میرے آئیڈیل میرے ابا جان – سعدیہ راشد

341

ہمیں پورا آئیڈیل کسی شخصیت میں مل جائے ایساکم ہی ہوتا ہے اسکے ٹکڑے ضرور لوگوں کی شخصیت میں بکھرے مل جاتے ہیں کبھی ایسی کوئی شخصیت بھی مل جاتی ہے جس کے وجود میں ہمارے آئیڈیل کے بیشتررنگ ،بیشتر ستارے ،زیادہ سے زیادہ نقوش چمک رہے ہوتے ہیں اور ہم غیر شعوری طور پر اسکی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں ۔میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے ایک شخصیت ایسی مل گئی جس میں میرے آئیڈیل کے سارے رنگ،سارے نقوش موجود تھے۔یہ ابا جان تھے ۔میرے آئیڈیل ۔وہ ایک مکمل شخصیت تھے۔

بیٹیاں یوں بھی باپ سے زیادہ قریب ہوتی ہیں ۔میں اپنی امی کے مقابلے میں ابا جان سے زیادہ قریب تھی ۔حالانکہ میں شروع سے ان سے بہت ڈرتی تھی لیکن سب سے زیادہ ان سے محبت کرتی تھی۔میں وہی ہونا چاہتی تھی جو وہ مجھے دیکھنا چاہتے تھے ۔مجھ سے یہ کسی نے نہیں کہا ۔میری امی نے بھی نہیں لیکن مجھے یہ احساس شدت سے رہتا تھا کہ میں کوئی بات ایسی نہ کروں جو ابا جان کے معیار عمل سے گری ہوئی ہو ۔میرے قول و عمل میں کو ئی پہلو ایسا نہ ہو کہ کوئی کہے یہ حکیم محمد سعید کی بیٹی ہیں مجھے ہر وقت یہ احساس رہتا تھا کہ ابا جان نے بڑی محنت ،بڑی قربانیوں سے اپنا ایک مقام بنایا ہے ایک نام پیدا کیا ہے ۔انکی نیک نامی پر کو ئی حرف نہ آئے ۔یہ احساس بچپن کے بالکل ابتدائی زمانے سے میری لاشعور میں جا گزیں تھا اور جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی یہ احساس شعوری طور پر بڑھتا گیا۔

ابا جان نے میری تربیت اس طرح کی کہ کبھی مجھے بٹھا کر یہ نہیں کہا کہ یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا ہے ۔تربیت کا انکا اپنا طریقہ تھا ۔وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں عمل کر کے دیکھایا کرتا ہوں ۔مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ۔انہوں نے خاموشی سے میری تربیت کی اور وہ تمام قدریں جو انہیں عزیز تھیں اپنے عمل سے بتا دیں ۔سچائی،دیانت داری ۔تواضع ،شائستگی ، رواداری ،اخلاق ،دین داری ۔انہوں نے مجھے سب سیکھا دیا۔ان کا انداز یہ تھا کہ بس اب ساتھ ہیں تو انسان سیکھتا جائے ۔ہم ساتھ رہتے تھے ۔میرا خیال ہے سونے کے بس چند گھنٹے ہی تھے جس میں ہم الگ ہوتے تھے ورنہ مستقل ساتھ رہتے تھے حتیٰ کہ جب کسی پروگرام میں جاتے تو ساتھ ہوتے ،کوئی ریسنپشن ہوتا ساتھ ہوتے ۔دفتر جا رہے ہیں تو ساتھ ہوتا۔دفتر کے معاملات پر بات ہوتی۔ وقت تو وہ اپنا کوئی ضائع نہیں کرتے تھے ،راستے میں ضروری کاغذات بھی دیکھتے جاتے ۔ہم ان کے حوالے سے بھی بات کرلیتے ۔گورنری کے زمانے میں بھی وہ ہماری تربیت کر تے رہتے تھے ۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہمیں کوئی غلط احساس ہو ۔ہم کسی کمپلکس میں مبتلا ہوں ۔ہم نے گورنر ہائوس تو پوری طرح دیکھا بھی نہیں ۔گورنر ہائوس کی گاڑی تو وہ خود بہت کم استعمال کرتے تھے ۔ایک مرتبہ جب وہ سندھ کے گورنر تھے ہم ہوائی جہاز میں سفر کر رہے تھے ۔جہاز کے عملے نے ہمیں اکونومی کلاس میں آگے کی دو سیٹیں جو فرسٹ کلاس کیبن کے فوراً بعد تھیں ،ہمیں دی تھیں ۔ائیر ہوسٹس نے جو فرسٹ کلاس میں میزبانی کر رہی تھی،دیکھا کہ گورنر صاحب بیٹھے ہیں تو اورنج جوس لے کر ہماری طرف آئی اور ابا جان کو پیش کیا۔انہوں نے نہیں لیا ۔انہوں نے ہاتھ نہیں بڑھایا تو میں نے بھی ہاتھ نہیں بڑھایا۔مجھے معلوم تھا کہ ابا جا ن نے جو س کیوں نہیں لیا ہے اور یہ وہ سمجھ رہے تھے لیکن اس کے باوجود جب ایئرہوسٹس چلی گئی تو انہوں نے مجھ سے کہا ،تمہیں پتا ہے میں نے جوس کیوں نہیں لیا؟ میں نے کہا ‘جی ہاں ۔یہ فرسٹ کلاس کے مسافروں کے لیے تھا ،کہنے لگے ،ہاں۔ ہم فرسٹ کلاس کے مسافر نہیں ہیں ۔اس پر تو ہمارا حق نہیں تھا ۔اس وقت بھی وہ چاہتے تھے کہ ہماری تربیت ہو اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ یہ ہمارا حق نہیں ہے ۔ورنہ کیا تھا،جوس وہ بھی پی لیتے ،میں بھی پی لیتی ۔

