہروں میں کم آتا ہے۔

شفقت محمود نے یہ بھی بتایا کہ اگلے ہفتے ہم نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر میں سارے ڈیٹا کا دوبارہ سے جائزہ لیں گے اور اس چیز پر غور کیا جائے گا کہ پہلی تاریخ کو وہ شہر جہاں پر کورونا کا پھیلاؤ زیادہ ہے، انہیں ابھی نہ کھولا جائیں اور ایک سمارٹ اپروچ پر غور ہو گا۔

شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ ممکن ہے، اگر کسی شہر میں وائرس کا پھیلاؤ بہت زیادہ ہے تو وہاں پر تعلیمی ادارے نہ کھولے جائیں اور باقی جگہوں پر کھول دیے جائیں۔

یاد رہے تعلیمی ادارے کورونا کے باعث نومبر میں بند کئے گئے تھے، دسمبر کے آخری ہفتے سے 10 جنوری 2021 تک تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلا ت کا اعلان کیا گیا تھا۔