روئی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

232

اسلام آباد: پاکستان میں روئی کی قیمتیں ریکارڈ اضافے کے ساتھ پچھلے 11 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  روئی کی قیمت 11 ہزار روپے فی من تک پہنچ گئی ہے، چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق تقریباً 30 سال بعد نئی ٹیکسٹائل ملز اور پاور لومز کا قیام عمل میں آرہا ہے۔

عمدہ ترین (پریمئم کوالٹی) کی روئی کی قیمتیں 100 روپے فی من اضافے کے ساتھ نئی بلند ترین سطح 11 ہزار روپے فی من تک پہنچ گئی ہے جبکہ ریگولر(عام) روئی کی قیمت 100 روپے فی من اضافے کے ساتھ 9 ہزار 800 روپے فی من ہو گئی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کہا کہ ٹیکسٹائل ملز کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

احسان الحق کا کہناتھا کہ حکومت کو کاٹن زونز میں گنے کی کاشت پر پابندی عائد کرنی چاہیے، کاٹن زونز میں گنا کاشت نہ ہو تو سالانہ اربوں ڈالر کی روئی اور خوردنی تیل درآمد نہیں کرنا پڑے گا۔

خیال رہے سال2020 میں پاکستان بالخصوص زیریں سندھ کے علاقوں میں شدید گرمی پڑنے کے سبب کپاس کی ایک تہائی فصل خراب ہوگئی تھی جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تحفظ خوراک اینڈ ریسرچ کو بتایا گیا تھا کہ مالی سال 2019۔20 کے دوران کپاس کی ڈیڑھ کروڑ کی بجائے ایک کروڑ گانٹھوں کی پیداوار متوقع ہے۔

چیئرمین کمیٹی کے مطابق گزشتہ سال موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کپاس کی فصل تباہ ہو گئی ہے جس کی وجہ سے مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں ہوسکی ہے۔