جب میں بہت چھوٹی تھی تو ابا جان سے بہت ڈرتی تھی ۔ہمیں بتایا جاتا تھا کہ ابا جان اتنا ضروری کام کر رہے ہیں کہ آواز بالکل نہیں نکلنی چاہیے۔ وہ گھر میں بیٹھے لکھ رہے ہوتے تھے تو گھر میں سب کو سانپ سونگھ جاتا ۔سانس تک کی آواز نہ آتی کیوں کہ ابا جا ن کام کر رہے ہیں ۔ہماری شروع ہی سے یہ ٹریننگ تھی کہ ابا جان گھر میں ہوں تو شور نہیں مچانا چاہیے ۔مجھے یاد ہے ایک دن میں صبح اسکول جانے کے لیے کپڑوں پر ضد کر رہی تھی ۔ابا جان صبح مریضوں کو دیکھنے مطب جایا کرتے تھے ۔وہ بیٹھے شاید کوئی جوس پی رہے تھے۔میں امی جان سے مسلسل ضد کر رہی تھی کہ میں یہ فراک آج نہیں پہنوں گی۔ ان دنوں اسکول میں کوئی یونیفارم تو تھا نہیں ۔میرے ضد کرنے پر ابا جان کو بہت غصہ آیا۔کافی دیر تو انہوں نے برداشت کیا ۔پھر ایک تھپڑ میری پیٹھ پر مارا۔ اوہو،میں تو ان سے پہلے ہی بہت ڈرتی تھی ۔اس وقت تو اتنا ڈری کہ بتا نہیں سکتی ۔میرا خیال ہے وہ دن اور آج کادن میں نے کپڑے پر کبھی ضد نہیں کی۔ جیسا بھی ملا پہن لیا۔کبھی یہ نہیں سوچاکہ یہ میچنگ ہے یا میچنگ نہیں ۔بس وہ ایک تھپڑ کافی تھا۔

ابا جان میری تعلیم کی طرف سے بے فکر تھے ۔اُسکی ذ مہ داری میرے ماموں جان (حکیم محمد یحییٰ )نے سنبھالی تھی۔وہ یہ تھی کہ ان کا مشن تو چلتا رہا ۔شروع میں ہمدرد کو بنانے میں لگے رہے ،پھر مدینۃ الحکمہ بنانے میں لگ گئے ۔ان کا مشن ان سے پورا وقت مانگتا تھا۔

