آٹھ سو20میگاواٹ، مہمند ڈیم کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری

251

اسلام آباد: 820 میگا واٹ بجلی کی پیداوار کی صلاحیت کے حامل مہمند ڈیم کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے اور یہ منصوبہ خیبر پختونخوا کی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے جس کی تکمیل سے علاقے میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

تفصیلات کےمطابق  پشاور شہر سے 48 کلومیٹر کا فاصلے پر دریائے سوات پر کنکریٹ کی مدد سے تعمیر کیے جانے والے مہمند ڈیم کی اونچائی 213 میٹر ہوگی اور منصوبے کے تحت اس سے آٹھ سو20 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔

مہمند ڈیم کی تکمیل 5سال سے 7 سال میں متوقع ہے اورمہمند ایجنسی میں دریائے سوات پر یہ میگا پروجیکٹ مہمند ڈیم کی تعمیر کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جبکہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ایک اعشاریہ 2 ملین ایکڑ فٹ ہوگی اور 820 میگا واٹ بجلی پیدا ہوسکے گی۔

دوسری جانب پشاور، چار سدہ اور نوشہرہ کے علاقوں میں سیلاب کی روک تھام کے ساتھ ساتھ کے پی کے صوبائی دارالحکومت کو روزانہ 300 ملین گیلن پینے کا پانی فراہم کرے گی جبکہ دن کے ساتھ رات کے اوقات میں بھی سائٹ پر کام جاری ہے۔

خیال رہے واپڈا مقامی لوگوں کے لیے پراجیکٹ ایریا میں تعلیم ، صحت اور دیگر سہولیات پر 4 ارب سے زائد رقم خرچ کرے گا جبکہ مہمند ڈیم منصوبہ ساخت کے اعتبار سے پانچواں بڑا سی ایف آر ڈی ڈیم ہے۔

واضح رہے مہمند ڈیم کی تعمیر سے یومیہ 8 سو میگا واٹ اور سالانہ 28 سو 62 گیگا واٹ بجلی پیدا ہوگی اور اس پر 3 ارب ڈالر لاگت آئے گی اور اس کی تعمیر سال 2024 میں مکمل ہوگی جبکہ مہند ڈیم میں 12 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی اور اس آبی ذخیرے سے 16 ہزار 737 ایکڑ رقبہ سیراب کیا جاسکے گا۔

ڈیم کی تعمیر سے سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی اور یہ ترقیاتی منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ صوبہ خیبرپختونخوا کیلئے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس منصوبے کی تکمیل سے ملکی اقتصادیات مستحکم ہوگی اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں سماجی اور اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

یاد رہے اس منصوبے سے 3 سینٹ فی یونٹ بجلی حاصل کی جائیگی جبکہ ابھی پاکستان میں اوسط بجلی کی لاگت 8 سینٹ ہے اور اس منصوبے سے علاقے میں معاشی سرگرمیاں بھی تیز ہونگی اور پاکستان کا تیل کا درآمدی بل بھی کم ہوجائیگا۔