افغانستان کی ایران کو ڈالر اسمگلنگ، بینک آف افغانستان کے گورنر کا انکشاف

443

افغانستان کے سنٹرل بینک کے گورنر نے اعتراف کیا ہے کہ سیکڑوں امریکی ڈالر افغان سرحد عبور کرکے ایران منتقل ہوتے ہیں۔

ایک حیرت انگیز انکشاف میں جنگ سے متاثرہ ملک افغانستان کی اعلی ترین بینکاری اتھارٹی کے مرکزی بینک آف افغانستان کے گورنر خلیل صدیق نے اعتراف کیا کہ لاکھوں ڈالرز ایران اسمگل کیے جارہے ہیں جسے فی الحال امریکی پابندیوں کا شدید سامنا ہے۔

خلیل صدیق جنھوں نے حال ہی میں استعفیٰ دیا ہے نے کہا کہ ٹرکوں ، ٹیکسیوں اور یہاں تک کہ پیدل سفر کرنے والے افراد کے ذریعہ بھی ایران کو ڈالر اسمگل کیا جارہا ہے۔

افغانستان کے مرکزی بینک کے ترجمان ایمل ہاشور نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ کرنسی کی اسمگلنگ ایرانی سرحدوں پر ہوتی ہے تاہم محاذوں پر جو کچھ ہورہا ہے اس پر ان کا بہت کم کنٹرول ہے۔ کیونکہ ہمارے پاس انٹلیجنس یا جاسوس نہیں ہیں کہ آپ کو تصدیق شدہ رپورٹ دوں یا انکار کروں کہ کون سا ملک ہے یا کتنا پیسہ ہے؟ تاہم سرحدی قوانین کے مطابق بیرون ملک سفر کرنے والے افغانیوں کو تقریبا $10،000 ڈالر لے جانے کی اجازت ہے۔

اکثر افغان تارکین وطن اور مہاجرین ملک میں بڑھتے ہوئے تنازعہ سے بچنے کے لئے افغان سرحد عبور کرکے ایران جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران پر جوہری ہتھیاروں اور دیگر امور سے متعلق امریکی پابندیاں ہیں جبکہ امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیدن کو بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

دوسری جانب طالبان اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ ہوچکا ہے جس میں خطے سے امریکی افواج کا انخلاء بھی شامل ہے تاہم طالبان اور افغان حکومت کے مابین امن معاہدہ اب تک انجام پذیر نہیں ہوپایا ہے جس کے نتیجے میں ملک میں انتشار کی فضا بدستور قائم ہے۔