ملیشیا: انناس کے پتے ڈرون کے پارٹس میں استعمال

275

ملائیشین محققین نے ضائع انناس کے پتوں کا استعمال ڈرون کے پارٹس میں کرنے کا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے۔

ملائیشیا کی پوترا یونیورسٹی میں پروفیسر محمد طارق حمید سلطان کی سربراہی میں کوالالمپور سے تقریبا km 65 کلومیٹر کے فاصلے پر علاقے ہولو لانگاٹ میں انناس کے قابلِ ضیاع چھلکوں اور پتوں کو ڈرونز میں استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ہم انناس کے پتے کو ایک ریشہ میں تبدیل کر رہے ہیں جو ایرو اسپیس ایپلیکیشن کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

طارق نے کہا کہ بائیو مرکب مادے سے بنا ڈرون کا وزن مصنوعی ریشوں سے بنے ہوئے ڈرونز کے پارٹس سے زیادہ سستا ، ہلکا اور تصرف میں لانا آسان ہوتا ہے۔