میں چود ہ سال کی تھی کہ ابا جان نے مجھے پارٹیز میں لے جانا شروع کر دیا ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پہلی پارٹی جس میں وہ مجھے اپنے ساتھ لے گئے چینی سفارت خانے میں تھی ۔چینی سفار خانہ ان دنوں ہمارے گھر کے قریب تھا ۔ابا جان کے ساتھ پہلی بار میں 1963 ء میں ملک سے باہر گئی ۔ہم چین گئے ۔ہندستان تو ہم شروع میں برابر جاتے رہتے تھے ۔ اکثر گرمیوں کی چھٹیاں بڑے ابا حکیم عبدالحمید صاحب کے ساتھ دہلی اور نینی تال میں گزارتے ۔بعد میں بڑے ابا بھی کراچی آنے لگے۔

ابا جان اپنے بڑے بھائی سے بہت محبت کرتے تھے بہت احترام کرتے تھے ۔نہ جانے وہ انہیں چھوڑ کر کیسے چلے آئے ۔کہیں انہوں نے ضرور لکھا ہوگا یہ پاکستان کا جذبہ تھا اور مسلم لیگ سے ان کی وابستگی جس نے انہیں پاکستان چلے آنے پر مجبور کردیا ۔انہیں اپنے بھائی سے بہت محبت تھی اور انہیں چھوڑ کر آنا ان کے لیے یقینا ایک کٹھن کام تھا ۔میں سمجھتی ہوں یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی ۔اللہ کو ان سے اچھے کام کرانے تھے۔انہوں نے دل و جان سے پاکستان کی خدمت کی لوگوں کو بھلائی کے لیے کام کیا ۔

ابا جان کو یوں تو اپنی بہنوں حمیدی بیگم اور محمودی بیگم دونوں سے محبت تھی ۔دونوں ان سے بڑی تھیں لیکن وہ محمودی بیگم کو زیادہ چاہتے تھے ۔وہ انہیں پیار سے موٹا کہتے تھے ۔وہ ابا جان سے آٹھ سال بڑی تھیںاور ابا جان چھوٹے سے تھے تو انہیں گود میں لیے پھرتی تھیں ۔پھو پی جان ابا جان سے بہت محبت کرتی تھیں ۔ان کا دستور تھا کہ وہ عید سے دو تین دن پہلے ہمارے ہاں آ جایا کرتی تھیں اور عید کے دو تین دن بعد اپنے گھر واپس جایا کرتی تھیں۔ وہ حکیم یٰسین صاحب کی والدہ تھیں ۔وہ اب اس دنیا میں نہیں ۔ابا جان کی شہادت سے کچھ ہی عرصہ پہلے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔پھوپی اماں کو اللہ سلامت رکھے ہمارے درمیان ہیں ۔وہ ابا جان کے پاس ہی رہتی تھیں انکی کوئی اولاد نہیں ہے۔کبھی انہیں اس کا خیال آتا تو میری امی ان سے کہتیں ’’سعدیہ آپ کی بھی بیٹی ہے۔‘‘

حکیم عبدالحمید اور حکیم محمد سعید کی قدریں ایک تھیں ان کی سوچ ،خدمت کا جذبہ عام لوگوں کی بھالئی ذاتی خوبیاں ایک تھیں البتہ شخصیتیں مختلف تھیں کام کرنے کا انداز مختلف تھا ۔بڑے اباخاموش طبع تھے ابا جان اپنے خیالات کا بھر پور اظہار کرتے تھے لیکن یہ بعد کے زمانے کی بات ہے ۔شروع میں ابا جان زیادہ نہیں بولتے تھے ۔بہت سی باتوں کا پتا ہی نہیں چلتا تھا ۔یوں بھی وہ اپنے اندرونی خیالات اپنے تک ہی رکھتے تھے ۔جیساکہ عموماً لوگ گھرمیں بیٹھ کر کچھ اپنی ،کچھ دوسروں کی باتیں کرتے ہیں ویسا نہیں ہوتا تھا ۔اس قسم کی باتوں کیلئے ان کے پاس وقت نہیں تھا ۔اکثر کھانے پر ا س طرح کی باتیں ہوجاتی ہین لیکن ہمارے ہاں تو کھانے پر بولنے کی اجازت نہیں تھی۔خاموشی سے کھانا کھانا ہوتا تھا ۔اگر گودا بھی کھانا ہوتا تھا تو سٹرپ کی آواز نہیں آنی چاہیے ۔گودے والی ہڈی الگ رکھ لی جاتی تھی کہ ابا جان چلے جائیں گے تو شغل ہوگا۔

