اسلامو فوبیا اور مغربی میڈیا کی مسلم دشمنی

388

آج کے جدید دور میں عسکری، معاشی اور علمی قوتوں کے ساتھ میڈیا بھی طاقت کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ روایتی جنگیں مخصوص اوقات اور مقامات پر لڑی جاتی تھیں، مگر آج کے دور کی جنگیں ہر وقت اور ہر مقام پر لڑی جا رہی ہیں۔ ان جنگوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے علاوہ میڈیا بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے لگا ہے۔ عسکری طاقت جہاں انسانوں کا وجود مٹانے کے لیے استعمال ہورہی ہے، وہاں میڈیا کی طاقت کو انسانی ذہن، سوچ اور عقائد بدلنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے نظریات اور خیالات تبدیل کرنے کے لیے میڈیا ایک ایسی جنگ مسلط کرتا ہے جس کی حقیقت کو جاننا بہت مشکل ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں مغربی میڈیا نے شناخت کے خلاف ایک ایسی جنگ چھیڑی ہے جس کے متاثرین میں صرف دین اسلام کے پیروکار ہیں۔ اسلام دشمنی میں بڑے پیمانے پر ہیجان اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے میڈیا ایک ذریعے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ میڈیا پر جرائم اور دہشت گردی کی رپورٹنگ کرتے وقت اسلامی اصطلاحات کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ اسلام کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا ہو۔ ان اصطلاحات کو دینی و مذہبی سیاق و سباق سے ہٹا کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ان کے اصل معنی و مفہوم پس منظر میں چلے جائیں اور میڈیا کے ذریعے تخلیق کردہ نئے معنی مقبول ہو جائیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے خلاف خوف پھیلانے کے لیے میڈیا پر جو گمراہ کن بیان بازی اورغلط بیانی کی جاتی ہے اسے عرف عام میں اسلاموفوبیا کہتے ہیں۔
میڈیا ہائوسز کے ذریعے پھیلائے جانے والے ’’عمومی تصور اسلام‘‘ میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اسلام کے تمام ماننے والے ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں۔ اس عمل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد مغرب میں مسلمانوں کو معاشرے سے کاٹ کر الگ کرنا، دیوار سے لگانا اوردنیا بھر کے مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ اسلام کا یہ عمومی تصور مغرب کی تخلیق ہے جو ’’غیر مغرب ثقافتوں‘‘ کو خود سے متضاد اور متصادم دکھاتا ہے۔ اسی پر عمل کرتے ہوئےغیر ملکیوں کو اجنبی، عجیب، پسماندہ اورغیر معقول گروہوں کے طور پر پیش کیا اور سمجھا جاتا ہے۔ اس کامشاہدہ کسی مسلمان شخص کے جرم یا دہشت گردی وغیرہ میں ملوث پائے جانے پر کیا جاسکتا ہے جب مسلمانوں کی اکثریت اس کے جرائم سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہو لیکن پھر بھی پوری امت مسلمہ کو زبردستی اس دہشت گردی کے جرم سے جوڑا جائے۔
اسلام کے ماننے والوں میں کئی مکاتب فکر، متنوع آبادیاںاور بے شمار ثقافتوں کے حامل افراد و گروہ موجود ہیں، جنہیں بنیادی عقائد اور ایمان کے حوالے سے تو ایک امت مسلمہ کہا جا سکتا ہے لیکن ہر حوالے سے ایک عمومی شناخت کے اندر نہیں لایا جا سکتا۔ دنیا کے کسی اصول کے تحت بھی کسی ایک فرد، افراد یا گروہ کے اعمال کے ذمے دار دیگر افراد اور گروہ نہیں ہو سکتے۔ اسلام کے تمام پیروکاروں کو ایک عمومی شناخت دیتے ہوئے، میڈیا جب کسی فرد یا چند افراد کے اعمال کا ذمے دار پوری امت کو ٹھیراتا ہے تو یہ تمام مسلمانوں کے ساتھ جرم کرنے والے شخص کی مذہبی شناخت پر بھی ایک حملہ ہوتاہے۔ مثال کے طور پر نیویارک میں نائن الیون حملے کے 6 ماہ کے اند مغربی میڈیا میں شائع ہونےوالے تمام مضامین اورخبروں میں حملہ آوروں کی شناخت مسلم کے طور پر بتائی گئی۔ اس عمل سے میڈیا نے اپنے وسائل اور اثر رسوخ کی وسعت کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے تنوع اور امتیازات کو نظر انداز کرکے چند افراد کے جرم کو پوری امت مسلمہ کے سر پر ڈال دیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد منفی نتائج پیدا کیے گئے اور ان میں سب سے اہم منفی نتیجہ ’’اسلاموفوبیا‘‘ ہے۔
مغرب کے تخلیق کردہ ’’عمومی تصور اسلام‘‘ کی بنیاد مسلم اکثریتی علاقوں کی ان ثقافتی علامات پر ہے، جن کا دین، شریعت اور اسلامی اصولوں سے کوئی تعلق نہیں۔ مغربی ممالک کی تاریخ اور پس منظر میں بھی یہی ثقافتی علامات پائی جاتی ہیں لیکن آج کے مغرب کی نظر میں یہ ناپسندیدہ ہیں۔ مغربی میڈیا عموماً مشرق وسطیٰ و سعودی عرب یا دیگر مسلم اکثریتی ممالک مثلاً ایران، افغانستان، افریقی و ایشیائی مسلم ممالک کی قومی ثقافت، ملکی قوانین اور رسوم و رواج میں سے کچھ انتہائی قسم کے عناصر کو جوڑ کر ایک عمومی مذہب تخلیق کرتا ہے اور پھر دنیا بھر کو باور کراتا ہے یہی اسلام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر مسلم قومی ریاست کا اپنا ایک پس منظر اور کلچر ہے اوربہت سی مسلم ریاستوں میں بے شمار ثقافتوں کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ان ثقافتی علامات میں موجود اختلافات کا انکار کرتے ہوئے ان میں سے کچھ ناپسندیدہ علامات کو اسلام کی نمایندہ علامات کے طور پر پیش کرنا انتہائی درجے کی بددیانتی اور تعصب کے سوا کچھ نہیں۔
پروفیسر رضا اصلان نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ لوگ ڈیڑھ ارب سے زیادہ افراد کے مذہب کی بات کرتےہیں تو ان مسلمانوں کو ایک ہی برش سے رنگتے ہیں جو بہت آسان کام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مذہب پر تشدد نہیں ہوتا، یہ سب تو کسی فرد یا چند افراد کا ذاتی فعل اور رویہ ہوتا ہے جو کسی بھی مذہب کو قبول کر سکتے ہیں۔ جس طرح کسی عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ مذہب کے ماننے والوں کے کسی فعل کا ذمے دار ان کا مذہب نہیں، بالکل اِسی طرح کسی مسلمان کے انفرادی فعل کا ذمے دار بھی اس کا مذہب نہیں ہو سکتا۔ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہر نظریہ اور عقیدہ کے ماننے والے کرتے ہیں، تاہم میڈیا مذہبی پس منظر صرف اس وقت بیان کرتا ہے جب کوئی ملزم یا مجرم مسلمان ہوتا ہے۔ اگر یہی شخص کسی دوسرے مذہب کا ماننے والا ہو تو اس کی مذہبی شناخت نہیں بتائی جاتی اور نہ ہی اس پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ مثلاً دسمبر 2014ء میں امریکا کے سینڈی ہوک ایلیمنٹری اسکول، نیو ٹائون میں حملہ آور سفید فام کیتھولک عیسائی تھا اور اس نے 20 بچوں کو قتل کیا، لیکن میڈیا نے اس کی مذہبی شناخت اور پس منظر پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔
مغربی میڈیا کے ایک اور تعصب کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اس غلط فہمی کو تو پھیلا تا ہے کہ مسلمان حملہ آور ہیں، جن کا شکار دیگر لوگ ہیں، لیکن کبھی یہ نہیں بتاتا کہ کسی حملے کے نتیجے میں متاثر ہونے والوں میں بھی مسلمان شامل ہیں۔ مثلاً جس روزپیرس میں داعش نے حملہ کیا، اسی روز بیروت میں بھی ایک بم دھماکے میں 43 افراد جاں بحق ہوئے جو مسلمان تھے۔ بیروت کے واقعے کا تذکرہ تو میڈیا میں کیا گیا، لیکن اس کی تشہیر کی وہ سطح نہیں تھی جو پیرس میں ہونے والے حملوں کی تھی اور دسری بات یہ کہ پیرس کے حملوں میں بار بار یہ بتایا جا رہا تھا کہ حملہ آور مذہب اسلام کے پیروکار تھے لیکن بیروت کے مرنے والوں کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ بھی اسلام کے ماننے والے تھے۔ میڈیا رپورٹوں میں غیر مسلموں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کے احترام کو نہیں۔ میڈیا خصوصاً مغربی ذرائع ابلاغ کا یہی تعصب اسلاموفوبیا کے پھیلائو میں مدد فراہم کرتا ہے۔
نائن الیون کے بعد فورٹ ہڈ شوٹنگ، کئی ہوائی اڈوں پر دھماکے اور بوسٹن میراتھون بمبنگ، فرانس کے چارلی ہیبڈو حملے وغیرہ جیسے واقعات کو ذرائع ابلاغ میں بہت زیادہ توجہ ملی۔ ان سب میں مشتبہ افراد کی شناخت مسلمان کے طور پر بتائی گئی حالاں کہ ملزمان کی مذہبی شناخت اور پس منظر کو اجاگر کرنا خبر کا تقاضا نہیں تھا۔ اگر مذہبی شناخت کو بیان کرنا خبر کے لیے ضروری ہوتا تو دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گرد ی میں بھی ان کی مذہبی شناخت بتائی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص جان دے کر دہشت گردی کی کارروائی کو روکنے کی کوشش کرے تو اس کی شناخت بھی نہیں بتائی جاتی مثلاً 6 جنوری 2014ء کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں ابراہیم زئی اسکول میں جب ایک خودکش بمبار نے اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ایک طالب علم اعتزاز حسن بنگش نے دیکھتے ہی اس پر چھلانگ لگا دی۔ اعتزاز حسن کی جان کی قربانی سے سیکڑوں طالب علموں کی جانیں محفوظ رہیں۔ میڈیا کو چاہیے تھا کہ اعتزاز احسن کا مذہبی پس منظر بیان کرتا اور بتاتا کہ اسلام کے ایک پیروکار نے جان دے کر خود کش بمبار کے دھماکے کی وسیع تباہی کو کیسے ناکام بنایا، لیکن مغربی میڈیا نے اس کی مذہبی شناخت کا اظہار تو درکنار، اس کی قربانی کا اعتراف کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اس سے مغربی میڈیا کا تعصب واضح ہوتا ہے کہ وہ صرف ان واقعات ہی کو اجاگر کرتا ہے جو اس کے پروپیگنڈے کی حمایت اور اسلاموفوبیا کے لیے دلیل کے طورپر پیش ہو سکتے ہیں۔
اسلام سے وابستہ امور کی میڈیا کوریج، اس صدی کے آغاز ہی سے مقدارو معیار کےلحاظ سے ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکا کے زیر قیادت وار آن ٹیرر کےدوران پوری دنیا میں سب سے زیادہ پھیلایاجانے والا گمراہ کن تصور یہ ہے کہ امت مسلمہ ایک باغی جماعت ہے۔ مسلمان ہونے کا لازمی مطلب عسکریت پسند یا دہشت گرد ہونا ہے کیوں کہ مذہب اسلام دہشت گردی کی نمایندگی کرتا ہے۔ مثلاً کنیڈا، ٹورنٹو دہشت گردی کیس میں 18 افراد کو گرفتار کیا گیا اور اس دوران میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا جاتا رہا کہ دہشت گردی ایک حقیقی خطرہ ہے، کنیڈا کے نوجوانوں کو مساجد اور انٹرنیٹ کے ذریعے اسلامی بنیاد پرست بنایا جا رہا ہے اور کنیڈین پولیس بمشکل ان کے ایک حملے کو ہی ناکام بنا سکی ہے۔
مغرب کے ماس میڈیا ڈسکورس میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے عوام کی ایک خاص طرح کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ امت مسلمہ کو دہشت گرد جماعت ثابت کرنے کے لیے اسلامی اصطلاحات کی من مانی تعبیر و تشریح کرتے ہوئے انہیں توڑ موڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ میڈیا ہائوسز، زیادہ تراسلامی پس منظر رکھنے والی تحریکوں کے بارے میں رپورٹنگ کرتے وقت ان اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں اور ان سے قارئین و ناظرین کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کی حمایت کرنے والا مذہب ہے۔ مغرب سمیت دنیا بھر میں اس موضوع پر ہونے والی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسلام سے متعلق خبروں کی کوریج کے دوران استعمال کی جانے والی اسلامی اصطلاحات کی میڈیا تعبیر سے محققین، اسکالرزاور مذہبی ماہرین اتفاق نہیں کرتے۔
یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان اصطلاحات کو ان کے اصل مفہوم کی پروا کیے بغیر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صوررتحال میں یہ اصطلاحات اپنے اصل معنی کھو کر میڈیا کی تعبیر اپنا لیتی ہیں اور لوگ اصل مفہوم پر غور کیے بغیر میڈیا کے تخلیق کردہ مطالب کو درست مان لیتے ہیں۔
ان اصطلاحات کے مطالعے کی غرض سے کی جانے والی ایک تحقیق میں ملائیشین محقیقین زین بانی یونس و اسحاق حسن نے عرب میڈیا سے اردن ٹائمز، الجزیرہ اور مغربی میڈیا سے بی بی سی اور دی گارڈین کا انتخاب کیا۔ ان اداروں کے 2018ء سے لے کر 2019ء تک کے 368 مضامین جمع کیے گئے، جن میں یہ اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ اس تحقیق میں مشرقی و مغربی میڈیا ڈسکورس میں استعمال ہونے والی اسلامی اصطلاحات کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس مطالعے کی خاص توجہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں رہی ہے کہ مشرقی و مغربی ذرائع ابلاغ دہشت گردی وغیرہ کو اسلام کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے، اصل سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی اصطلاحات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ مشرقی میڈیا کی نسبت مغربی میڈیا میں اسلام پسندی اور جہاد کی اصطلاحات کو منفی سیاق و سباق میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
ان محققین نے استدلال کیا کہ اسلام سے متعلق اصطلاحات کو منفی معنوں میں بیان کرنے سے مسلمانوں کے بارے میں ایک تعصب، دقیانوسی خیالات اور نفرت ابھارنے کا عمل تقویت پاتا ہے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد میڈیا نے اسلام سے متعلق خبروں پر جن مختلف اصطلاحات کوتخلیق کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ توجہ دی ہے ان میں اسلامی دہشت گردی، اسلامی جنونیت، مسلم انتہا پسندی وغیرہ شامل ہیں۔ اسلام کو بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کے رجحان کے ساتھ جب کسی خبر کی اسٹوری میں اس قسم کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں تو وہ میڈیا کے متن کا ایک حصہ بن جاتی ہیں۔ اور ان کی غلط تعبیر پیش کرنے کے نتیجے میں میڈیا اسلام کے بارے میں دقیانوسی تصورات اور ایک منفی منظر کشی کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
بہت سی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دی جانے والی خبروں میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ زیادہ تر مسخ شدہ ہوتی ہے۔ یہ تحقیقات زیادہ تر امریکا، برطانیہ اور یورپی میڈیا کے بارے میں کی گئی ہیں۔ سلطان (2016) نے ایک تحقیق میں یہ بات نوٹ کی ہے کہ مغرب میں پایا جانے والا ایسا بے شمار مواد دستیاب ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حقائق کو مسخ شدہ انداز سے پیش کرکے اسلام کی منفی تصویر کشی کی گئی ہے۔ میڈیا نے جو نظریات اور خیالات اسلام سے منسوب کیے ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کاحصہ معلوم ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)