ٹرمپ سے گہری دوستی پر مودی پریشان

194

۔2016ء میں جس وقت ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی نامزدگی کے لیے جدوجہدکررہے تھے، بھارتی اپوزیشن کانگریس کی صدرسونیا گاندھی علاج کے سلسلے میں امریکا میں تھیں۔ واپسی پرجب وہ پارلیمان کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے آئیں، تو وقفے کے دوران مرکزی ہال میں کئی صحافی اورسیاستدان ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے اردگرد جمع تھے۔ مختلف موضوعات کے علاوہ امریکی سیاست بھی زیربحث تھی۔ چوں کہ وہ امریکاسے تازہ وارد ہوئی تھیں، اکثر افراد ان سے متوقع امیدواروں اور ان کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں استفسار کررہے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہاکہ بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کے نہ صرف ری پبلکن پارٹی کی نمایندگی حاصل کرنے کے قوی امکانات ہیں، بلکہ وہ امریکاکے آیندہ صدربھی ہوسکتے ہیں۔ محفل میں بس ایک قہقہہ بلندہوا۔ کسی نے لقمہ دیاکہ ٹرمپ اور مودی کی اچھی جوڑی جمے گی۔ بعد میں 4 سال کے عرصے میں ہیوسٹن میں ’’ہاوڈی مودی‘‘ اور پھر احمد آبادمیں ’’نمستے ٹرمپ‘‘ جیسی عوامی تقریبات کا انعقادکرکے، دونوں نے یہ ثابت کردیاکہ وہ سفارتی آداب وتعلقات کوکسی بھی حدتک ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔
ستمبر 2018ء میں جب دہلی میں بھارت امریکا وزرائے خارجہ و دفاع کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس ہورہی تھی، تو کئی صحافی امریکی وزیردفاع جم میٹس کی توجہ مبذول کرکے سوال کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ اسی دوران پیچھے سے ان کے وفد میں شامل ایک امریکی صحافی نے کہاکہ سوال پوچھنے کا فائدہ نہیں، کیوں کہ میٹس اس عہدے پر چند دن کے مہمان ہیں۔ شاید اسی شام جب امریکی وفدابھی دہلی کے ائرپورٹ پرجہازمیں سوارہورہاتھاکہ ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجوں کے انخلاکی مخالفت کرنے پرجم میٹس کے خلاف ٹویٹ داغااورچنددن بعدان سے استعفا لے لیا گیا۔ اپنے 4 سالہ دورحکومت میں میٹس، وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن، 3 قومی سلامتی مشیروں مائیکل فلن، ایچ آرمیک ماسٹر اور جان بولٹن کے علاوہ ٹرمپ نے503 افسران کومعطل کرکے یاان کودیگرکم رتبے والے عہدوں پرٹرانسفرکرکے بتادیاکہ وہ ہی حرف آخرہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اپنے پہلے چیف آف اسٹاف رینی پریبس کوتوانہوں نے چند ماہ ہی میں فارغ کردیا تھا۔ دفتری روایت وقواعدوضوابط کے مطابق چیف آف اسٹاف ہی کے ذریعے امریکی صدرسے ملاقات اور اوول آفس تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کاسربراہ ہونے کے ناتے وہ صدارتی مصروفیات کانہ صرف نگران ہوتاہے بلکہ ملاقاتوں کے لیے فائلیں صدرکوپیش کرنے سے قبل ان کوپڑھ کربریف بھی تیار رکھتا ہے۔ ایک بار جب ہوم لینڈ سیکرٹری ٹام بوسرٹ بغیرکسی پیشگی اجازت کے اوول آفس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کررہے تھے، تو پریبس نے کمرے میں داخل ہوکر، بوسرٹ کوخوب برابھلاکہااوران کوقواعد و ضوابط یاددلائے۔ شاید ان کوٹرمپ کے کام کرنے کے غیرروایتی طریقے کااندازہ نہیں تھا، یاوہ نئے صدرکودفتری ضوابط میں ڈھالنا چاہتے تھے۔ اگلے ہی دن اس پاداش میں ان کوبرخاست کردیاگیا۔
ٹرمپ کے دورحکومت کی خاص بات یہ تھی کہ پوری طاقت وائٹ ہاؤس ہی میں مرکوزہوگئی تھی۔ کسی بھی امریکی افسر میں یہ طاقت نہیں رہ گئی تھی،کہ وہ اپنے بل بوتے پرکوئی فیصلہ کر سکے۔ اس دوران تو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، سی آئی اے، پینٹاگون و دیگر ادارے ایک طرح سے عضومعطل بن کررہ گئے تھے۔