ہر اتوار کو البتہ شروع میں ابا جان کے کچھ دوست جمع ہو جایا کرتے تھے لیکن گنے چنے لوگ تھے ۔شام کے وقت ہمارے گھر ایک محفل ہوتی تھی مغرب کے وقت یہ لوگ آجاتے تھے اور رات کا کھانا کھاتے تھے ۔اس محفل میں مختلف موضوعات پر حالات حاضرہ پر آپس میں باتیں ہوتی تھیں ۔اس محفل میں آنے والوں میںایک مولانا ظہیر الحسن تھے عزیز کارٹونسٹ تھے ایک مرزا فرخ بیگ تھے جو ہمارے قریب ہی رہتے تھے ۔ماموں جان ہوتے تھے ،بس یہی پانچ چھے افراد تھے۔

ابا جان کے دو قریبی دوست تھے ۔ایک مسرت حسین زبیری اور دوسرے کموڈور آصف علوی-عبداللہ بنگالی اور محمد علی رنگون والا بھی ابا جان کے ابتدائی دوستو ں میں سے تھے ان دونوں سے ابا جان کی بڑی قربت تھی ۔ایڈ آرٹس کے عبدالغفور صاحب سے بھی ابا جان کی بہت دوستی تھی ۔وہ ہمارے ہاں آتے تھے اور کبھی وہ آتے اور مجھے کوئی انگریزی میں مضمون لکھنا ہوتا تو میں ان سے مدد لے لیا کرتی تھی۔میران محمد شاہ بھی ابا جان کے بہت قریب تھے۔ مجھے یاد ہے وہ ہمارے ہاں آیا کرتے تھے ۔ابا جان ان کابڑا خیال رکھتے تھے ۔وہ جب ہمارے ہاں آکر ٹھہرنے لگے تو ابا جان نے ان کے آرام کی خاطرگھر میں بہت سی تبدیلیاں کرائیں ۔میران محمد شاہ کا ایک پرانا ملازم تھا ۔اس کا نام عرب تھا ۔وہ بھی ان کے ساتھ آتا تھا۔

ڈاکٹر سید برکات احمد اور سید یوسف حسین نقوی بھی ابا جان کے بہت قریبی دوست تھے۔برکات احمد صاحب سے ان کی دوستی دہلی کے زمانے سے تھی ۔برکات احمد صاحب ہندستان کی فارن سروس میں تھے اور زیادہ تر باہر رہتے تھے ۔ابا جان 1956 ء میں جب ترکی گئے تو برکات احمد صاحب ہی کے ہاں ٹھہرے تھے ۔بڑے ابا بھی ساتھ تھے ۔برکات احمدصاحب وطن آتے جاتے کراچی میں ضرور ٹھہرتے ۔ان کاقیام ہمارے ہاں ہی ہوتا ۔ان کی بیگم اور بچے بھی ساتھ ہوتے ۔ابا جان ان کا بہت خیال رکھتے تھے ۔ان کے بچے بھی ابا جان سے بہت محبت کرتے تھے۔برجیس ان کی بیٹی ہیں ۔نیو یارک میں رہتی ہیں ۔ابا جان وہاں جاتے توسب کام چھوڑ کر ان کے ساتھ رہتیں۔

سید یوسف حسین نقوی صاحب کا قیام لندن میں تھا۔ایک زمانے میں جب ابا جان لندن جا کر وہاں مطب کرتے تھے تو اس کا سارا نتظام نقوی صاحب ہی کرتے تھے ۔ان کے بیٹے بھی اباجان کا بہت خیال رکھتے تھے ۔محمد شعیب صاحب سے بھی جو صدر ایوب کے دور میں پاکستان کے وزیر خزانہ تھے اور بعد میں ورلڈ بنک میں چلے گئے تھے اباجان کی بہت دوستی تھی ۔ جمشید نسرونجی مہتہ اور حاجی عبداللہ بنگالی اباجان کے ایسے دوستوں میں تھے جنہوں نے ان کی ہر طرح مددکی۔

ابا جان کے دوسرے دوستوں میں جی الانا،ادریس احمد مینائی اور ڈاکٹر سلی الزمان صدیقی بھی شامل تھے اور اکثر ہمارے ہاں آیا کرتے تھے ۔ابا جان نے جرمنی ،ترکی، کویت ،سعودی عرب،اور لبنان میں بھی بہت دوست بنائے۔

