مندر نذرآتش، غفلت برتنے پر ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکار برطرف

112

ڈی پی او کرک نے مندر جلائے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے والے پولیس اہلکاروں کو نوکری سے نکالنے کے احکامات جاری کردیے۔

ایس ایچ او تھانا ٹیری رحمت اللہ اور اے ایس آئی تھانا بانڈہ مجیب اللہ فارغ ہونے والوں میں شامل ہیں۔ ڈی پی او کرک کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت پولیس اہلکاروں کی بزدلی،غیرذمے داری اورغفلت ثابت ہوئی ہے۔

ڈی پی او کے مطابق انکوائری آفیسر نے ایس پی ایف آر پی کوہاٹ کو 28 فرنٹیئرریزرو پولیس کو سزائیں دینے کی سفارش کی ہے۔

نوجنوری کو انسپکٹرجنر ل (آئی جی) خیبرپختونخوا پولیس ثنا اللہ عباسی نےبتایا تھا کہ کرک میں مندر مسمار کرنے میں ملوث اہم ملزم مولانا فیض اللہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملزم نے مندر مسمار کرنے کے لیے لوگوں کو اکھٹا کرنے میں معاونت کی تھی۔ثنااللہ عباسی نے بتایا کہ مندر کو مسمار کرنے میں ملوث 110 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کرک کے علاقے ٹیری میں مشتعل ہجوم کی طرف سے مسمار کیے گئے مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت منہدم مندر کی جلد تعمیر یقینی بنا ئے گی جس کیلیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے خیبر پختوخوا حکومت کو کرک میں جلائے گئے مندر کی بحالی کے اخراجات ذمے داروں سے وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