اربوں روپے خرچ ہونے کا باوجود نیشنل اسٹیڈیم کراچی زبوں حالی کا شکار

248

کراچی (سید وزیر علی قادری) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) اربوں روپے کا بجٹ رکھتی ہے ۔ اس سلسلے میں وہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں آمدنی اور اخراجات کے بعد منافع کو بھی ظاہر کرتی ہے لیکن سابق چئیرمین نجم سیٹھی کے دور میں پاکستان کے مختلف اسٹیڈیمز کی تعمیر نو اور تزین و آرائش کے سلسلے میں اربوں روپے مختص کیے گئے تھے۔ خیبر پختونخوا میں ارباب نیاز اسٹیڈیم جس پر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کے چھٹے سیزن کے کچھ میچز کے انعقاد کی نوید سنائی گئی تھی وہ بھی گزشتہ سال کے آخر میں دم توڑ گئی۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں لطیف آباد پر بنے ٹھنڈی سڑک کے کنارے کرکٹ اسٹیڈیم بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے لیے ڈیڑ ھ ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی تھی اور عسکری تعمیراتی ادارے کی بھی خدمات حاصل کی گئی تھیں اور اس کے علاوہ مختلف کاموں کے لیے نجی اداروں کو بھی ٹھیکے دیے گئے تھے مگر گزشتہ سال پویلین کی چھت کا حصہ گرنے کی خبریں گردش میں رہیں اور اب قائد اعظم ٹرافی کے میچز کے دوران جس کا فائنل کھیلا جارہا ہے اور آج منگل کو آخری روز ہے تیسری منزل کی چھت کا پلاسٹر اکھڑ گیا جہاں میڈیا سینٹر قائم ہے۔ یہ ہی نہیں پی ایس ایل کا چھٹا سیزن آئندہ ماہ شیڈول ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا اور اس سلسلے میں میڈیا رپورٹس کے شائع ہونے کے باجود نہ ہی اس پر توجہ دی جارہی ہے اور نہ ہی اربوں روپے خرچ ہونے کے بعد بھی کوئی آڈٹ رپورٹ سامنے آئی ہے جس سے تعمیراتی ادارے کو اس کا ذمہ دار ٹہرایا جائے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کیونکہ حساس ادارے کے زیلی ادارے کویہ کام سونپا گیا تھا اس لیے سخت لہجے میں جواب طلب نہیں کیا جاسکتا اور اس سلسلے میں پی سی بی حکام نے چپ سادھ رکھی ہے ۔ واضح رہے کہ سابق چیف آپریٹنگ آفسیر (سی او او )سبحان احمد بھی استعفی دے کر امارات کرکٹ بورڈ کے کرتا دھرتا بن گئے ہیں اور وہ یو اے ای میں موجود ہیں۔پی سی بی چئیرمین احسان مانی کی بھی عہدے کی مدت قریب قریب اختتام کو پہنچ چکی ہے اور وہ مزید اپنی خدمات پیش کرنے سے معذرت کرچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر سے کئی افسران کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں متعدد مرتبہ دورہ کرانے کا ریکارڈ موجود ہے جس میں کوالٹی کنٹرول کے ذمہ داران بھی آتے رہے اور صرف اسی مد میں کروڑوں روپے کھپادیے گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ایس ایل اور دیگر غیر ملکی ٹیموں کی پاکستان آمد سے قبل نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی تعمیر ، تزین و آرائش کا کام پایہ تکمیل تک پہنچ سکے گا یا نہیں ۔