اپنی شہادت سے ایک ماہ پہلے وہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے ایک ذیلی ادارے کی کانفرنس میں شرکت کیلئے ترکی گئے تھے جہاں ان دوستوں سے ان کی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

امریکا میں بھی ابا جان نے بہت دوست بنائے تھے وہاں کے علمی حلقوں میں ابا جان کا بہت احترام تھا ۔واشنگٹن میں ڈاکٹر وی کے شاہ ابا جان کے معالج سے زیادہ دوست ہو گئے تھے ۔ان کا پورا گھرانا ابا جا ن کا کرویدہ تھا ۔

(باقی صفحہ7بقیہ نمبر01)

ابا جان بھی ان کا بڑا خیال کرتے تھے اور ہمیشہ احسان مندی کے جذبے سے ان کا ذکر کرتے تھے ۔

ابا جان کے بہت سے غیر ملکی دوست جن میں جرمنی کے ڈاکٹر ہان ہولز قابل ذکر ہین کراچی آکر ابا جان کے مہمان رہ چکے ہیں۔

گھر کے معاملات میں اب اجان کے کچھ اصول تھے اور وہ ان پر سختی سے کار بند رہتے تھے

اور ہم سے بھی یہی چاہتے تھے ۔ان کو اس کا بہت خیال رہتا تھا کہ ملازموں کے اوقات کار مقرر ہونے چاہیں ۔یہ نہیں کہ ملازم ہے تو سارا دن کا م کر رہا ہے ۔اس کو آرام نہیں۔رات کو دیر تک ہمارے ہاں کبھی کام نہیں ہوا ۔ان کاحکم تھا کہ نو ساڑھے نو بجے ملازم کو رخصت ہو جانا چاہیے اور اسی طرح ڈیڑھ دو بجے جب وہ مطب سے آئیں تو ملازم گھر میں نظر نہ آئے ۔کبھی ایسا ہوتا تھا کہ کام ختم نہیں ہوا ہے اور اباجان کے آنے کا وقت ہو گیا ہے تو ملازم کو کچھ میں بند کر دیا جاتا تھا ۔وہ ہماری والدہ سے کہتے تھے کہ ملازموں کا ایک دن چھٹی کا مقرر کر دو۔ورنہ وہ ایک دن خود تم سے اس کا مطالبہ کر یں گے۔ابا جان اسے بالکل پسند نہیں کرتے تھے کہ ملازم ہے تو وہ صبح سے شام تک کولھو کے بیل کی طرح لگا ہے ۔کچھ آرام کا بھی وقت ہونا چاہیے ۔وہ وقت کے بڑے پابند تھے اور چاہتے تھے کہ گھر میں بھی وقت کی پابندی ہو۔

وقت کی پابندی کا یہ عالم تھا کہ جس وقت ابا جان نے کہہ دیا کہ فلاں کام فلاں وقت ہوگا تو وہ کام اسی وقت ہوتا تھا۔میری شادی کے موقع پر فوٹو گرافر آیا اور کہنے لگا کہ پورٹریٹ بنانی ہے ۔مجھے تیاری میں دیر ہوگئی تھی میں نے کہا کہ میں پورٹریٹ نہیں بنوائوں گی دیر ہو جائے گی ۔ہماری تمام سہیلیاں کہہ رہی تھیں کہ پورٹریٹ بنے گی ۔لیکن میں نے منع کر دیا کیوں کہ اباجان نے جو وقت اسٹیج پر پہنچنے کا مقرر کر دیا تھا اس وقت وہاں پہنچنا ضروری ہے ۔دیر کا سوال ہی نہیں ہے ۔

