وہاڑی میں معلم کے تشدد سے مدرسے کا طالب علم ہلاک

206

ملتان: پنجاب کے ضلع وہاڑی کے ایک دیہی علاقے میں مدرسے کے معلم کے مبینہ تشدد سے 6 سالہ طالب علم مبشر ہلاک ہوگیا ہے جبکہ  پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد صورتحال واضح ہو گی۔

پولیس کے مطابق پولیس سٹیشن ٹھینگی میں بچے کے والد کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے جس پر کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جبکہ  ایس ایچ او ٹھینگی پولیس اسٹیشن مرزا حسنین عباس کا کہنا ہے کہ سبق نہ یاد ہونے پر بچے کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث ان کی موت واقع ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او مرزا حسنین عباس کےمطابق بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں تاہم پوسٹ مارٹم کے بعد صورتحال واضح ہو گی جبکہ نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا ہے جس کے بعد ایف آئی آر درج کی جائے گی اور ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے ایس ایچ او مرزا حسنین عباس کے مطابق اس سے قبل مدرسے میں طلبا پر تشدد کے واقعات کے حوالے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔

مقتول کے والد محمد یاسین کا کہنا تھا  کہ میرے 2 بیٹے گزشتہ 4 ماہ سے مدرسے میں زیر تعلیم تھے، 8 سالہ محمد شہزاد اور 6 سالہ محمد مبشر ناظرہ کی تعلیم کے لیے مدرسے جاتے تھے لیکن سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے میں نے پچھلے چند ماہ سے دونوں بیٹوں کو مدرسے میں ہی مقیم تھے۔

محمد یاسین کے مطابق مدرسے کا معلم پہلے بھی تشدد کرتا تھا اور میں نے پہلے بھی ان کو کہا تھا کہ بچوں کو مارا نہ کریں پڑھائی سے بھاگ جائیں گے اور  معلم کی یقین دہانی کے بعد ہی میں نے10 دن پہلے بچوں کو مدرسے میں چھوڑا تھا اور اپنے  نمبر معلم کو دیے اور کہا کہ کسی مسئلہ کی صورت میں مجھے اطلاع دیں۔

محمد یاسین کا کہنا تھا کہ مجھے صورتحال کا اس وقت پتہ چلا جب میرے چھ سالہ بیٹے کی لاش گھر پر لائی گئی جبکہ  اس مدرسے میں 50 سے 60 طلبا زیر تعلیم ہیں۔

محمد یاسین  کا کہنا تھا کہ شام کو مدرسے کے چند طالب علم چارپائی پر چھ سالہ مبشر کی لاش میرے گھر لے کر آئے، میرے بڑے بیٹے کے سامنے قاری عمران یعقوب نے تشدد کیا اور مبشر کو زمین پر پٹخ دیا جس کی وجہ سے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ چل بسا۔

مقتول کے چچا محمد جمشید کا کہنا تھا کہ بچے پر تشدد کے بعد جب حالت بگڑی تو ایک مقامی  ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے  جہاں ڈاکٹر نے کہا کہ بچے کی حالت تشویشناک ہے اسے فورا ہسپتال لے جائیں لیکن بچہ راستے میں ہی دم توڑ گیا تھا جبکہ بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح ہیں۔

پولیس کا کہنا ہےکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائے گی اور کاروائی مزید عمل میں لائی جائے گی۔