انڈونیشیا طیارہ حادثہ: بوئنگ 737 کا بلیک باکسز مل گیا

189

انڈونیشیا کے امدادی کارکنوں کو سمندر میں مسافر بردار طیارے بوئنگ 737 کا بلیک باکس مل گیا ہے جبکہ طیارے کے حادثے وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے اور طیارے میں 50 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار موجود تھے جن میں 7 بچے اور 3 نومولود بچے بھی شامل تھے ۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کی نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے طیارے کے دو بلیک باکسز کی شناخت ہوئی ہے جنہیں جلد نکال لیا جائے گا۔

واضح رہے ہفتے کے روز وری وجائیا ایئر کا طیارہ جکارتہ سے پونتیانک جا رہا تھا لیکن ٹیک آف کے چار منٹ بعد ہی حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا تھا جبکہ طیارے میں عملے سمیت 62 افراد سوار تھے جن میں دس بچے بھی شامل تھے۔

طیارے تباہ ہونے کے فوری بعد ہی سرچ آپریشن شروع ہو گیا تھا اور امدادی کارکنوں کو ملبہ اور انسانی اعضا ملے تھے جنہیں نکال لیا گیا ہے جبکہ طیارے کے حادثے وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

ترجمان جکارتہ پولیس یسری یونس کہ آج صبح تک ہمیں دو بیگز ملے ہیں اور ایک مسافر کے سامان کے ساتھ اور ایک میں انسانی اعضا تھے جبکہ مسافروں کا سامان اور اعضا بڑے پیمانے پر کیے گئے سرچ آپریشن کے بعد ملے ہیں۔

خیال رہے غمزدہ رشتے داروں نے طیارے سے متعلق خبروں کے لیے ایئرپورٹ پر ہی انتظار کیا جبکہ یمن زائی کا روتے ہوئے کہناتھا کہ اس طیارے میں ان کے خاندان کے چار افراد موجود تھے جس میں میری اہلیہ اور تین بچے سوار تھے اور  میری اہلیہ نے میرے چھوٹے بچے کی تصویر مجھے بھیجی تھی، میرا دل کیسے نہ پھٹے؟

بین الاقوامی  رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا کے ٹرانسپورٹیشن کے وزیر کاریا سمادی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ طیارے کے کریش ہونے کے ممکنہ مقام کی نشاندہی کے بعد حکام نے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب تھاؤزنڈ آئی لینڈ کے مچھیروں کے مطابق دوپہر 2 بج کر 36 منٹ پر ایک دھماکے کی آواز سنی تھی جبکہ مچھیرے سولوہن کا کہنا ہے کہ تیز بارش ہو رہی تھی اور موسم بھی خراب تھا  اس وجہ سے اردگرد دیکھنا مشکل تھا۔

ہم نے دھماکے کی آواز سنی اور سمندر ایک بڑی لہر دیکھی اور ہمیں بہت صدمہ ہوا جب ہم نے طیارے کا ملبہ اور ایندھن اپنی کشتی کے پاس دیکھا۔

یاد رہے نجی ایئرلائن کے طیارےبوئنگ 737 کا ٹیک آف کے 4 منٹ بعد کنٹرول ٹاور سےرابطہ منقطع ہوگیا  تھا اور   طیارے میں 50 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار   موجود تھے جن میں 7 بچے اور 3 نومولود بچے بھی شامل تھے جبکہ نجی ایئرلائن  کا طیارہ جکارتا سے انڈونیشیا ہی کے شہر پونٹی یانک جارہاتھا  اور  10000 فٹ سے زیادہ اونچائی پرموجود تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