ہماری شادی پر دہلی سے قاضی سجاد حسین صاحب آگئے تھے ۔وہ ابا جان کے استاد تھے ۔امی جان کی تو ان کے آنے سے گویا عید ہوگئی کہ اب ساری خریداری ان کی معرفت ہو جائے گی ۔ابا جان ان سے کہتے مولانا صاحب آپ سنبھال لیجئے۔ابا جان شروع میں خود خریداری کیلئے جاتے تھے ۔ایک دو دفعہ مجھے جوتے پہنانے انگلش بوٹ ہائوس لے گئے ۔وہاں ان کا حساب تھا ۔ابا جان پیسوں سے ڈیل نہیں کر سکتے تھے ۔خریداری کرتے تھے ۔بل آجا تا تھا ۔ادائیگی کر دی جاتی تھی ۔جلال دین میں بھی ایسا ہی تھا ۔ابا جان دکانوں پر جاتے تھے ۔لوگ انہیں پہنچان جاتے تھے اور ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ابا جان کہتے تھے کہ میرے دکانوں پر جانے سے دکان داروں کو تکلیف ہوتی ہے اور گاہکوں کو بھی ۔پھر وہ شاپنگ کیلئے کم ہی جانے لگے۔

شادی کے معاملے میں ابا جان رسم و رواج کے قائل نہ تھے ۔وہ زیادہ خرچ کے بھی قائل نہ تھے ۔شادی میںکھانے کے خلاف تھے ۔میری شادی پر شام کو چائے کا انتظام تھا ۔میرا خیال ہے کئی ہزار مہمان بلائے گئے تھے ۔بہت اچھا انتظام تھا ۔اباجان چاہتے تھے کہ میں دیکھوں کہ کیسے انتظامات ہو رہے ہیں ۔وہ کہتے سعدیہ !تم دیکھ رہی ہو جو انتظامات ہو رہے ہیں جب میں دلہن بنی بیٹھی تھی تو اس وقت بھی اسٹیج پر آکر مجھ سے کہنے لگے۔ذرا اُٹھ کر دیکھو تو کیسا انتظام ہے ۔میں سوچنے لگی کہ میں دلہن بنی بیٹھی ہوں ۔میں کیسے اُٹھ کر دیکھ لوں کہ کیسا انتظام ہے ۔دراصل وہ چاہتے تھے کہ میں دیکھ لوں میری شادی کا انتظام انہوں نے کیسا کیا ہے ۔مطمئن ہو جائوں ،خوش ہو جائوں۔

ہماری بڑی بیٹی پیدا ہوئی تو اباجان اسلام آباد میں تھے وہ مطب کے لیے آئے ہوئے تھے ۔شعبان کی چودہ تاریخ تھی۔وہ بہت خوش تھے۔پورے چاند کو دیکھ کر انہوں نے بچی کا نام ماہ نیم ماہ رکھا۔پھر انہوں نے بچی کو قرآن پاک اور ایک قم دیا۔یہ میرے پاس اب بھی رکھا ہے ۔قرآن پاک سونے کے ایک چھوٹے سے کیس میں رکھا تھا ۔کہتے تھے دیکھو میں نے اسے کتاب اور قلم دیا ہے ۔میری دوسری بیٹی آمنہ بھی اسلام آباد میں پیدا ہوئیں لیکن ابا جان اس موقع پر وہاں موجود نہ تھے ۔میری والدہ تھیں ۔

آمنہ کی پیدائش کے بعد ہم نے بہت سفر کیے ۔ابا جان کے ساتھ سفر کا آغاز بھی اسی زمانے میں ہوا۔ہوتا یہ تھا کہ ہم بڑی بچی کو دادی کے پاس چھوڑ دیتے تھے اور آمنہ کو نانی کے پاس ۔لوگ کہتے تھے تمہارا بڑا اچھا ارینجمنٹ ہے ۔ایک کو دادی کے پاس چھوڑ دیا اور دوسری کو نانی کے پاس اور چلی گئیں۔اس طرح میں نے ابا جان کے ساتھ کافی سفر کیے۔اس ارینجمنٹ کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ ماہ نیم ماہ اپنے داد ا دادی سے زیادہ مانوس ہوگئیں اور آمنہ نانانانی سے ۔

بچیوں کی پیدائش تک تو ابا جان اتنا بدل گئے تھے کہ تینوں بچیاں ان کے دفتر میں جا کر شور مچا سکتی تھیں ،انہیں ڈسٹرب کر سکتی تھیں ۔وہ یہ سب برداشت کر لیتے تھے ۔ہم تو یہ کبھی نہیں کر سکتے تھے ۔ابا جان اپنے کام میں اتنے منہمک ہوتے تھے کہ انہیں پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ انکے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔

جب دونوں بچیاں بڑی ہو گئیں تو ابا جان نے چاہا کہ میں اب ہمدر دجوائن کر لوں مگر میں کچھ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں تھی۔اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔بچیاں اسکول جانے لگی تھیں ،والدہ حیات تھیں ۔میں ان کے پاس ہی رہ رہی تھی مگر میں اس کو ٹالتی رہی ۔ابا جان کہتے رہے اور میں ٹالتی رہی۔پھر ایک دن ابا جان نے کہا :

If you watn to have stake in Hamdard you have to start working for it ,Madam is about to go and this is the time you should join.

