زرعی قوانین کے خلاف، بھارتی کسانوں کا احتجاج 50 ویں روز بھی جاری

102

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے مودی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے نفاذ کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے کے باوجود کسانوں کا نئے زرعی قوانین کے خلاف اور فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت کو قانونی حیثیت دینے کے مطالبہ کو تسلیم کرانے کیلئے احتجاج بدھ کو50 ویں روز بھی جاری رہا۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت کی کسان تنظیموں نے اپنے مطالبات کو پورا ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا ہے  جبکہ اس سے قبل بھارتی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز مودی حکومت کے تینوں نئے زرعی قوانین پر عمل درآمد کو اگلے احکامات تک معطل کرنے اور ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

 کسان رہنماوں کا کہنا تھاکہ تینوں قوانین واپس لئے جانے تک کسان انجمنوں کا احتجاج جاری رہے گا جبکہ بھارتی کسانوں کی تنظیموں اور حکومت کے مابین اب تک کئی بار مذاکرات ہوچکے ہیں۔

خیال رہے بھارتی کسانوں نے دہلی کو ریاست اترپردیش سے ملانے والی متعدد شاہراہوں پر دھرنا دے رکھا ہے جبکہ انتظامیہ نے کسانوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے کئی مقامات پر شاہراہوں کو بند کردیا ہے۔

بھارت کی ریاستوں اترپردیش، پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور دیگر ریاستوں کے ہزاروں کسان دہلی کے باہر مختلف شاہراہوں پر سخت سردی کے باوجود کئی ہفتوں سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

 کسانوں کے دھرنا سے دہلی اور ملک کی کئی ریاستوں میں معمول کی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں جبکہ اس سے قبل بھارتی دارالحکومت کے مضافات میں ٹریکٹر مارچ نکالے گئے تھے جن میں پنجاب ، ہریانہ ، اترپردیش اور راجستھان کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کسان شامل ہوئے۔

بھارت کی کسان تنظمیں تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں اور کسان رہنماں نے اعلان کیا ہے کہ شدید سردی کے باوجود دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک جاری رہے گی جبکہ کسانوں کی تحریک کو مختلف تنظیموں کی بھی حمایت مل رہی ہے۔

واضح رہے بھارتی حکومت زرعی اصلاحات قوانین پر نقطہ وار بات چیت کرنا چاہتی ہے جبکہ کسان تنظیمیں تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے مطالبہ پر قائم ہیں اور نئے زرعی قوانین کی مسنوخی کے معاملے پر کسانوں کے احتجاج میں حالیہ دنوں میں شدت آئی ہے۔

یاد رہے بھارتی پارلیمنٹ نے حال ہی میں زراعت کے متعلق تین نئے قانون پاس کئے تھے، ملک بھر میں کسان تنظیمیں ان قوانین کی سخت مخالفت کررہی ہیں۔