دنیاکے حکمران بھی جان گئے تھے کہ اپنے ملکوں میں امریکی سفیروں کی نازبرداری کرنے کے بجائے بس صدرٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کو شیشے میں اتارکرٹرمپ تک براہ راست رسائی حاصل کرکے ہی کام نکالے جاسکتے ہیں۔ کسی حدتک ٹرمپ کا یہ کہناصحیح ہے کہ ان کے خلاف امریکی میڈیاسمیت کئی طاقتوں نے مجتمع ہوکرمہم چلائی اوران کی ناکامی میں کردار اداکیا۔ ان کاواضح اشارہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف ہے، جو ان کے دورمیں مفلوج ہوکررہ گئی تھی۔ مگراس قدرسخت مخالفت کے باوجودٹرمپ نے70ملین ووٹ لے کریہ ثابت کردیاکہ امریکی سوسائٹی کس قدر بٹ چکی ہے، جس کے امریکی سیاست اور سماج میں خاصے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
اندازہ ہے کہ افغانستان، فلسطین، عرب۔اسرائیل تعلقات کے حوالے سے جوبائیڈن کی انتظامیہ ٹرمپ کی پالیسیوں کوبرقراررکھے گی، مگر حقوق انسانی کے حوالے سے امریکاسے اب کچھ زیادہ چیخ وپکارسنائی دی جائے گی۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں کوضم کرنے کے اقدامات پرامریکی حکومت کی پالیسی تبدیل ہوسکتی ہے۔ ابھی فی الحال بائیڈن کی ٹیم کی ترجیحات میں چین یعنی ایشیاپیسیفک، ماحولیات اور کورونا سے نمٹناشامل ہوگا۔ چونکہ بائیڈن کی عمرکے پیش نظران کی صحت کچھ زیادہ ٹھیک نہیں رہتی ہے،اس لیے نائب صدر کملا ہیرس اپنے پیش روؤں کے برعکس خاصی فعال نظر آئیں گی اور چونکہ انہوں نے کشمیرکی آئینی حیثیت کوتبدیل کرنے پرمودی کوآڑے ہاتھوں لیاتھا،اس لیے امیدہے کہ کم ازکم اس معاملے میں وہ بھارتی حکومت پر دباؤ بنائے رکھیں گی۔
گزشتہ برس اگست کے اقدامات کے بعد جب بھارت نے کشمیرمیں سخت پابندیاں عائد کی ہوئی تھیں، توکملاہیرس نے کہاتھا کہ ہمیں کشمیریوں کویہ یاددلاناہے کہ وہ اپنی اس جدوجہدمیں تنہانہیں ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاتھاکہ ہم حالات کامسلسل جائزہ لے رہے ہیں اوراگرحالات کا تقاضاہواتوہمیں مداخلت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ایک موقع پر انہوں نے بھارتی وزیرِخارجہ جے شنکرپر بھی براہ راست سخت تنقیدکی۔
امریکی کانگریس کی ایک اوربھارتی نژاد رُکن پرامیلاجے پال نے جب کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں امریکی ایوانِ نمایندگان میں ایک قرادادپیش کی تھی، توجے شنکر، جو اس وقت امریکا ہی میںتھے، نے امریکی کانگریس کی عمارت میں خارجہ امورکی کمیٹی کے کشمیرپرہونے والے اس اجلاس میں شرکت کرنے سے انکارکر دیا تھا، جس میں جے پال موجودہوں گی۔ کملاہیرس نے اس کی سخت مخالفت کی اورکہاکہ کسی بھی غیرملکی حکومت کوکانگریس کویہ بتانے کاحق نہیں ہے کہ اجلاس میں کون سے ارکان شریک ہوسکتے ہیں۔ کملاہیرس بھارت کے متنازع شہریت قانون پربھی تنقیدکرتی رہی ہیں۔ اس قانون کی وجہ سے بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک کیے جانے کے امکانات کے الزامات لگ رہے ہیں۔ گوکہ چین کے ساتھ نمٹنے کے لیے امریکاکوبھارت کی ضرورت پڑے گی، تاہم اگرحقوق انسانی کے حوالے سے امریکا بیجنگ پر انگلی اٹھاتا ہے توبھارت کوبھی اسی پلڑے میں رکھناپڑے گا۔ فی الحال بھارتی حکومت بائیڈن کے حالیہ بیانات سے سخت خائف توہے مگردیکھاگیاہے کہ ڈیموکریٹک حکومتوں کارویہ بھارت کے تئیں خاصانرم رہاہے۔
