سندھ میں فرضی نہیں حقیقی تعلیمی ایمرجنسی لگانے کامطالبہ

69

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ کے سرکاری اسکولوں کی نمائندہ تنظیم گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن ( گسٹا مہیسر ) سندھ نے صوبے میں فرضی نہیں بلکہ حقیقی تعلیمی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں37ہزار نئی بھرتیاں مستقبل بنیادوں پر کی جائیں ، تعلیم کے بجٹ میں100فیصد اضافہ کیا جائے ،جدید نصاب کے پیش نظر اساتذ ہ کی تربیت کیلیے ادارے قائم کیے جائیں ،سندھ میں جہاں بھی سرکاری اسکولز بند پڑے ہیںانہیں فوری طور پرفعال کیا جائے۔ اسکولوں کی خستہ حالی کو دور اور اساتذہ کی کمی پوری کی جائے،ایس او پیز کے تحت سندھ بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کو فی الفور کھولا جائے ۔ گورنمنٹ سکینڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن ( گسٹا مہیسر ) سندھ کے تحت تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر گزشتہ روز تعلیمی سیمینار مقامی ہوٹل میں منعقد کیا گیا۔ مقصود محمود مہیسر نے کہا کہ گسٹا صرف اساتذہ کے حقوق کی جنگ لڑنے کی تنظیم نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں کے حقوق اور تعلیم و تربیت کرنیوالی تنظیم بھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گسٹا مہیسر نے اپنے پلیٹ فارم سے محکمہ تعلیم میں نئی بھرتیوں کے خواہشمند امیدواروں کو ٹیسٹ کی تیاری کرانے کیلیے ورکشاپ منعقد کرانے کا منصوبہ بنایا ہے‘ اس حوالے سے تنظیم میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