پھر اس وقت میں نے فیصلہ کیا ۔اس وقت تک ہماری تیسری بیٹی بھی پیدا ہو چکی تھی ۔میں نے ہمدرد جوائن کر لیا ۔پہلے تو اسی کمرے میں جہاں سب کی میزیں رکھی تھیں میں بھی ایک میز پر آکر بیٹھ گئی ۔اسوقت ابا جان کی کتاب Medicine in Chinaکا دوسرا ایڈیشن چھپنے جا رہا تھا ۔اس کے پروف ہمیں دے دیے گئے کہ ان کو پڑھو۔پھر میڈیم ڈی سلوا جب کنیڈا چلی گئیں تو ان کی ذمہ داریاں بھی مجھے سوپ دی گئیں ۔خط وکتابت اور دوسرا کام جو وہ کرتی تھیں ۔

ابا جان کے خیالات کو عملی شکل دینے میں میڈم للی ڈی سلوا کا بڑ ارول ہے ۔وہ ابا جان کی سیکریٹری کی حیثیت سے ہمدر دمیں آئیں اور پھر ہمدردکی ہو کر رہ گئیں ۔مجھے ان کا آنا یاد ہے ۔ابا جان کے دوست عبدالغفور صاحب ان کو لے کر آئے تھے ۔وہ دبلی پتلی خوب صورت سی لڑکی تھیں ۔انہوں نے ہمدر دکی دل و جان سے خدمت کی ۔ہمدرد کی ثقافتی اور علمی سرگرمیوں کو آرگنائز کرنے مین ان کااہم کردار رہا ہے ۔

ان میں انتظامی صلاحیتیں بہت ہیں اور ایسے وقت میں جب ابا جان کی اس میدان میں مصروفیات بڑھتی جا رہی تھیں انہوںنے ان صلاحیتوں سے کام لے کر ابا جان کی بہت مددکی ۔بہت کام انہوں نے سنبھال لیا تھا ۔

ہمدرد لیباریٹریز کی تعمیر و ترقی میں ڈاکٹر حافظ محمد الیاس کا بڑا کردار ہے ۔وہ ماموں جان کے چھوٹے بھا ئی تھے اور ان کے انتقال کے بعد انہوں نے ابا جان کی خواہش پر ہمدرد (وقف)لیبارٹریز کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں ۔