1975ء میں پہلے جوہری دھماکوں کے بعدجب امریکی کانگریس میں بھارت پراقتصادی پابندیاں لگانے کی قرارداد پیش ہوئی توبس ایک ووٹ سے مستردہوئی۔ وہ ایک ووٹ، جس نے بھارت کوپابندیوں سے بچایا، نئے سینیٹربائیڈن کا تھا۔ اسی طرح 2005ء میں صدرجارج بش اور وزیراعظم من موہن سنگھ نے جوہری معاہدے پردستخط تو کیے، مگر جوہری تکنیک کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کاحصہ نہ ہوتے ہوئے بھارت کوکسی بھی قسم کی رعایت دینے کی امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس نے خاصی مخالفت کی۔ اس وقت پھر بائیڈن ہی نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمان کو منوا کر 2008ء میں بھارت کوچھوٹ دلوانے کاقانون پاس کروالیا۔
اِن دنوں مودی سرکارنے جوبائیڈن کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک نیاڈراما رچایاہے تاکہ جوبائیڈن وائٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی خطے کی بگڑتی صورتحال پرمتوجہ ہوں اور جوبائیڈن کویقین دلایاجائے کہ اس خطے میں چین کاراستہ روکنے کے لیے صرف بھارت ہی کارآمداتحادی ہوسکتاہے جبکہ لداخ میں چین کے ہاتھ بری طرح رسوائی کے بعد امریکا کی نادیدہ قوتیں یہ سوچنے پرمجبورہوگئی ہیں کہ کہیں غلط گھوڑے پران کی ساری کوششیں ہی بیکارنہ چلی جائیں۔ مودی نے ایک مرتبہ پھرپاکستان کی طرف سے ممکنہ اسٹرائیک حملے کا پروپیگنڈا کرکے امریکاسمیت مغرب کی ہمدردیاںسمیٹنے کے لیے پاکستان کی جانب سے ائر اسٹرائیک کے خدشات کے پیش نظراپنی سرحدوں پر فضائی یونٹ قائم کرنے کافیصلہ کیا ہے۔
اب مکار نریندر مودی کو اس بات کے لالے پڑ چکے ہیں کہ اس نے پچھلے 4 برس میں ٹرمپ کے ساتھ جو رومانس بڑھایاتھا،کہیں امریکاکی نئی حکومت داغِ مفارقت نہ دے جائے اور امیدوں سے پہلے خواہشات کے چراغ نہ گل ہوجائیں جبکہ امریکاکی بے وفائی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکااپنے مفادات کے حصول کے بعدسب سے پہلے اپنے ہی دوستوں کواستعمال شدہ کراکری کی طرح کوڑے کے ڈھیرمیں پھینکنے میں لمحہ بھرکی تاخیرنہیں کرتا۔ اگرکسی کوکوئی شک ہوتوکھلی آنکھوں سے صرف پچھلی 6 دہائیوں کی امریکی تاریخ کا مطالعہ کرلے یا مشہورامریکی مصنف ’’باب ورڈذ‘‘ کی کتاب ’’اوبامازوار‘‘ کامطالعہ کرلیں جس کاہرصفحہ اس بات کی گواہی دے گاکہ امریکا اپنے مفاد کے لیے چارے کے طورپراپنے کارندوں کی قربانی دینے سے بھی گریزنہیں کرتا۔
نادیدہ قوتیں ہر ملک میں پردے کے پیچھے رہ کرکام کرتی ہیں اورامریکامیں ان قوتوں کے اس مکارانہ کھیل اورعالمی سیاست کے دائوپیچ پربھی وضاحت کی ہے۔ انہی قوتوں کے نمایندے ٹرمپ سے خلیجی اوردیگراسلامی ممالک سے اسرائیل کی قانونی حیثیت کومنوا کراسے تسلیم کروانامقصودتھا، جس کے لیے پہلے ہی دن سے ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈ کشنر کویہ مشن سونپا گیاجس نے سعودی ولی عہدکے ساتھ اپنی گہری دوستی کافائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پتھرسے کئی کامیاب شکار کیے۔ اس مشن میں پاکستان سے بھی اسرائیل کے وجود کو سفارتی لحاظ سے منوانا تھا، جس کے لیے بیک وقت خلیجی دوست ممالک کے دبائوکے ساتھ بھارتی دبائوبھی بڑھایا گیا لیکن یہاں اسے وہ پذیرائی نہ مل سکی، تاہم اب بھارت ان قوتوں کواس کام کے لیے اس پروگرام میں تبدیلی کااشارہ دیتے ہوئے اپنی خدمات پیش کررہاہے۔
بھارت اس وقت نیٹو پلس پانچ کے اتحادمیں چھٹے ملک کی حیثیت سے شرکت کاخواہاں ہے۔ اس اتحادمیں نیٹو ارکان کے علاوہ اسرائیل، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان شامل ہیں یعنی کوارڈکے بعدبھارت امریکاکی قیادت میں ایک اوراتحادکی رکنیت کا خواستگار ہے۔ اگر امریکا بھارت کواس اتحادمیں شامل کرواتا ہے، یاکچھ رعایات دلواتا ہے، تو بائیڈن انتظامیہ لازمی طور اس کے بدلے مودی حکومت کواقلیتوں کے تئیں اپنے رویے میں تبدیلی کرنے اورکشمیرکے حوالے سے کسی مثبت اورجوہری پیش رفت کرنے کامطالبہ کریں گے۔