دنیا کا سب سے مہنگا زہر

323

لندن: دنیا کا سب سے مہنگا زہر بچھوئوں کی ایک قسم ‘لیوریئس کوانکوسٹیریئس’ میں پایا جاتا ہے جسے جان لینے والا بچھو بھی کہتے ہیں اگرایک بار کوئی اس بچھو کے زہر کا نشانہ بن گیا تو اسے بچانا نہایت مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ اس بچھو کا زہر دنیا میں سب سے مہنگا ہے۔

دنیا کا مہنگا ترین زہر اب 5 گیلن کی شکل میں 5 ارب 85 کروڑ روپے میں دستیاب ہے۔

ڈیتھ سٹاکر کہلانے والے اس خطرناک ترین بچھو کا تعلق بچھوئوں کے خاندان ‘بوتھائی ڈی’ سے ہے جبکہ اسے اسرائیلی اور فلسطینی بچھو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے خطرناک بچھو ہے جسے لیوریئس کوانکوسٹیریئس کا نام اس کی دم پر موجود 5 حصوں کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ یہ بچھو اپنے قیمتی زہر کی وجہ سے دنیا بھر میں مقبول ہے اور اس کے ایک لٹر زہر کی قیمت تقریباً 10.5 ملین ڈالر (1 ارب 10 کروڑ 63 لاکھ پاکستانی روپے) ہے اور خطرناک ہونے کیساتھ ساتھ اس بچھو کا زہر بہت کارآمد بھی ہے۔

یہ زہر ایک خاص قسم کے بچھو کا ہے۔ بچھو کا زہر سائنسی تحقیق، تجربہ گاہوں اور ادویہ سازی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس خاص بچھو کے ایک گیلن (پونے 4 لیٹر) کی قیمت 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہے یعنی پاکستانی روپوں میں 5 ارب 85 کروڑ روپے تک ہے۔

دنیا میں ایک بچھو پایا جاتا ہے جسے ‘ڈیتھ اسٹاکر’ بچھو کہا جاتا ہے۔ اس کا زہر دنیا کا مہنگا ترین مائع ہے اور اس کا زہر انتہائی مہلک بھی ہے۔ اس بچھو کا کاٹا مکھی کے ڈنک سے 100 گنا تکلیف دہ ہوتا ہے اور بچوں اور بڑوں کو فوری طور پر مارڈالتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ڈیٹھ اسٹاکر کا زہر کئی طرح کے پیچیدہ کیمیکل سے مل کر بنا ہوتا ہے اور اسی بنا پر دنیا بھر کے ماہرین اس کے زہر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ڈیتھ اسٹاکر بچھو کے زہر میں پیپٹائڈ کلورو ٹاکسن پایا جاتا ہے جو سرطانی دماغی رسولی کے علاج میں کام آتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ ذیابیطس کے علاج اور انسولین سازی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سائنس داں اور طبی ماہرین اس زہر میں غیرمعمولی دلچسپی لے رہے ہیں۔

لیکن اول تو ان بچھوؤں کی تعداد بہت کم ہے اور دوم ایک بالغ بچھو ایک وقت میں صرف دو ملی گرام زہر ہی فراہم کرتا ہے اور اسی وجہ سے اس کی قیمت ہوش رُبا ہے۔ ایک مرتبہ زہرنکالنے کے دو سے تین ہفتے بعد ہی بچھودوبارہ اتنا زہر بناپاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا کا مہنگا ترین زہر کہا جاتا ہے۔