سرسوں کا ساگ اور اس کے فوائد

634

پنجاب کی اصل پہچان سرسوں کے ساگ اور مکئی کی روٹی سے بہتر اور کوئی نہیں، اس سوغات میں ذائقہ، غذائیت اور رنگ کی بہتات ہے بالکل پنجاب کے لوگوں کی طرح، جو کہ سردیوں اور بہار کی سوغات ہے۔

سردیوں کے موسم میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی، پسند کی جانے والی اور باآسانی دستیاب ہو جانے والی سبزی ‘ساگ’ کے ان گنت فوائد ہیں، سرسوں کا ساگ، رائی کے پودے کے پتوں سے بنایا جاتا ہے اور اسی پودے سے ہمیں چٹخارے دار رائی حاصل ہوتا ہے جبکہ پاکستان اور انڈیا میں اگنے والے دیسی سرسوں کے پتے ہموار بناوٹ کے ہوتے ہیں البتہ  ایک اور قسم کی سرسوں کے پتے مڑے تڑے خمدار ہوتے ہیں اور ان کا ذائقہ بھی مٹی جیسا ہوتا ہے۔

ساگ گوشت کے ہمراہ پکا کر مکئی اور باجرے کی روٹی کے ساتھ بھی کھایا جاتا ہے اور یہ انتہائی لذیذ اور مقوی غذا ہے جبکہ ماہرین نے سرسوں کے ساگ، مکئی کی روٹی اور مکھن کو ایک عمدہ غذا قرار دیا ہے۔

سرسوں کے ساگ کے استعمال کے مندرجہ فوائد ہیں ۔:۔

قدرت نے انسان کو صحت و تندرستی عطا فرما کر اس پر احسان عظیم فرمایا۔انسان کیلئے ہر موسم کے مطابق انواع واقسام کی غذائیں تندرستی کو قائم رکھنے اور بھوک مٹانے کیلئے انعامات کی صورت میں خطہ ارض کو لبریز کر دیا۔

سردی میں یوں تو خشک میوہ جات و کشمیری چائے خوب پسند کی جاتی ہے اورموسم سرما کی سبزیوں میں پالک، میتھی، گوبھی، مٹر، آلو، گاجر، مولی شلجم اور سوہانجنا شامل ہیں جنہیں اس موسم کے پسندیدہ کھانوں میں خاص طور پر فوقیت حاصل ہے اور ہر گلشن کے دسترخوان کی زینت و دلوں کی تسکین گردانا جاتا ہے، وہاں سرسوں کا ساگ، دیسی ساگ اور میتھی اپنی افادیت کے حساب سے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

صحت مند اور جگمگاتی جلد

سرسوں کا ساگ وٹامن اے، بی، سی، ای اور کے سے بھرپور ہوتا ہے، وٹامن اے، سی اور کےجسم میں جاکر اینٹی آکسائیڈنٹس کا روپ اختیار کرکے فری ریڈیکلز سے لڑتے ہیں اور زہریلے اثرات کو دوران خون سے خارج کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں جھریاں ، کیل مہاسے، فائن لائن اور ڈارک اسپاٹس ختم یا کم ہوجاتے ہیں۔

دل کو صحت مند رکھے

سرسوں کا ساگ نائٹریٹ اور میگنیشم سے بھرپورہوتا ہے ، اس میں فیٹی ایسڈز کے ساتھ فائیتوکیمیکلز بھی موجود ہوتے ہیں اور یہ سب عناصر دل کی اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ مناسب مقدار میں نائٹریٹ کا استعمال خون اور ٹشوز میں نائٹریٹ اور نائٹرک آکسائیڈ کی موجودگی کو یقینی بناتا ہے۔

اسی طرح میگنیشم فشار خون کو کنٹرول کرتا ہے جس کی وجہ خون کی شریانوں کا پھیلنا ہوتا ہے، اسی طرح دیگر اجزا جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزا کے اثرات کی روک تھام کرکے دل کو صحت مند رکھتا ہے۔