دفتر میں ابا جان ایک ڈسپلن قائم رکھتے تھے ۔میں پہلے دن آئی تو انہیں مخاطب کرتے ہوئے میری منہ سے ’’ابا جان ‘‘نکل گیا ۔عادت تو ابا جان کہنے کی پڑی ہوئی تھی ۔انہوںنے فورا مجھے ٹوک دیا ۔In Office, I am not Abba jan میرے لیے اتنا ہی جملہ کافی تھا ۔اس کے بعد تو چیئر مین صاحب اور حکیم صاحب کہنے کی ایسی عادت پڑی کہ گھر میں بھی یہی کہنے لگی ۔میں ان کو دیکھتی تھی کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور وہی کرتی تھی ۔میرا جی نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھے کچھ کہیں ۔ساری دنیا مجھے کچھ کہہ لے ،مجھے پرواہ نہیں تھی لیکن میں یہ نہیں چاہتی تھی کہ اباجان مجھے کچھ کہیں ۔کوئی با ت ایسی نہ ہو جو انہیں ناگوار ہو۔شروع میں ابا جان کا غصہ بہت تیز تھا۔سب ان سے ڈرتے تھے کہ وہ ناراض نہ ہوں ۔لیکن برہمی میں وہ ڈانتے دپٹتے نہیں تھے ۔میں نے دفتر میں انہیں کبھی چلاتے نہیں دیکھا ۔غصے میں ان کا چہرہ سرخ ہو جاتا اور وہ خاموش ہو جاتے ۔جب وہ خاموش ہو جاتے تو سب خاموش ہو جاتے لیکن یہ صحیح نہ تھا ۔میڈیم ڈی سلوا ان کے مزاج کو سمجھ گئی تھیں ،وہ بولتی رہتی تھیں ۔بولتے رہنے سے اباجان کا غصہ جلدی اتر جاتا تھا ۔آہستہ آہستہ اباجان کا غصہ کم ہوتا گیااور آخر مین تو وہ بہٹ نرم ہوگئے تھے ۔میڈیم کہتی تھیں :He was a tiger now he is a pussy cat. ابا جان کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے رفقائے کار سے مشور ضرور کرتے تھے ۔وہ شوریٰ بینھم کے قائل تھے۔جو لوگ ان کے اعتماد تھے وہ ان سب کی رائے سنتے ،غور کرتے اور پھر فیصلہ کرتے۔ ایک دفعہ فیصلہ کر لیتے تو بس اس پرقائم رہتے ۔اپنے مشن کی کامیابی کے لیے انہیں بڑی محنت کرنا پڑی۔ایک طرف ہمدرد کی تعمیر و ترقی ،دوسری طرف طب یونانی کا جیسے ابا جان کہتے تھے کہ یہ طب اسلامی ہے ،دنیا میں نام روشن کرنا اور اسے تسلیم کرانا اور پھر علم کے میدان میں انکی پیش قدمیاں ۔یہ سب بڑے کام تھے ۔ان میں بڑی جانفشانیاں تھیں ۔ان معاملوں میں جب انہیں کوئی فکر لاحق ہوتی وہ عموماً خاموش ہو جاتے ۔زیادہ تر اپنے اوپر ہی جھیل لیتے ۔ابتدا میں کسی سے ذکر نہ کرتے لیکن اب بعد میں وہ کہنے لگے تھے ۔آخر دنوں میں تو انہوں نے مجھے سے کہا کہ مجھے اب اپنی نیند کا ایک گھنٹہ اور کم کرنا پڑے گا ۔میں نے کہا یہ آپ کیسے کریں گے ۔چار گھنٹے تو آپ سوتے ہیں ۔تین گھنٹے سو کر آپ فنکشن کس طرح کریں گے۔وہ کہنے لگے نہیں مجھے کام بہت ہے ۔مجھے اپنی نیند کا ایک گھنٹہ کم کرنا پڑے گا۔

میں اب محسوس کرتی ہوں کہ ابا جان کو جلدی کیوں تھی ۔وہ مشن کو پورا کرنا چاہتے تھے ۔جو پودے انہوںنے لگائے تھے انہیں بار آور دیکھنے کے لیے بے چین تھے ۔وہ اور بہت کچھ کرنا چاہتے تھے ۔اپنی سوچ کو انہوں نے اپنے تک محدود نہیں رکھا ۔بر ملا اظہار کردیا ۔وہ اپنی زندگی کے ہر ہر لمحے کو اپنے خیالات اپنے احساسات سب ریکارڈ کر گئے ہیں ۔انکی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو چھپا رہ گیا ۔وہ ایک کھلی کتاب کی مانند تھے جسے انہوں نے لوگوں کے سامنے رکھ دیا تھا لو پڑھ لو،جان لو ،پرکھ لو۔

ابا جان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی ۔انہوں نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی ۔ہمیشہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کی ۔جن لوگوں نے انہیں نقصان پہنچانا چاہا ان کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالیں ان کے لیے در پردر مشکلات پیدا کیں ابا جان نے ان کے ساتھ بھی بھلائی کی ۔ان سے شکوہ تک نہ کیا۔میری سمجھ میں نہیں آتا ایسے اجلے ایسے بھلے نیک نفس انسان پر کیسے گولیاں چلائی گئیں جو دوسروں کے لیے جیتا تھا اسی کی زندگی کا چراغ گل کر دیا اسی روشنی کو بجھا دیا جو نجانے کتنے گھروں کی روشنی کا سامان کیے ہوئے تھی ۔ابا جان شہید ہیں ۔وہ کہا کرتے تھے خدمت کرنے والے امر ہو جاتے ہیں ۔وہ امر ہوگئے ہیں ۔