بینائی کیلئے فائدہ مند

ساگ میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جیسے لیوٹین اور ذےَشَنطِن بینائی کے لیے ضروری ہوتے ہیں، یہ عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے امراض جیسے بینائی کی تنزلی اور موتیا وغیرہ کی روک تھام کرتے ہیں۔

کولیسٹرول اور جگر کیلئے فائدہ مند

ہائی بلڈ کولیسٹرول میٹابولک ڈس آرڈر کی ایک بڑی وجہ ہے، ہمارا جگر مسلسل کام کرکے بائل یا صفرا کو تیار کرتا ہے جو کہ چربی اور مخصوص وٹامنز کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے، مگر تکسیدی اور کیمیائی تناؤ کے نتیجے میں جگر ورم کا شکار ہوتا ہے جس سے مختلف امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

سرسوں کا ساگ اس حوالے سے فائدہ مند ہے جو کہ صفرا سے بہتر تعلق بناکر کولیسٹرول کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ساگ کے پتوں کو اُبال کر غذا میں شامل کرنا بلڈکولیسٹرول کو کم جبکہ جگر کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

یاداشت بہتر بنائے

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ یاداشت کمزور ہونے لگتی ہے ، طبیماہرین کا کہنا ہے کہ سبز پتوں والی سبزیاں دماغی صحت کے لیے فائدہ مندہوتی ہیں، سرسوں کا ساگ بھی ان میں سے ایک ہے، جس کے ابلے ہوئے پتوں کا ایک کپ روزانہ کھانا یاداشت کو بہتر بناتا ہے بلکہ ذہنی عمر بھی کم کرتا ہے۔ اس ساگ میں موجود آئرن اور کیلشیئم بچوں میں دماغی نشوونما کو بھی بہتر کرتے ہیں۔

قبض سے نجات

ساگ میں موجود فائبر اور فولیٹ آنتوں کی سرگرمی بہتر کتا ہے، کچھ مقدار میں سرسوں کا ساگ کھانے سے جسم کو 3 گرام فائبر ملتا ہے جو قبض سے نجات دلاتا ہے، یہ فائبر آنتوں میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے بھی قبض کی روک تھام ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کی مسلسل تحقیق کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ساگ یرقان، مالیخولیا، پتھری اور گرمی کے بخار کو دور کرنے کیلئے بہت مفید ہے۔کیلشیم کا انسانی جسم میں بنیادی کردار ہڈیوں کو مضبوط کرنا ہے یہ ساگ میں پایا جاتا ہے جو ناصرف بچوں اور بڑوں کیلئے کارآمد ہے بلکہ اس کی افادیت سے ہر عمر کے افراد بھرپور فوائد حاصل کر سکتے ہیں معاشرہ میں بسنے والے بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں خون کی کمی کا عارضہ لاحق ہوتا ہے اور وہ اپنے فرائض درست طور پر ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں ایسے افراد اگر ساگ کا استعمال شروع کر دیں تو وہ اس طرح خون کی کمی کو بہتر طور پر پورا کرسکتے ہیں یا ایسی خواتین جو بچے کی پیدائش کے بعد خون کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں ان کیلئے بھی یہ بے حد مفید ہے۔

گذشتہ ادوار میں خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں بسنے والے افراد مکئی کی روٹی کے ساتھ ساگ اور مکھن کا استعمال کرتے جس سے ان کا جسم چاک وچوبند رہتا تھا  جبکہ بعض گھرانوں میں ساگ کے کھانے کے بعد دیسی گھی اور شکر کے استعمال کو لازم قرار دیا جاتا جسے طاقت کا سرچشمہ سمجھاجاتا ہے۔

اس کی ایک اہم افادیت یہ بھی ہے کہ یہ ہاضمے کے علاوہ خون کو صاف کر نے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کیلئے بھی نہایت مفید ہے جبکہ  اس میں کوئی شک نہیں کہ ساگ قدرت کی عطا کردہ نعمتوں میں بھرپور طاقتور غذا ہے چنانچہ اس کا استعمال ضرور کرنا چاہیے تاکہ صحت اچھی ہو اور تمام وٹامنز جو انسانی جسم کیلئے بے حد کارآمد ہیں اس سے حاصل کئے جا سکیں۔